بھارت جنگی جنون کو ہوا نہ دے

پاکستان کے خلاف الزامات کا سلسلہ اور دھمکی آمیز رویہ دونوں ممالک کو جنگی صورت حال کے انتہائی قریب لے آتا ہے۔

پاکستان کے خلاف الزامات کا سلسلہ اور دھمکی آمیز رویہ دونوں ممالک کو جنگی صورت حال کے انتہائی قریب لے آتا ہے۔فوٹو: فائل

PESHAWAR:
پلوامہ حملے کے بعد جنم لینے والی پاک بھارت کشیدگی اور جنگ کے خدشات اگرچہ دم توڑتے جا رہے ہیں۔ خطے میں جہاں امن کی باتیں ہو رہی ہیں وہاں بھارتی فوج کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی اور بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

اتوار کے روز پونچھ سیکٹر میں بھارتی فوج کی فائرنگ پر پاک فوج کی جوابی کارروائی میں ایک بھارتی فوجی مارا گیا' بھارتی فوج نے اپنے مرنے والے اس فوجی ہری بھاکر کا تعلق راجستھان کے ضلع ناگور سے بتایا ہے۔ یوں اس ہفتے کنٹرول لائن پر ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد تین ہو گئی' ادھر بھمبر کے بنڈالہ سیکٹر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک پاکستانی بچہ زخمی ہو گیا۔

پاک بھارت کشیدگی کوئی نئی بات نہیں' مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سرحدوں پر ہونے والی چھیڑ چھاڑ اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آتا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے یا جب دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ رونما ہونے کے بعد بھارت کی جانب سے مچایا جانے والا واویلا' پاکستان کے خلاف الزامات کا سلسلہ اور دھمکی آمیز رویہ دونوں ممالک کو جنگی صورت حال کے انتہائی قریب لے آتا ہے۔

ممبئی میں ہونے والا حملہ ہو یا مقبوضہ کشمیر میں کوئی کارروائی' بھارت نے ہمیشہ بلاتحقیق اور بلاتوقف پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور پوری دنیا کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اور اس کے یہ اقدامات امن کے لیے خطرہ ہیں لہٰذا دنیا پاکستان کے خلاف کارروائی کرے۔

حالیہ پلوامہ کے واقعے میں بھی اس نے یہی حربہ استعمال کیا اور پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر ڈالی اور اس کے بعد ڈرامہ رچاتے ہوئے بڑے فخر سے دنیا کو بتانے کی کوشش کی کہ اس نے پاکستان میں دہشت گردوں کے اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے بھارتی سازش کے پیچھے چھپے ہوئے مذموم اور مکروہ عزائم کو بھانپ لیا اور سفارتی سطح پر بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے کی تگ و دو شروع کر دی جس میں وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہی۔


پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر گرائے جانے والے بھارتی طیارے اور اس کے بعد پاکستان کے مثبت اور ذمے دارانہ رویے نے بھارت کو سفارتی محاذ پر پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا اور دنیا نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا کہ بھارت خطے میں جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے۔

جب بھارت کی جانب سے ایسا کوئی جنگی جنون پیدا ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف جنوبی ایشیا کے خطے کے عوام بلکہ ہمسایہ ممالک سمیت پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے کہ اگر دونوں ممالک میں جنگ چھڑ گئی اور نوبت خوفناک ہتھیاروں اور ایٹمی میزائلوں تک آ پہنچی تو اس سے جو خوفناک اور قابل رحم صورت حال پیدا ہو گی اس کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

اسی بھیانک صورت حال سے بچنے کے لیے ہمسایہ ممالک سمیت عالمی قوتیں خطے کو جنگ سے دور رکھنے اور امن قائم کرنے کے لیے متحرک ہو جاتی ہیں اور دونوں ممالک کی قیادت کو تحمل سے معاملات نمٹانے کی تلقین کرتی ہیں۔ بھارت کے جارحانہ رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے اپنی مشرقی سرحد پر فضائی اور زمینی حدود کی حفاظت کے لیے چینی ساختہ نیا ایئرڈیفنس سسٹم نصب کر دیا ہے۔

جس میں کم رینج والے زمین سے ہوا میں مار کرنے والے ایل وائے 80میزائل اور نگرانی کرنے والے آئی بی آئی ایس150ریڈار کے پانچ یونٹ نصب کر دیے ہیں تاکہ بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جارحانہ اقدام پر فضائی اور زمینی حدود کی حفاظت کی جا سکے۔دوسری جانب پاکستان اور بھارت نے کشیدگی ختم کر کے کرتار پور راہداری پر دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا۔ اگر بھارتی قیادت جنگی جنون کو چھوڑ کر خطے میں امن قائم کرنے کی طرف توجہ دے تو اس سے پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز ہو سکتا ہے۔

کرتار پور راہداری کے بعد دونوں ممالک آزاد کشمیر میں شاردھا پیٹھ راہداری کھولنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں' بھارتی دفتر خارجہ کے ذرایع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ سے 22کلو میٹر کے فاصلے پر آزاد کشمیر میں ہندوؤں کے ایک متروکہ مندر شاردھا پیٹھ تک راہداری تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔اسی طرح کھوکھرا پار کا راستہ بھی کھول دیا جائے تو دونوں ممالک میں جہاں تجارتی' ثقافتی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں تعلقات بڑھیں گے وہاں ہر دو جانب عوامی رابطے مضبوط ہونے سے کشیدگی کا خود بخود خاتمہ ہوتا چلا جائے گا۔ خطے میں قیام امن کے لیے ناگزیر ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے اور آئندہ کسی ایسی حرکت سے گریز کرے جس سے خطے کا امن داؤ پر لگ جائے۔
Load Next Story