کراچی میں دہشت گردی کی الم ناک واردات
کراچی میں معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی پر حملے کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آ گئی۔
کراچی میں معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی پر حملے کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آ گئی۔ فوٹو: ایکسپریس
گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب جید عالم دین و نائب مہتم جامعہ دارالعلوم کورنگی مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملہ میں محفوظ رہے تاہم ان کا محافظ پولیس اہلکار فاروق اور ان کے ساتھ چلنے والی گاڑی میں سوار دارالعلوم کا محافظ صنوبر خان شہید ہو گئے۔
مفتی تقی عثمانی گلشن اقبال میں واقع مسجد بیت المکرم میں نماز جمعہ کی امامت کے لیے جا رہے تھے کہ دہشتگردوں نے دوپہر ایک بجکر 3 منٹ پر انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ مفتی تقی عثمانی کی سیاہ رنگ کی ہنڈا سوک نمبر BKE-748 اور ان کے ساتھ چلنے والی گاڑی ٹویوٹا کرولا نمبر ATF-908 جسے مولانا عامر شہاب چلا رہے تھے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچ گئی اور واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مذموم عناصر شہر کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں، کراچی کو ایسے وقت بد امنی کا شکار بنانے کی سازش ہوئی جب قوم یوم پاکستان کی خوشیاں منا رہی تھی، تاہم ضرورت دہشتگردوں اور اس واقعہ میں ملوث افراد کو بلا تاخیر قانون کے حوالے کرنے کی ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مفتی تقی عثمانی جیسی قابل قدر ہستی پر حملہ گھناؤنی سازش ہے۔ اس کے پیچھے سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔
وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ علماء کرام کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے متعلقہ اداروں کو فوری ایکشن لینے کی ہدایت کر دی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
کراچی میں معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی پر حملے کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آ گئی، فائرنگ سے جاں بحق صنوبر خان کی نماز جنازہ میں شریک صدر اہلسنّت و الجماعت پاکستان علامہ اورنگزیب فاروقی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کا واقعہ بہت دردناک اور تشویشناک بھی ہے، مولانا مفتی تقی عثمانی صرف پاکستان کے نہیں دنیا کے نامور عالم دین ہیں، ان پر دن دیہاڑے قاتلانہ حملہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
مفتی تقی عثمانی گلشن اقبال میں واقع مسجد بیت المکرم میں نماز جمعہ کی امامت کے لیے جا رہے تھے کہ دہشتگردوں نے دوپہر ایک بجکر 3 منٹ پر انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ مفتی تقی عثمانی کی سیاہ رنگ کی ہنڈا سوک نمبر BKE-748 اور ان کے ساتھ چلنے والی گاڑی ٹویوٹا کرولا نمبر ATF-908 جسے مولانا عامر شہاب چلا رہے تھے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچ گئی اور واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مذموم عناصر شہر کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں، کراچی کو ایسے وقت بد امنی کا شکار بنانے کی سازش ہوئی جب قوم یوم پاکستان کی خوشیاں منا رہی تھی، تاہم ضرورت دہشتگردوں اور اس واقعہ میں ملوث افراد کو بلا تاخیر قانون کے حوالے کرنے کی ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مفتی تقی عثمانی جیسی قابل قدر ہستی پر حملہ گھناؤنی سازش ہے۔ اس کے پیچھے سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔
وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ علماء کرام کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے متعلقہ اداروں کو فوری ایکشن لینے کی ہدایت کر دی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
کراچی میں معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی پر حملے کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آ گئی، فائرنگ سے جاں بحق صنوبر خان کی نماز جنازہ میں شریک صدر اہلسنّت و الجماعت پاکستان علامہ اورنگزیب فاروقی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کا واقعہ بہت دردناک اور تشویشناک بھی ہے، مولانا مفتی تقی عثمانی صرف پاکستان کے نہیں دنیا کے نامور عالم دین ہیں، ان پر دن دیہاڑے قاتلانہ حملہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔