تپ دق کا پھیلاؤ

تپ دق (ٹی بی)کے خلاف پاکستان کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہیں

تپ دق (ٹی بی)کے خلاف پاکستان کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہیں۔ فوٹو: فائل

تپ دق (ٹی بی)کے خلاف پاکستان کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ ہے کہ ہر سال تپ دق کے مریضوں میں 50 ہزار مریضوں کا اضافہ ہو جاتا ہے چنانچہ عالمی صحت تنظیم کا زیادہ تر فوکس پاکستان میں ٹی بی کے انسداد پر ہے چنانچہ اس موذی مرض کے انسداد کے لیے قومی صحت پالیسی ترتیب دینے پر زور دیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان میں ایسے افراد بلاشبہ بہت بڑی تعداد میں ہیں جن کو اس ہلاکت خیز بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔


یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آج سے پندرہ بیس سال پیشتر جب ٹی بی کا موثر اور شافی علاج دریافت نہیں ہوا تھا تب ایسے ڈرامے اور ایسی فلمیں بنائی جاتی تھیں جن میں کسی بانکے سجیلے جوان کو اس بیماری کی خاطر لا علاج تصور کرتے ہوئے اس کی محبوبہ مجبوری کے عالم میں اس کو چھوڑ کر چلی جاتی تھی یا وہ خود کچھ ایسی ڈرامہ بازی اختیار کرتا تھا کہ اس کی محبوبہ اس کے ساتھ اپنی زندگی خراب کرنے کے بجائے اس سے متنفر ہو کر از خود ہی اس سے کنارہ کشی اختیار کر جائے۔

تاہم بعد ازاں جب ٹی بی کا شافی علاج دریافت ہو گیا تو فلمی ڈرامہ بازی کے لیے ٹی بی کی جگہ کینسر سے مدد لینی شروع کر دی گئی جس کا علاج دریافت کرنے کے بعد بھی اسے موت کے فرشتے کے براہ راست نشانے پر رکھا جانے لگا۔ زیادہ تر لوگ اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اگرچہ ٹی بی جان لیوا مرض ہے لیکن پھر بھی ادویات کے احتیاط کے ساتھ استعمال کے ذریعے اس بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ہدایت ہے کہ ٹی بی سے بچاؤ کے لیے عمومی سطح پر آگاہی پیدا کی جانی چاہیے تاکہ عوام اپنے طرز زندگی میں اس کے مطابق تبدیلیاں پیدا کریں اور ایسی احتیاطیں اختیار کر لیں جن کی وجہ سے اس مہلک مرض سے محفوظ رہ سکیں۔
Load Next Story