سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا دردناک فیصلہ
پاکستان نے چاروں ملزمان کی بریت پر بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔
پاکستان نے چاروں ملزمان کی بریت پر بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ فوٹو: فائل
بھارت کی خصوصی نیشنل انویسٹی گیشن عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم سوامی آسیم آنند سمیت چار ملزمان کو مبینہ عدم ثبوت کی بنا پربری کر دیا ہے۔ پاکستان نے عدالتی فیصلے پر شدید احتجاج کیا ہے۔
پاکستان نے چاروں ملزمان کی بریت پر بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور احتجاجی مراسلہ دیا ۔ یہ احتجاجی مراسلہ در حقیقت دہشتگردی کی نذر ہونے والوں کی روحوں کا وہ مرثیہ تھا جو بھارتی حکومت کو دیا گیا، توقع یہی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف جو موقف نیوزی لینڈ اور ان کی جرات مند وزیراعظم نے اختیارکیا، اسی طرز کا انصاف مودی سرکار کی عدلیہ سوختہ جانوں کے غمگیں لواحقین ساتھ کرے گی مگر افسوس، سمجھوتہ ایکسپریس کی آگ میں جلنے والوں کے لواحقین ناانصافی کی سیکولرآگ میں جل گئے۔
سمجھوتہ ایکسپریس کا سانحہ 18 فروری2007کا دل دہلادینے والا المیہ تھا جس کے متاثرہ خاندانوں کو اپنے پیاروں کی سوختہ لاشوں کے علاوہ بھارتی عدالت سے انصاف بھی نہیں ملا۔
ماہرین قانون کے مطابق خصوصی عدالت نے جو محفوظ فیصلہ سنایا اس کی بازگشت ہمیشہ بھارتی تاریخ میں متنازعہ حیثیت کے ساتھ سنائی دیتی رہے گی علاوہ ازیں سمجھوتہ ایکسپریس سے متعلق عدالتی فیصلہ اس امر کی علامت بھی ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے سیکولر بھارت میں ادارہ جاتی بحران نے عدلیہ سے اس کی جرات انصاف بھی چھین لی ہے، یہ فیصلہ آزاد عدلیہ کے نام پر ایک دھبہ ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ سانحہ کے 11 سال بعد ملزمان کی بریت انصاف کے ساتھ مذاق ہے اس فیصلے سے بھارتی عدالتی نظام کی قلعی کھل گئی ہے۔
دفترخارجہ کے مطابق پاکستان سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں عدم پیش رفت کا معاملہ بارہا اٹھاتا رہا ہے اور سینئر بھارتی حکام سے ہارٹ آف ایشیا اجلاس میں بھی اس معاملہ پر بات کی گئی تھی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارتی عدالت کے یک طرفہ فیصلے کے بعد 42 پاکستانی شہداء کے اہل خاندان کو کیا جواب دیا جائے؟ یہ بھارت کا انتہائی اقدام ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 11 مارچ کو محفوظ کیا اور 18 مارچ کو سنایا جانا تھا۔
لیکن پاکستانی خاتون راحیلہ جس کے والد اس حادثے میں شہید ہوگئے تھے نے بھارتی عدالت میں اپنی گواہی کی درخواست جمع کرائی تھی جس پر عدالت کو فیصلہ ملتوی کرنا پڑا ۔ اگلی سماعت پر پاکستانی خاتون راحیلہ کی درخواست کے جواب میں بھارتی حکام نے یہ اعتراض اٹھایا کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کے پاکستانی عینی شاہدین کو عدالت میں حاضر ہونے کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن کو سمن جاری کیے گئے تھے تاہم مناسب جواب نہیں دیا گیا۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکے کے الزام میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سوامی آسیم آنند، سنیل جوشی، لوکیش شرما، سندیپ ڈانگے، رام چندرا کالاسنگرا، رجیندر چوہدری اور کمل چوہان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔مذکورہ سات ملزموں میں سے دھماکے کے ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی کو 2007 میں قتل کردیا گیا تھا جب کہ رام چندرا اور سندیپ ڈانگے تاحال مفرور تھے۔ دیگر چار گرفتار ملزموں میں سے مرکزی ملزم سوامی آسیم آنند پہلے ہی ضمانت پر رہا ہو چکا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس پر 18 فروری 2007پر دھماکا خیز مواد سے حملہ کیا گیا تھا۔ حملے میں 68 مسافر مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر پاکستانی تھے۔ دہشتگردی کی آگ میں کوئی جلے اس کی شناخت انسانیت کے حوالے سے کی جائے گی، اس سانحہ کے مقتولین زیادہ تر پاکستانی مسافر تھے، بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ شعلہ ابھی بجھا نہیں۔
رپورٹ میں ایک خاندان کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ فیصل آباد کے علاقے نیومراد کا رہائشی شوکت علی فروری میں میں ایک شادی میں شرکت کے بعد اپنی بیوی رخسانہ اور پانچ بچوں کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس پر پاکستان واپس آرہے تھے کہ پانی پت کے علاقہ دیوانہ کے قریب ریل گاری میں دھماکے ہوئے، پھر آگ بھڑک اٹھی جس میں شوکت علی کے پانچ بچے درجنوں دوسرے افراد کے ساتھ زندہ جل گئے۔شوکت علی اور ان کی بیوی رخسانہ نے اپنی ایک دودھ پیتی بچی اقصیٰ کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس سے کود کر جان بچائی۔
سمجھوتہ ایکسپریس کا المیہ بھارتی انتظامیہ کی مصلحت پسندی، پولیس کی شرمناک کوتاہی ،استغاثہ کی چالبازی،گواہوں پر دباؤ، ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی کے قتل ، عدالتی پروسس کی بلاجواز طوالت اور واقعات و شواہد کے ہیر پھیر کا گورکھ دھندہ ثابت ہوا، سانحہ کے بعد بھارتی میڈیا نے حسب عادت سارا الزام پاکستان پر لگادیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے مظلوم سوختہ مسافروں کے غمزدہ لواحقین کے دکھ کا مداوا کون کریگا؟
پاکستان نے چاروں ملزمان کی بریت پر بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور احتجاجی مراسلہ دیا ۔ یہ احتجاجی مراسلہ در حقیقت دہشتگردی کی نذر ہونے والوں کی روحوں کا وہ مرثیہ تھا جو بھارتی حکومت کو دیا گیا، توقع یہی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف جو موقف نیوزی لینڈ اور ان کی جرات مند وزیراعظم نے اختیارکیا، اسی طرز کا انصاف مودی سرکار کی عدلیہ سوختہ جانوں کے غمگیں لواحقین ساتھ کرے گی مگر افسوس، سمجھوتہ ایکسپریس کی آگ میں جلنے والوں کے لواحقین ناانصافی کی سیکولرآگ میں جل گئے۔
سمجھوتہ ایکسپریس کا سانحہ 18 فروری2007کا دل دہلادینے والا المیہ تھا جس کے متاثرہ خاندانوں کو اپنے پیاروں کی سوختہ لاشوں کے علاوہ بھارتی عدالت سے انصاف بھی نہیں ملا۔
ماہرین قانون کے مطابق خصوصی عدالت نے جو محفوظ فیصلہ سنایا اس کی بازگشت ہمیشہ بھارتی تاریخ میں متنازعہ حیثیت کے ساتھ سنائی دیتی رہے گی علاوہ ازیں سمجھوتہ ایکسپریس سے متعلق عدالتی فیصلہ اس امر کی علامت بھی ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے سیکولر بھارت میں ادارہ جاتی بحران نے عدلیہ سے اس کی جرات انصاف بھی چھین لی ہے، یہ فیصلہ آزاد عدلیہ کے نام پر ایک دھبہ ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ سانحہ کے 11 سال بعد ملزمان کی بریت انصاف کے ساتھ مذاق ہے اس فیصلے سے بھارتی عدالتی نظام کی قلعی کھل گئی ہے۔
دفترخارجہ کے مطابق پاکستان سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں عدم پیش رفت کا معاملہ بارہا اٹھاتا رہا ہے اور سینئر بھارتی حکام سے ہارٹ آف ایشیا اجلاس میں بھی اس معاملہ پر بات کی گئی تھی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارتی عدالت کے یک طرفہ فیصلے کے بعد 42 پاکستانی شہداء کے اہل خاندان کو کیا جواب دیا جائے؟ یہ بھارت کا انتہائی اقدام ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 11 مارچ کو محفوظ کیا اور 18 مارچ کو سنایا جانا تھا۔
لیکن پاکستانی خاتون راحیلہ جس کے والد اس حادثے میں شہید ہوگئے تھے نے بھارتی عدالت میں اپنی گواہی کی درخواست جمع کرائی تھی جس پر عدالت کو فیصلہ ملتوی کرنا پڑا ۔ اگلی سماعت پر پاکستانی خاتون راحیلہ کی درخواست کے جواب میں بھارتی حکام نے یہ اعتراض اٹھایا کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کے پاکستانی عینی شاہدین کو عدالت میں حاضر ہونے کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن کو سمن جاری کیے گئے تھے تاہم مناسب جواب نہیں دیا گیا۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکے کے الزام میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سوامی آسیم آنند، سنیل جوشی، لوکیش شرما، سندیپ ڈانگے، رام چندرا کالاسنگرا، رجیندر چوہدری اور کمل چوہان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔مذکورہ سات ملزموں میں سے دھماکے کے ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی کو 2007 میں قتل کردیا گیا تھا جب کہ رام چندرا اور سندیپ ڈانگے تاحال مفرور تھے۔ دیگر چار گرفتار ملزموں میں سے مرکزی ملزم سوامی آسیم آنند پہلے ہی ضمانت پر رہا ہو چکا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس پر 18 فروری 2007پر دھماکا خیز مواد سے حملہ کیا گیا تھا۔ حملے میں 68 مسافر مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر پاکستانی تھے۔ دہشتگردی کی آگ میں کوئی جلے اس کی شناخت انسانیت کے حوالے سے کی جائے گی، اس سانحہ کے مقتولین زیادہ تر پاکستانی مسافر تھے، بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ شعلہ ابھی بجھا نہیں۔
رپورٹ میں ایک خاندان کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ فیصل آباد کے علاقے نیومراد کا رہائشی شوکت علی فروری میں میں ایک شادی میں شرکت کے بعد اپنی بیوی رخسانہ اور پانچ بچوں کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس پر پاکستان واپس آرہے تھے کہ پانی پت کے علاقہ دیوانہ کے قریب ریل گاری میں دھماکے ہوئے، پھر آگ بھڑک اٹھی جس میں شوکت علی کے پانچ بچے درجنوں دوسرے افراد کے ساتھ زندہ جل گئے۔شوکت علی اور ان کی بیوی رخسانہ نے اپنی ایک دودھ پیتی بچی اقصیٰ کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس سے کود کر جان بچائی۔
سمجھوتہ ایکسپریس کا المیہ بھارتی انتظامیہ کی مصلحت پسندی، پولیس کی شرمناک کوتاہی ،استغاثہ کی چالبازی،گواہوں پر دباؤ، ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی کے قتل ، عدالتی پروسس کی بلاجواز طوالت اور واقعات و شواہد کے ہیر پھیر کا گورکھ دھندہ ثابت ہوا، سانحہ کے بعد بھارتی میڈیا نے حسب عادت سارا الزام پاکستان پر لگادیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے مظلوم سوختہ مسافروں کے غمزدہ لواحقین کے دکھ کا مداوا کون کریگا؟