ملکی افق پر امید افزا آثار و امکان

وزیراعظم سمیت حکومتی معاشی ٹیم کے ارکان مالیاتی اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔

وزیراعظم سمیت حکومتی معاشی ٹیم کے ارکان مالیاتی اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ فوٹو: فائل

قوم پاکستان کے پرمسرت جشن تاسیس کے سلسلے میں یکے بعد دیگرے امید افزا صدائیں سن رہی ہے۔ ملکی وعالمی سطح پر حوادث وواقعات کا سیل رواں ہے، وطن عزیزکے عوام کو اقوام متحدہ نے '' ورلڈ ہیپینس ڈے'' کے موقعے پرجاری ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کی سب سے خوش وخرم قوم کا اعزاز دیا ہے، بھارت کا گراف کافی نیچے ہے۔

ادھر وزیراعظم عمران خان کی نیوزی لینڈ میں اپنے ہم منصب جیسنڈرا آرڈرن سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، وزیراعظم نے کرائسٹ چرچ میں مسجد پر حملہ اور بیگناہ مسلمانوں کی شہادتوں پر اظہار افسوس کیا اور دہشتگردی کی سخت الفاظ میں مذمت کی، عمران خان نے مسلمانوں کے لیے وزیر اعظم جیسنڈرا آرڈرن کی طرف سے دی جانے والی تکریم کی تعریف کی اور کہا کہ مشکل لمحات میں انھوں نے جس تدبر اور لیڈرشپ کا مظاہرہ کیا اہل پاکستان اس کی قدرکرتے اور آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ جیسنڈرا نے بلاشبہ عالم اسلام اور دنیا بھرکے امن پسندوں کے دل جیت لیے ہیں ۔

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات بہت اچھے ہیں،امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق اوہائیو روانگی سے قبل وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ جلد پاکستان کی قیادت کے ساتھ ملاقات کریں گے ۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت نے پلوامہ حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی لیکن دنیا نے یہ الزام پاکستان پر تھوپنے کی بھارتی کوشش کو ناکام بنایا ہے ۔

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس سے متعلق بھارتی عدالت کے فیصلے نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس واقعہ میں پاکستانیوں کی جان گئی اور بھارتی عدالت نے چار مرکزی ملزموں کو بری کردیا جب کہ ایک مجرم کو اعتراف جرم کے باوجود رہا کیا گیا ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت او آئی سی میں نشست کا خواہشمند ہے لیکن مسلمانوں کی بات کرتے ہوئے ان پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے ، جب کہ کرائسٹ چرچ کے افسوس ناک واقعہ پر بھارت کی مذمت میں مسجد ومسلمان کا ذکر تک نہیں ۔ دنیا کو بھارت کے دہرے معیار کا نوٹس لینا ہوگا ۔

ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد23سال بعد 3 روزہ دورے پراسلام آباد پہنچ گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے نورخان ایئر بیس پر معزز مہمان کا استقبال کیا ۔ مہاتیر محمدکا طیارہ شام ساڑھے سات بجے نورخان ایئربیس پہنچا تو21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ وزیراعظم مہاتیرمحمد اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں انھیںگارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد وزیراعظم پاکستان عمران خان کی خصوصی دعوت پر پاکستان کا دورہ کررہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں اخبارات کے ایڈیٹرز اور مالکان سے گفتگو کی ، سوالوں کے جواب دیے، یہ گفتگوکثیر جہتی تھی، وزیراعظم نے خبردارکیا کہ بھارتی الیکشن سے پہلے سرحد پر خطرات ہیں، ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا، مودی حکومت پاکستان نفرت کی بنیاد پر الیکشن جیتنا چاہتی ہے، فوج اور حکومت دشمن کو جواب دینے کے لیے تیار ہیں، تاہم وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ تیل اورگیس کی دریافت کے حوالہ سے اگلے تین ہفتوں میں قوم کو بڑی خوشخبری مل سکتی ہے، بڑے ذخائر مل گئے تو پاکستان کے معاشی مسائل حل ہوجائیں گے۔


ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کو بہت پہلے ختم ہوجانا چاہیے تھا، اب ہم کارروائی کر رہے ہیں، ان کو قومی دھارے میں لانے کے لیے بھی بڑا پیسہ خرچ کررہے ہیں، نیب کو بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنا چاہیے، فوکس کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے بیوروکریسی محتاط ہے دستخط نہیں کررہی جس کی وجہ سے ہمیں بھی گورننس میں مشکلات پیش آرہی ہیں، عثمان بزدار مڈل کلاس سے آئے انھیں ابھی وقت دینا چاہیے، پاکستان میں 80 کی دہائی میں افغان جہاد کے لیے بننے والے جہادی گروپس کو بہت پہلے ختم کردینا چاہیے تھا۔ دنیا پاکستان پر الزام لگاتی ہے، ہمیں دنیا کی ضرورت ہے اس لیے اب کالعدم تنظیموں کو افورڈ نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا بھارت کوششیں کررہا ہے اگر FATF میں بلیک لسٹ میں آگئے تو معاشی مسائل پیدا ہوں گے۔ بھارتی الیکشن کی وجہ سے دشمن بلوچستان میں انتشار پھیلا سکتا ہے، ہمارا منصوبہ ہے کہ جو فراری ہیں ان سے بھی بات کی جائے۔ معاشی چیلنجزکا سامنا ہے، سابق حکومت اتنا بڑا قرضہ اورخسارہ چھوڑکرگئی ، حکومت سنبھالنے کے بعد سب سے بڑی جنگ تو یہی تھی کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے کیسے بچائیں، آئی ایم ایف سخت شرائط رکھ رہا تھا سب سے بڑی شرط تو یہی تھی کہ روپے کو آزاد چھوڑ دیں، اگر ان کی بات مان لیتے ڈالر 300 تک چلاجاتا، جس کی وجہ سے ہمیں دوست ممالک کے پاس جانا پڑا، اب آئی ایم ایف سے اچھی شرائط پر بات کر رہے ہیں۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پی ٹی آئی حکومت کو ملکی اقتصادی صورتحال کی گھمبیرتا کا گہرا احساس ہوگیا ہے اورگزشتہ ماہ عمران خان نے دوست ممالک سے مالیاتی معاونت حاصل کرنے کے لیے مختلف ملکوں کے طوفانی دورے کیے، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، قطر اور چین کے سربراہان سے ملے، اس دوران بیرون ملک تارکین وطن نے بھی غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ کے لیے اپنا حصہ ڈالا، اس وقت غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، لیکن اقتصادی ماہرین اور مبصرین کو آئی ایم ایف سے پیکیج ڈیل پر حکومت سے بہت سی شکایتیں ہیں جو بلاجواز اور غلط بھی نہیں ۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ حکومت کا عالمی مالیاتی ادارہ سے قرضہ لینے کے لیے ''کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہوجائے '' کا دورانیہ کافی اعصاب شکن ثابت ہوا اور عدم فیصلہ کے باعث حکومت کو دوست ملکوں سے جو مدد ملی وہ بھی ''غم روزگار'' میں خرچ ہوگئی۔

اس تذبذب نے غیر یقینیت پیدا کی، تاہم اب اس بات کا امکان پیدا ہوگیا ہے جیسا کہ وزیراعظم خود اس کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ہم ان کی بات مان لیتے تو ڈالرکی اڑان آسمان تک جاتی، بہر حال اب اگر آئی ایم ایف معتدل،حقیقت پسندانہ اور قابل برداشت شرائط پر نرم قرضے دینے پر آمادہ ہوگیا تو یہ بھی دل خوش کن خبر ہے مگر ارباب حکومت کو قرض کی مئے سے جان چھڑانی چاہیے، کشکول بدست معیشت کبھی بھی ملکی معاشی نظام کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں بناسکے گی، قوم بیساکھیوں سے آزاد اور استحصال سے پاک معاشی نظام کی منتظر ہے، حکومت غربت کے خاتمہ کے لیے اسٹرٹیجی بنائے، بیروزگاری اور غربت دو بڑے چیلنج ہیں، ملک بلاشبہ بہیمانہ و وائٹ کالر جرائم کی لپیٹ میں ہے، ملک کے سب سے بڑے شہرکراچی میں اسٹریٹ کرائم کی صورتحال اندوہ ناک ہے، کسی شہری کی جان و مال محفوظ نہیں ، معاشرہ میں مایوسی بڑھ رہی ہے،جی ہاں، دہشتگردی کی کمر ٹوٹ چکی ،کراچی میں رونقیں لوٹ آئی ہیں مگر مجرمانہ مافیاؤں کو نکیل ڈالنے کی اب بھی ضرورت ہے۔

وزیراعظم سمیت حکومتی معاشی ٹیم کے ارکان مالیاتی اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں تاہم بادی النظر میں کلیئر اینڈ کرسٹل معاشی روڈ میپ کے فقدان کا شکوہ بھی بے جا نہیں۔ عوام کو گیس ، بجلی کے بلوں نے شدید دباؤ کا شکار بنا دیا ہے۔ گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی جاری ہے۔ ٹرانسپورٹ سسٹم نام کی کوئی چیز موجود نہیں،کراچی میں شہریوں کو نئی بسوں کا انتظار ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی پاکستان آمد ایک خوش آیند پیش رفت ہے، اہل پاکستان انھیں اپنی قوم کے نجات دہندہ اور تعمیر وطن کرنے والے اولوالعزم سیاستدان اور عظیم منتظم قراردیتے ہیں۔

گزشتہ روز سرمایہ کاری بورڈ میں چیئرمین ہارون شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ ملائیشیا خوراک، آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹرز میں ملین ڈالرزکی سرمایہ کاری کرے گا ، ہماری برآمدات کو آسیان تک رسائی ملے گی، ملائیشیا کے سرمایہ کاروں کی طرف سے پاکستان میں 80 تا 90 کروڑ ڈالرکی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہونے کی توقع ہے۔ان کے مطابق ملائیشیا سے بزنس ٹو بزنس تعلقات کے وسیع امکانات موجود ہیں، انھوں نے پریس کانفرنس میں پاک چین تعلقات کے استحکام اور سی پیک کے حوالہ سے بھی اظہار خیال کیا ،ان کا استدلال تھا کہ تجارتی وسعت اور حجم کے تناظر میں ہمیں خود کو چین تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ دیگر ملکوں سے بھی تجارتی روابط بڑھانے کے لیے لچکدار اسٹرٹیجی مرتب کرنی چاہیے۔
Load Next Story