وفاقی کابینہ کے اہم فیصلے

کابینہ کے دوررس فیصلوں میں زیادہ تر انتظامی شعبوں میں فعالیت کو مد نظر رکھا گیا۔

کابینہ کے دوررس فیصلوں میں زیادہ تر انتظامی شعبوں میں فعالیت کو مد نظر رکھا گیا۔ فوٹو: فائل

وفاقی کابینہ نے لاہور سے نئی دہلی بس سروس میں توسیع کی منظوری دیدی، کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ کی تشکیل نو سے متعلق سمری اور کراچی انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ بورڈ کی سمری بھی منظور کرلی، کابینہ نے 2ارب روپے رمضان پیکیج کی منظوری دیدی ، وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو اشیا کی قیمتوں کی چیکنگ کا ٹاسک دیدیا ،کرتار پور راہداری کا نومبر سے آغاز ہوگا، کابینہ کا اجلاس منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوا جس میں 20 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا اور متعدد فیصلے کیے گئے ۔

اجلاس میں ملکی ، سیاسی اور معاشی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ کے دوررس فیصلوں میں زیادہ تر انتظامی شعبوں میں فعالیت کو مد نظر رکھا گیا کیونکہ وفاقی حکومت اس امر سے خائف تھی کہ بیوروکریٹس پاور سٹرکچر میں تبدیلیوں کے باعث قدرے محتاط اور دل جمعی سے کام کرنے کے لیے تیار نہیں ، پھر حکومتی اقدامات اور وزراء کے متضاد بیانات سے بھی افسر شاہی کی عدم فعالیت کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرگیا۔

تاہم یہ خوش آیند بات ہے کہ ملکی امور کی انجام دہی اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے بہتر قانون سازی کے لیے انتظامیہ کو بیوروکریسی کی افادیت اور اشتراک وتعاون کی ضرورت کا احساس ہوا، حکومت کو اپنے طرز عمل اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کا کوئی وے آؤٹ اورلائحہ عمل بھی وضع کرنا ہوگا، اس وقت تمام شعبوں میں تطہیر ، اصلاح اور بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے تاہم داخلی انتظامی معاملات کی شفافیت ناگزیر ہے جس کی روشنی میں وزراء متنوع اور ڈائنامک کردار ادا کرنے میں پیش رفت کو یقینی بناسکتے ہیں ۔

حکومت نے لاہور دہلی بس سروس میں توسیع اور کرتارپور راہداری کا نومبر سے آغاز کرنے کا صائب فیصلہ کیا ہے، دونوں منصوبے پاک بھارت تعلقات میں ایک نئی مفاہمانہ جہت کی عکاسی کرتے ہیں، مذکورہ بس سروس تو اس اعتبار سے منفرد کہی جاسکتی ہے کہ وہ کارگل جنگ کے باوجود معطل نہیں ہوئی اور جب بھی کسی وجہ سے اس سروس کو روکنا پڑا تو دونوں ملکوں کے عوام ایک اہم سفری سہولت سے محروم ہوئے ۔


اسی طرح کرتارپور راہداری کی تعمیر نے ایک طرف سکھ کمیونٹی کی تالیف قلوب تو دوسری جانب خطے میں امن ،خیر سگالی اور ترقی کے نئے امکانات پیدا کرنے کا منظر نامہ دیا ہے۔ پاک بھارت تعلقات میں امن اور خیر خواہی کی جستجو بنیادی فیکٹر ہے ،چاہے مسئلہ کشمیر ہو یا دیگر تنازعات جنگ یا طاقت سے حل نہیں ہوسکتے۔

دریں اثنا ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر پاکستان الان گوان پیچھا موتو نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے کراچی کی ترقی ناگزیر ہے ، پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نمو 7سے 8فیصد سالانہ کی سطح پر لانے کے لیے کراچی کی معیشت کو 10فیصد سے زائد کی رفتار سے ترقی دینا ہوگی، کراچی میں تھنک ٹینک C100کے سیمینار میں شرکت کے موقعے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں کراچی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے تاہم کراچی جیسی آبادی والے شہروں کے مقابلے میں کراچی کا انفرااسٹرکچر کا معیار کافی پست ہے جسے بہتر بنانے کے لیے ورلڈ بینک سندھ حکومت کی معاونت کررہا ہے۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فوادچوہدری نے کہاکہ وفاقی کابینہ نے نئی سول ایوی ایشن پالیسی کی منظوری دیدی جب کہ تمام بین الاقوامی ایئر لائنز کے ساتھ معاہدوں کے جائزے کا فیصلہ کر لیا، نئی سول ایوی ایشن پالیسی کی منظوری دیدی گئی ہے۔ نئی سول ایوی ایشن پالیسی کا مقصد ہوابازی سے متعلق صنعتوں کی بحالی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ 10رکنی گروبندھک کمیٹی بنا دی گئی ہے، کرتار پور راہداری نومبر میں کھول دی جائے گی۔

بلیوایریا سمیت تمام تجارتی مراکز میں بلند عمارتوں کے لیے این او سی کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیراعظم سیاحت کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ برطانیہ، ترکی ، یو اے ای، سعودی عرب کو ای ویزہ کی سہولت دی جا رہی ہے۔170ممالک کو ای ویزا کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ کسی غیر ملکی کو پاکستان میں کہیں جانے کے لیے این او سی کی شرط ختم کردی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیاحتی مقامات تک فضائی سروس پر ٹیکس زیرو کردیا گیا ہے۔

پاکستان میں اوپن اسکائی پالیسی ختم کی جارہی ہے۔ رمضان پیکیج مناسب ہے مگر مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی بھی لازم ہے۔ بہر حال اگر دیکھا جائے تو کابینہ کے فیصلوں سے حکومتی درست سمت کا عندیہ ملتا ہے، معاملات پر حکومتی گرفت مثبت نظر آنے لگی ہے، اور امید کی جانی چاہیے کہ آیندہ مرحلہ میں سیاسی کشمکش، باہمی کشیدگی اور محاذ آرائی کا خاتمہ ہو، تصادم کی حکمت عملی کے بجائے ملکی تعمیر و ترقی پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ عوام کے مسائل کے حل میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
Load Next Story