کراچی عمارت میں آتشزدگی کی تحقیقات کی جائے
آتشزدگی کے اس واقعے نے گزشتہ کئی برسوں میں ہونے والے حادثات کی یاد تازہ کردی۔
آتشزدگی کے اس واقعے نے گزشتہ کئی برسوں میں ہونے والے حادثات کی یاد تازہ کردی۔ فوٹو : سوشل میڈیا
کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں جمعرات کو 12 منزلہ عمارت کی چوتھی منزل پر آگ لگنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ شہر میں ہونے والے آتشزدگی کے اس واقعے نے گزشتہ کئی برسوں میں ہونے والے حادثات کی یاد تازہ کردی جس میں نہ صرف عمارات کے ریگولرائز ڈیزائن کا خیال نہیں رکھا گیا بلکہ پیشگی حفاظتی اقدامات اور ناگہانی کی صورت میں بچاؤ کے ہنگامی راستوں کی تعمیر بھی نہیں کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق عمارت میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے 4 فائر ٹینڈر اور 2 اسنارکل موقع پر پہنچیں، پانی سے بھرے متعدد ٹینکرز فوری آتشزدگی کے مقام پر روانہ کیے گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق متعدد افراد جان بچانے کے لیے عمارت کی چھت سے رسی کے ذریعے نیچے اترے جبکہ پولیس نے 2 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں افراد عمارت سے چھلانگ لگانے کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔ حادثہ کا شکار ہونے والی 12 منزلہ عمارت کمرشل ہے ۔ ایسے میں عمارت کی تعمیر میں رولز اینڈ ریگولیشن کا خیال رکھنا لازم تھا۔
لیکن ہر حادثے کے بعد نوٹ کیا گیا ہے کہ وقتی طور پر دکھاوے کے لیے تو سرکاری سطح پر خوب بیان بازی کی جاتی ہے لیکن کوئی صائب اقدام نہیں اٹھایا جاتا جس کے باعث ہر کچھ عرصے بعد اسی قبیل کا ایک اور واقعہ ظہور پذیر ہوجاتا ہے اور عوامی سطح پر ملامت کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اگر ہر حادثے کے بعد سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی تو نئی بلڈنگز کی تعمیر میں خامیوں کی درستی کا خیال رکھا جاتا۔
آخر مذکورہ عمارت کے کمرشل ہونے کے باوجود تکنیکی خامیوں کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا۔ ان معاملات میں رشوت ستانی کے معاملات بھی خوب گرم ہیں جس کے باعث ڈیزائن میں خامی کے باوجود نقشہ پاس کردیا جاتا ہے۔ اس پراجیکٹ کی منظوری دینے والے افسروں کا احتساب ہونا چاہیے، نیز متعلقہ افسروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔
شہر قائد میں اب بھی لاتعداد ایسی بلڈنگز موجود ہیں جن کی تعمیر میں سیفٹی رولز کا خیال نہیں رکھا گیا۔ صائب ہوگا کہ کسی حادثے سے قبل جاگا جائے اور شہر کی عمارتوں کا سروے کرکے سیفٹی رولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔۔
اطلاعات کے مطابق عمارت میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے 4 فائر ٹینڈر اور 2 اسنارکل موقع پر پہنچیں، پانی سے بھرے متعدد ٹینکرز فوری آتشزدگی کے مقام پر روانہ کیے گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق متعدد افراد جان بچانے کے لیے عمارت کی چھت سے رسی کے ذریعے نیچے اترے جبکہ پولیس نے 2 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں افراد عمارت سے چھلانگ لگانے کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔ حادثہ کا شکار ہونے والی 12 منزلہ عمارت کمرشل ہے ۔ ایسے میں عمارت کی تعمیر میں رولز اینڈ ریگولیشن کا خیال رکھنا لازم تھا۔
لیکن ہر حادثے کے بعد نوٹ کیا گیا ہے کہ وقتی طور پر دکھاوے کے لیے تو سرکاری سطح پر خوب بیان بازی کی جاتی ہے لیکن کوئی صائب اقدام نہیں اٹھایا جاتا جس کے باعث ہر کچھ عرصے بعد اسی قبیل کا ایک اور واقعہ ظہور پذیر ہوجاتا ہے اور عوامی سطح پر ملامت کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اگر ہر حادثے کے بعد سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی تو نئی بلڈنگز کی تعمیر میں خامیوں کی درستی کا خیال رکھا جاتا۔
آخر مذکورہ عمارت کے کمرشل ہونے کے باوجود تکنیکی خامیوں کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا۔ ان معاملات میں رشوت ستانی کے معاملات بھی خوب گرم ہیں جس کے باعث ڈیزائن میں خامی کے باوجود نقشہ پاس کردیا جاتا ہے۔ اس پراجیکٹ کی منظوری دینے والے افسروں کا احتساب ہونا چاہیے، نیز متعلقہ افسروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔
شہر قائد میں اب بھی لاتعداد ایسی بلڈنگز موجود ہیں جن کی تعمیر میں سیفٹی رولز کا خیال نہیں رکھا گیا۔ صائب ہوگا کہ کسی حادثے سے قبل جاگا جائے اور شہر کی عمارتوں کا سروے کرکے سیفٹی رولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔۔