عراق کی خونریزعیدالفطر

صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں امن قائم ہونے کے بارے میں جن دعوں کی شنید تھی۔۔۔

عراق میںعیدالفطر کے دن متعدد دھماکوں میں 69 افراد مارے گئے۔ فوٹو اے ایف پی

صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں امن قائم ہونے کے بارے میں جن دعوں کی شنید تھی' وہ تا حال پورے نہیں ہو سکے۔ عراق سے امریکا کی فوجیں واپس جا چکی ہیں اور بظاہر عراقیوں کی حکومت قائم ہے لیکن اس ملک میں امن و امان کی حالت یہ ہے کہ عیدالفطر کے دن متعدد دھماکوں میں 69 افراد مارے گئے۔ مغربی میڈیا کے مطابق عراق میں پر تشدد وارداتوں میں اضافہ سرکاری فورسز کے مسلمانوں کے ایک فرقے کے خلاف وحشیانہ کریک ڈائون کے نتیجے میں ہوا ہے۔ اس سے قبل 2007ء کے ماہ صیام میں تشدد کے نتیجے میں 671 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ عراق میں تشدد کی یہ کیفیت 2002ء میں امریکی حملے کے بعد پیدا ہوئی جو بڑھتے بڑھتے فرقہ واریت اور نسل پرستی کی شکل اختیار کر گئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ خونریز واقعات القاعدہ کرا رہی ہے۔ عید کے دن ہونے والے دھماکے زیادہ تر خود کش تھے۔ ابوبکر البغدادی گروپ نے بعض حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسی گروپ نے امریکا کی بدنام ترین جیل گوانتا نامو بے پر حملے کی کوشش بھی کی تھی۔ امریکا کے بقول البغدادی گروپ کی طنابیں ایمن الظواہری کے ہاتھ میں ہیں۔ عراق کے مقدس ترین شہر کربلا میں بھی خوفناک کار بم دھماکا ہوا جس میں متعدد افراد مارے گئے اور ان سے کہیں زیادہ تعداد میں زخمی ہوئے جن میں سے بعض عمر بھر کے لیے معذور ہوجائیں گے۔ مرنے والوں میں عورتوں اور بچوں کی بھی کوئی تخصیص نہیں۔ کرکوک میں ایک مسجد پر کار بم دھماکا ہوا۔ جولائی کے مہینے میں عراق میں ایک ہزار سے زاید افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس وقت مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں میں قتل و غارت کا بازار گرم ہے' ان میں عراق' شام اور یمن شامل ہیں' مصر اور لیبیا کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔


ان ملکوں میں مسلمانوں کے نظریاتی گروہ باہم برسر پیکار ہیں۔ ان پر تشدد گروہوں کی اکثریت اپنی طرز کا اسلامی انقلاب لانا چاہ رہی ہے' یہ گروہ نعرہ تو یہ لگاتے ہیں کہ ان کی ساری جدوجہد امریکا اور یورپ کے خلاف ہے لیکن غور کیا جائے تو ان کی طرف سے جو زیادہ کارروائی ہوتی ہیں وہ مسلمان ممالک کے اندر ہوتی ہیں' گویا یہ اپنے ہی ملکوں اور ان میں بسنے والے مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں' اگر امریکا اور یورپ ان کے دشمن ہیں تو ان کی کارروائیاں اپنوں کے خلاف کیوں ہیں؟ یہ جب اپنوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو مسلمان ممالک کمزور ہوتے ہیں' اس سے لامحالہ امریکا اور یورپ مضبوط ہوتے ہیں۔

یہ گروہ اپنی کارروائیوں میں معصوم لوگوں کو مذہب کے نام پر ان کے ہم مذہبوں کے خلاف ہی استعمال کرتے ہیں' ان کی کارروائیوں کی وجہ سے اسلام کا نام بھی بدنام ہو رہا ہے۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی غلط پالیسیاں بھی ان کی مددگار ہیں' جن معاشروں میں نا انصافی ہو وہاں کے عوام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا آسان ہوتا ہے۔ کہیں فرقہ اور مسلک کی بنیاد پر قتل و غارت ہو رہی ہے اور کہیں نسل کی بنیاد پر ایک دوسرے کو مارا جا رہا ہے' اس صورت حال کا فایدہ امریکا' اسرائیل اور دیگر قوتیں اٹھا رہی ہیں' مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عرب لیگ اور اسلامی ممالک کی تنظیم متفقہ طور پر کوئی موقف اختیار کریں' اگر ایسا نہ کیا گیا تو مسلم دنیا میں انتشار و خلفشار جاری رہے گا۔
Load Next Story