جموں انتہا پسندوں کے مسلمانوں پر حملے جھڑپیں 3 شہید کرفیو نافذ

ہڑتال کے باعث مقبوضہ وادی میں دکانیں، کاروباری مراکز اور پٹرول پمپ بند، ریل سروس معطل، بزرگ کشمیری رہنما علی گیلانی۔۔۔

سرینگر:جموں میں کرفیو کے دوران ایک سڑک پر خاردار تاروں کی باڑھ کے پیچھے کھڑے بھارتی فوجی اہلکار خلاف ورزی کرنیوالوں کو وارننگ دے رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

مقبوضہ کشمیر میں کشتواڑ کے بعد جموں خطے کے کٹھوعہ، ادھمپور، سامبا اور راجوری کے اضلاع میں بھی ہندو انتہاء پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کیخلاف پر تشدد کارروائیوں کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

جھڑپوں کے دوران 3 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق ہندو انتہاء پسندوں نے جموں، کٹھوعہ، سامبااور ادھمپور میں مسلمانوں کی املاک کونقصان پہنچایا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیگر ہندو انتہا پسند جماعتوں کی طرف سے دی جانیوالی ہڑتال کی کال کے بعد ان جماعتوں کے ہزاروں کارکن جموں کے سٹی چوک اور نیو پلاٹ کے علاقوں میں جمع ہوگئے اور مسلمانوں کی متعدد دکانیں نذر آتش کردیں۔

ریہاری چوک اور کچی چونی کے علاقوں میں مسلمانوں کی گاڑیوں کو آگ لگادی گئی۔ ہندو انتہا پسندوں نے کٹھوعہ ریلوے سٹیشن پر ایک ریل گاڑی کو بھی روک دیاجس سے جمو ں پٹھان کوٹ ریل سروس معطل ہو گئی۔




جنوبی ضلع کشتواڑ میں ہندو اور مسلم باشندوں کے درمیان پرتشدد تصادم کے دوران تین افراد جاں بحق ہونے کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوگئے، قابض فورسز نے گزشتہ روز کرفیو کا دائرہ کار مزید 3 اضلاع میں بڑھا دیا جبکہ ڈوڈہ کے بعض علاقوں میں بھی کرفیو لگا دیا گیا۔

علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے ان واقعات کے لیے حکومت کو ذمے دار ٹھہرایا اور وادی بھر میں سنیچر کو ہڑتال کی کال دی تھی جس کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں دکانیں، کاروباری مراکز اور پٹرول پمپ بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی۔ دریںاثناء قابض انتظامیہ نے لوگوں کو تازہ ترین صورت حال سے بے خبر رکھنے کیلیے مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کردی۔
Load Next Story