مفتی تقی عثمانی سوشل میڈیا پر مختلف معاملات پر رائے کا اظہار کرچکے

انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا تھاکہ بھارتی جارحیت کا ایک بڑا فائدہ یہ ہواکہ پوری قوم متحد اور یک زبان ہوگئی۔

انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا تھاکہ بھارتی جارحیت کا ایک بڑا فائدہ یہ ہواکہ پوری قوم متحد اور یک زبان ہوگئی۔ فوٹو : فائل

مفتی تقی عثمانی سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

مفتی تقی عثمانی نے20 مارچ کو ٹوئٹ میں لکھا کسی فرد یا گروپ کے انفرادی عمل کو اس کے دین سے و ابستہ نہیں کیا جاسکتا نہ اس کی ذمے داری پوری کمیونٹی پر ڈالی جاسکتی ہے۔نیوزی لینڈ کے حادثے نے یہ حقیقت واضح کردی،یہ ٹوئٹ 23 افراد نے پسند کیا، اسی روز دوسرے ٹوئٹ کو4600 افراد نے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔

مفتی تقی عثمانی نے لکھا نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے جس انداز سے دہشت گردی کے اس حادثے پرنہ صرف متاثرین بلکہ تمام مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا،15 مارچ کے ٹوئٹ میں سانحہ کرائسٹ چرچ پر مجرم کے حوالے سے مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ اس گن پر صلیبی جنگوں کے عیسائی جنرلز کے نام درج ہیں اور ویانا 1683 سے ویانا کی جنگ کی طرف اشارہ ہے جو ترک مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان اسی سن میں ہوئی تھی۔


اسی روز ان کے دوسرے ٹوئٹ میں تحریر تھا کہ نیوزی لینڈ کی مسجد میں بدترین دہشت گردی ہوئی،50مسلمانوں کو وحشیانہ فائرنگ کا نشانہ بنانے والوں نے اپنی گن پر جو کچھ لکھا ہے وہ مذہبی تعصب کا واضح ثبوت ہے۔

14 مارچ کو مفتی تقی عثمانی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ شراب کے لائسنس کے اجراکو عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے، قبل ازیں2 مارچ کے ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا تھاکہ بھارتی جارحیت کا ایک بڑا فائدہ یہ ہواکہ پوری قوم متحد اور یک زبان ہوگئی، اپوزیشن نے پہلی بارحکومت اور فوج کا ساتھ دیااورحکومت نے پہلی بار اپوزیشن کو خراج تحسین پیش کیا، خدا کرے یہ فضا ملک کے استحکام کے لیے بھی متحد ہوں اور تنقید کو تعمیری مقاصد کے لئے مہذب اور شائستہ بنائیں۔

واضح رہے کہ ٹوئٹر پر مفتی تقی عثمانی کے فالورز کی تعداد 65 ہزار 700ہے۔
Load Next Story