وزیراعظم کی عدالت پیشی پرصلاح مشورے

بہرحال یہ حکومت کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے بھی تدبر کا امتحان ہے کہ وہ اس صورتحال سے کس طرح نکلتے ہیں۔

بہرحال یہ حکومت کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے بھی تدبر کا امتحان ہے کہ وہ اس صورتحال سے کس طرح نکلتے ہیں۔ فوٹو: پی آئی ڈی

بالآخر وہ دن قریب آ گیا ہے جس روز سپریم کورٹ نے سربراہ حکومت راجہ پرویز اشرف کو این آر او عملدرآمد کیس میں توہین عدالت کے الزام میں عدالت میں طلب کر رکھا ہے' اسی وجہ سے حکومتی ایوانوں میں صلاح مشوروں اور تجاویز کا سلسلہ عروج کو پہنچ گیا ہے۔ جمعے کی رات بھی ایوان صدر میں پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، مخدوم امین فہیم، نذر محمد گوندل، رانا فاروق سعید، قمر زمان کائرہ، رحمان ملک، منظور وٹو، فاروق نائیک، مخدوم شہاب الدین، چوہدری احمد مختار، سردار علی خان، فرحت اللہ بابر، رخسانہ بنگش اور فوزیہ حبیب نے شریک کی۔

ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق اجلاس میں ملک کے سیاسی معاملات' امن و امان کے ایشوز، سیلاب اور توانائی کی صورتحال زیر بحث آئی جب کہ ذرایع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں27 اگست کو سپریم کورٹ میں وزیر اعظم کی طلبی کے معاملے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور وزیر قانون فاروق نائیک نے صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔ اگرچہ اس اجلاس میں اس ایشو پر کافی بات چیت کی گئی لیکن محسوس ہوتا ہے کہ حکومت تاحال اس سلسلے میں کسی حتمی رائے تک نہیں پہنچ سکی ہے چنانچہ یہ واضح ہے کہ وزیر اعظم کے سپریم کورٹ میں پیش ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں مشاورت آج بھی جاری رہے گی۔


یہ بھی پتہ چلا ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے اتحادی جماعتوں سے مشاورت کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ایک رائے اٹارنی جنرل کی جانب سے آئی ہے اور انھوں نے وزیر اعظم کو پیر کو سپریم کورٹ میں پیش نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا استدلال یہ ہے کہ وزارت عظمیٰ کا منصب جج کے منصب سے بڑا ہوتا ہے، آئین کے تحت وزیر اعظم کسی عدالت کو جواب دہ نہیں اور نہ ہی کوئی عدالت وزیر اعظم سے ان کی آئینی ذمے داریوں سے متعلق پوچھ سکتی ہے۔ سپریم کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وزیر اعظم سوئس حکام کو خط نہیں لکھتے تو سپریم کورٹ خود کیوں نہیں لکھ دیتی۔

یاد رہے کہ قبل ازیں اپنے ایک بیان میں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی موجودہ وزیر اعظم کو اسی قسم کا مشورہ دیا تھا۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت اس معاملے میں حتمی فیصلہ کیا کرتی ہے تاہم یہ واضح ہے کہ اگر وزیر اعظم نے اٹارنی جنرل کے کہنے پر عدالت کے روبرو پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تو اس سے ملک میں آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے حاضر نہ ہونے پر عدالت یکطرفہ طور پر کوئی فیصلہ سنا دے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم عدالت میں پیش ہو جائیں اور حالات کوئی غیرمعمولی رُخ اختیار نہ کریں یعنی کوئی آئینی بحران پیدا نہ ہو۔

بہرحال یہ حکومت کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے بھی تدبر کا امتحان ہے کہ وہ اس صورتحال سے کس طرح نکلتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے اس لیے اس کا حل بھی آئینی طریقے سے ہی نکالا جانا چاہیے تاکہ نہ تو موجودہ سیٹ اپ کو کوئی نقصان پہنچے اور نہ ہی جمہوریت کا تسلسل خراب ہو۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس مسئلے کا حل کسی درمیانی رستہ کی صورت میں نکال لیا جائے' جس کے بارے میں گزشتہ ہفتوں کے دوران باتیں ہوتی رہی ہیں' تو حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story