بحریہ ٹاؤن الاٹیز میں خوشی کی لہر
یہ ایک ایسا صائب فیصلہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔
یہ ایک ایسا صائب فیصلہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ فوٹو: فائل
PESHAWAR:
سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے اسے کراچی میں کام کرنے کی اجازت دے دی ۔ سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب)کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف ریفرنس دائرکرنے سے روکتے ہوئے فیصلہ دیا کہ بحریہ ٹاؤن اپنے پلاٹس فروخت کرسکتا ہے۔
یہ ایک ایسا صائب فیصلہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ اس فیصلے کے بعد بلاشبہ رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی کے شعبے پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اورکچھ عرصے کے لیے جو بے یقینی کے بادل چھا گئے تھے اب وہ چھٹ گئے ہیں۔
رئیل اسٹیٹ پاکستانی معیشت کی بیک بون ہے۔ مثلاً صرف بحریہ ٹاؤن پروجیکٹ کی مارکیٹ ویلیو 70سے 80ارب ڈالر بنتی ہے جب کہ پاکستان کے معاشی حب میں اس شعبے میں اربوں ،کھربوں ڈالرکی سرمایہ کاری جاری وساری ہے۔ تعمیراتی سرگرمیاں بحال ہونے پر اس شعبے سے جڑے دیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، سیمنٹ اور اسٹیل کی کھپت بڑھے گی۔
سب جانتے ہیں کہ چھوٹے یا بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیاں ملکی اقتصادی ترقی کا حصہ ہوتی ہیں ۔ جے ایس ریسرچ کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں سیمنٹ اور اسٹیل انڈسٹری کے حصص کی خریداری بڑھے گی۔عدالتی فیصلے سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سمیت ہزاروں افراد کو ریلیف ملاہے جو 2کھرب ڈالر سے زیادہ رقم اس پروجیکٹ میں لگا چکے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن پروجیکٹ کی 16ہزار ایکڑ اراضی کی بازارمیں قیمت 4سے 5کھرب روپے ہے۔
اس فیصلے کی اہمیت وافادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عدالتی فیصلہ سننے کے بعد الاٹیز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، الاٹیز اور انویسٹرز نے مٹھائیاں تقسیم کیں ، بلاشبہ یہ فیصلہ کراچی کی تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ کا باعث بنے گا اور اس کے نتیجے میں روزگارکے بے شمار مواقعے پیدا ہوں گے ۔ پاکستانی معیشت کا پہیہ چلے گا تو ملک اقتصادی ومعاشی شاہراہ پر ترقی وخوشحالی کا سفر بہت تیزی سے طے کرے گا۔
سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے اسے کراچی میں کام کرنے کی اجازت دے دی ۔ سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب)کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف ریفرنس دائرکرنے سے روکتے ہوئے فیصلہ دیا کہ بحریہ ٹاؤن اپنے پلاٹس فروخت کرسکتا ہے۔
یہ ایک ایسا صائب فیصلہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ اس فیصلے کے بعد بلاشبہ رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی کے شعبے پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اورکچھ عرصے کے لیے جو بے یقینی کے بادل چھا گئے تھے اب وہ چھٹ گئے ہیں۔
رئیل اسٹیٹ پاکستانی معیشت کی بیک بون ہے۔ مثلاً صرف بحریہ ٹاؤن پروجیکٹ کی مارکیٹ ویلیو 70سے 80ارب ڈالر بنتی ہے جب کہ پاکستان کے معاشی حب میں اس شعبے میں اربوں ،کھربوں ڈالرکی سرمایہ کاری جاری وساری ہے۔ تعمیراتی سرگرمیاں بحال ہونے پر اس شعبے سے جڑے دیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، سیمنٹ اور اسٹیل کی کھپت بڑھے گی۔
سب جانتے ہیں کہ چھوٹے یا بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیاں ملکی اقتصادی ترقی کا حصہ ہوتی ہیں ۔ جے ایس ریسرچ کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں سیمنٹ اور اسٹیل انڈسٹری کے حصص کی خریداری بڑھے گی۔عدالتی فیصلے سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سمیت ہزاروں افراد کو ریلیف ملاہے جو 2کھرب ڈالر سے زیادہ رقم اس پروجیکٹ میں لگا چکے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن پروجیکٹ کی 16ہزار ایکڑ اراضی کی بازارمیں قیمت 4سے 5کھرب روپے ہے۔
اس فیصلے کی اہمیت وافادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عدالتی فیصلہ سننے کے بعد الاٹیز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، الاٹیز اور انویسٹرز نے مٹھائیاں تقسیم کیں ، بلاشبہ یہ فیصلہ کراچی کی تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ کا باعث بنے گا اور اس کے نتیجے میں روزگارکے بے شمار مواقعے پیدا ہوں گے ۔ پاکستانی معیشت کا پہیہ چلے گا تو ملک اقتصادی ومعاشی شاہراہ پر ترقی وخوشحالی کا سفر بہت تیزی سے طے کرے گا۔