اسلامو فوبیا کے خلاف اسٹرٹیجک اتحاد کی ضرورت

پاک ملائیشیا تعلقات کو اوج ثریا تک لے جانے کے لیے عزم اور نتیجہ خیز باہمی اشتراک کو یقینی بنانے کی ہے۔

پاک ملائیشیا تعلقات کو اوج ثریا تک لے جانے کے لیے عزم اور نتیجہ خیز باہمی اشتراک کو یقینی بنانے کی ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان، ملائیشیا اور ترکی کا سہ فریقی ''اسٹریٹیجک اتحاد'' تشکیل دینے کی تجویز دی ہے، جب کہ ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ہمیں دنیا کے سامنے مسلمانوں کا تشخص اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ اسلام سے نفرت کا جواب طاقت سے نہیں بلکہ محبت سے دینا چاہیے۔

دونوں رہنماؤں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ہونے والی ون آن ون ملاقات کے دوران کیا۔میڈیا کے مطابق وزیراعظم نے ملائیشین ہم منصب سے ملاقات کے دوران کہا کہ اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں پاکستان، ترکی اور ملائیشیا پر مشتمل سہ فریقی سٹرٹیجک اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ڈاکٹر مہاتیر بن محمدکا پرتپاک استقبال کیا اورانھیں نشان پاکستان کے اعزاز سے نوازا ، بعد ازاں ملائشیاکے وزیراعظم کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان، مسلح افواج کی قیادت، وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔

ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کا سہ روزہ دورہ یوم پاکستان کی خوشیوں کو دوبالا کرتے ہوئے دوطرفہ تجارتی، سیاسی اور سماجی روابط کے استحکام اور ملائیشین اقتصادی و معاشی تجربات سے کچھ سیکھنے کا نادر موقع فراہم کرتا ہے، مہاتیر محمد ملائیشیا کے معمار اور عالم اسلام کے لیے ایک رول ماڈل ہیں، وزیراعظم عمران خان مہاتیرمحمد کی طلسماتی شخصیت کے سیاسی ، انتظامی و تعمیر وطن کے بنیادی پہلو سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اسلیے وقت یہی ہے کہ پاکستان کی تعمیر نو اور ادارہ جاتی اقتصادی شفافیت اور کرپشن کے خاتمہ کے اہم چیلنجز سے نمٹنے میں دو طرفہ تعاون ٹھوس عملی شکل اختیار کرے ۔

پاکستان نے ملائیشیا کے ساتھ 5 بڑے منصوبوں کی مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کر دیئے ہیں۔ وفود کی سطح پر مذاکرات میں تجارت، آٹو موبائل، زراعت، سیاحت، فوڈ پروسیسنگ بالخصوص حلال گوشت سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کا احاطہ کیا گیا، پاکستانی وفد میں وزیر خزانہ، وزیر اطلاعات فواد چوہدری ، مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز ذوالفقار بخاری اور خارجہ سیکریٹری تہمینہ جنجوعہ شامل تھے۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد نے وزیراعظم عمران خان کو بدعنوانی سے نبرد آزما ہونے کے بارے میں ایک کتاب تحفہ کے طور پر بھی پیش کی کیونکہ یہ دونوں رہنماؤں کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ اجلاس میں پاکستان کی ملائیشیا کو اینٹی ٹینک میزائل کی برآمد کے بارے میں پہلے سے کیے گئے معاہدہ پر تیز ترعملدرآمد پر بھی زور دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ملائیشیا میں آیندہ ایوی ایشن نمائش میں پاکستان کے جے ایف17تھنڈرلڑاکا طیاروں کے مظاہرے پر بھی اتفاق پایاگیا۔


انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ملائیشیا کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں اشتراک کار میں بھی دلچسپی جب کہ دونوں ممالک کے مابین بینکوںکی شاخیں کھولنے پر بھی اتفاق ہوا ہے ، قبل ازیں وزیرعظم عمرا خان اور ملائیشین وزیراعظم کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں تعاون کے مختلف امور سمیت دوطرفہ تعلقات کا مکمل جائزہ لیا گیا۔

مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے خلاف اقدامات پر بات کی، ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا اس بات کی ضرورت کوسمجھتے ہیںکہ اسلامو فوبیاکا مقابلہ کرنے کے لیے نئے راستے ڈھونڈنے چاہئیں۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ مقابلہ کرنے کے بجائے ہمیں دنیا کے سامنے اسلام کا صحیح تشخص اجاگر کرنے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی اور معاشی پیش رفت ہمارے درمیان مزاکرات کے اہم نکات تھے ۔

وزیراعظم عمران خان نے اسلامی دنیا کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک مسلمان کی طرف سے ہونے والی کسی کارروائی کا الزام امت مسلمہ پر عائد کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے ایسے مسائل میں ہمیشہ مسلمانوںکی حمایت کرنے پر ترک صدر رجب اردوان اور ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹرمہاتیر محمد کی تعریف کی۔ انھوں نے کہاکہ مہاتیر محمدکا بدعنوانی کے خلاف مؤقف قابل تعریف ہے، بدعنوانی انسانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اورکسی بھی ملک کو کمزورکر دیتی ہے۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد کا دورہ پاکستان کے لیے اعزاز ہے، انھیں مسلمانوں کے قائد کی حیثیت سے دیکھتے ہیں،اس موقع پر ڈاکٹر مہاتیرمحمد نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی میں 9 پاکستانی اور 3 ملائشین شہری شہید ہوئے، یہ واقعہ مسلمانوں سے نفرت کا اظہار ہے۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہارکہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایک بھی مسلم ملک شامل نہیں ،2020ء تک ملائیشیا کو ترقی یافتہ میں شامل کرنا ہمارا ہدف ہے۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ پاکستان آمد پر وہ بے انتہا خوش ہیں اور یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ اب ضرورت پاک ملائیشیا تعلقات کو اوج ثریا تک لے جانے کے لیے عزم اور نتیجہ خیز باہمی اشتراک کو یقینی بنانے کی ہے۔

 
Load Next Story