جاپانی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ

مظاہرین جوہری بجلی کی پیداوار بند کرنے کا مطالبہ کررہے تھے

ٹوکیو:جاپانی شہری جنوبی کوریا کے صدر کی آمد کے خلاف احتجاجی مارچ کررہے ہیں۔ فوٹو: آن لائن

ٹوکیو میں جاپانی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر گزشتہ روز ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ گزشتہ سال پیش آنیوالے فوکو شیما ایٹمی بحران کے بعد جوہری بجلی کی پیداوار بند کردی جائے یہ احتجاجی ریلی جو حالیہ مہینوں میں ہفتہ وار واقعہ بن گئی ہے وزیراعظم یوشی ہائی کونوڈا کی جوہری توانائی مخالف مظاہرین سے پہلی مرتبہ دو بدو ملاقات کے دو روز بعد منعقد کی گئی۔


تحریک کے قریبا دو درجن نمایندوں نے نوڈا سے کہا تھا کہ وہ دو ری ایکٹر چالو کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں انھوں نے ان سے مطالبہ کیا کہ جوہری بجلی کی پیداوار کو یکسر ختم کردیا جائے نوڈا نے دو ایٹمی ری ایکٹر بند کرنے سے متعلق ان کا مطالبہ مسترد کردیا یہ دونوں ری ایکٹر بجلی کی بڑھتی ہوئی قلت کے پیش نظر اس موسم گرما میںدوبارہ چالو کیے گئے ہیں نوڈا نے اپنی حکومت کے اس منصوبے کا اعادہ کیا کہ ایٹمی بجلی پر ملکی انحصار کم کرنے کے لیے نئی توانائی پالیسی اپنائی جائے گی کسی وقت ایٹمی بجلی پر ملکی انحصار بجلی کی ضروریات کا ایک تہائی تھا۔

مارچ 2011ء میں آنیوالے 9درجے کے زلزلے اور اس کے نتیجے میں ہولناک سونامی کی وجہ سے جاپان نے اپنے پچاس ایٹمی ری ایکٹربند کردیے تھے اس سونامی کی وجہ سے فوکو شیما میں ڈائی چی پلانٹ کو شدید نقصان پہنچا اور وہ پگھل گیا ایٹمی تابکاری اثرات بہت بڑے علاقے پر پھیل گئے یہ ایک نسل میں بدترین ایٹمی سانحہ تھا۔
Load Next Story