گولان پہاڑیاں یورپی یونین نے ٹرمپ کا اعلان مسترد کر دیا
اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں شام کے اس علاقے پر قبضہ کیا تھا جس کی تزویراتی اعتبار سے خصوصی اہمیت ہے۔
اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں شام کے اس علاقے پر قبضہ کیا تھا جس کی تزویراتی اعتبار سے خصوصی اہمیت ہے۔ فوٹو:فائل
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن پانچ یورپی ممالک نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیلی قبضے میں دینے کے اعلان کو مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ اس اقدام کے مضمرات بہت وسیع ہونگے۔ یورپی یونین کے پانچ اہم ممالک جن میں بلجییم، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور پولینڈ شامل ہیں، نے اصرار کیا کہ مقبوضہ شامی علاقے(گولان پہاڑیاں) کے بارے میں ان کے موقف میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی کیونکہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں متذکرہ تمام علاقے کو تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔
ان ممالک نے کہا ہے کہ ہم شامی پہاڑیوں گولان ہائٹس پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ تسلیم نہیں کرتے جن پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ اس بارے میں امریکی صدر ٹرمپ نے ماضی میں بھی مختلف مواقعے پر کئی ایسے اشارے دیے جن میں اسرائیل کے قبضہ کی حمایت کی گئی اور بالآخر واضح طور پر اعلان کر دیا کہ امریکا گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرتا ہے تاہم بلجیئم کے سفیر مارک پیٹسن نے اخباری نمایندوں کو بتایا کہ شام کے اس علاقے کو اسرائیلی ملکیت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
بلجیئم کے سفیر نے کہا کہ اس علاقے پر اسرائیلی قبضہ تسلیم کرنے کے بڑے وسیع مضمرات ہونگے۔ سفیر مارک پیٹسن کی دیگر یورپی ممالک نے تائید کی اور اس کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔ سلامتی کونسل نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف تین قراردادیں بھی منظور کی ہوئی ہیں جن میں اسرائیل پر زور دیا گیا تھا کہ وہ مقبوضہ علاقے کو خالی کر دے۔
اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں شام کے اس علاقے پر قبضہ کیا تھا جس کی تزویراتی اعتبار سے خصوصی اہمیت ہے۔ 1981ء میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کو اپنے ساتھ منسلک کرنے کا اعلان کر دیا لیکن بین الاقوامی طور پر اسرائیل کے اس اقدام کو قطعاً تسلیم نہیں کیا گیا جسکے باعث یہ علاقے اب تک متنازعہ ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ پیر کو ایک سرکاری بیان جاری کیا جس میں گولان کی پہاڑیوں کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کو قانونی درجہ دینے کا اعلان کیا ۔ امریکا کے قائم مقام سفیر جوناتھن کوہن نے کہا ہے کہ امریکا نے یہ اقدام شامی صدر بشارالاسد اور ایران کے خلاف کھڑا ہونے کے لیے کیا ہے۔
کوہن نے کہا کہ شام گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا تھا جب کہ احتجاج پر اسے روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی جاتی تھی۔ روس اور چین نے بھی اس امریکی فیصلے کی سختی سے مخالفت کی ہے اور اس کے ساتھ ہی کہا ہے کہ انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ بھی مکمل طور پر فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یورپی یونین نے ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کر کے صائب فیصلہ کیا ہے کیونکہ اسے ادراک ہے کہ ٹرمپ کی اسرائیل کی بے جا حمایت سے مشرق وسطیٰ کے پورے خطے میں بدامنی اور بے چینی میں اضافہ ہو گا، ٹرمپ کا یہ اعلان اقوام متحدہ کی قرارداروں کی بھی نفی کرتا ہے۔ ایسے میں یورپی یونین امریکا کی حمایت کر کے انسانی حقوق کے حوالے سے اپنا غلط امیج قائم نہیں کرنا چاہتی۔
ان ممالک نے کہا ہے کہ ہم شامی پہاڑیوں گولان ہائٹس پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ تسلیم نہیں کرتے جن پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ اس بارے میں امریکی صدر ٹرمپ نے ماضی میں بھی مختلف مواقعے پر کئی ایسے اشارے دیے جن میں اسرائیل کے قبضہ کی حمایت کی گئی اور بالآخر واضح طور پر اعلان کر دیا کہ امریکا گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرتا ہے تاہم بلجیئم کے سفیر مارک پیٹسن نے اخباری نمایندوں کو بتایا کہ شام کے اس علاقے کو اسرائیلی ملکیت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
بلجیئم کے سفیر نے کہا کہ اس علاقے پر اسرائیلی قبضہ تسلیم کرنے کے بڑے وسیع مضمرات ہونگے۔ سفیر مارک پیٹسن کی دیگر یورپی ممالک نے تائید کی اور اس کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔ سلامتی کونسل نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف تین قراردادیں بھی منظور کی ہوئی ہیں جن میں اسرائیل پر زور دیا گیا تھا کہ وہ مقبوضہ علاقے کو خالی کر دے۔
اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں شام کے اس علاقے پر قبضہ کیا تھا جس کی تزویراتی اعتبار سے خصوصی اہمیت ہے۔ 1981ء میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کو اپنے ساتھ منسلک کرنے کا اعلان کر دیا لیکن بین الاقوامی طور پر اسرائیل کے اس اقدام کو قطعاً تسلیم نہیں کیا گیا جسکے باعث یہ علاقے اب تک متنازعہ ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ پیر کو ایک سرکاری بیان جاری کیا جس میں گولان کی پہاڑیوں کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کو قانونی درجہ دینے کا اعلان کیا ۔ امریکا کے قائم مقام سفیر جوناتھن کوہن نے کہا ہے کہ امریکا نے یہ اقدام شامی صدر بشارالاسد اور ایران کے خلاف کھڑا ہونے کے لیے کیا ہے۔
کوہن نے کہا کہ شام گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا تھا جب کہ احتجاج پر اسے روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی جاتی تھی۔ روس اور چین نے بھی اس امریکی فیصلے کی سختی سے مخالفت کی ہے اور اس کے ساتھ ہی کہا ہے کہ انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ بھی مکمل طور پر فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یورپی یونین نے ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کر کے صائب فیصلہ کیا ہے کیونکہ اسے ادراک ہے کہ ٹرمپ کی اسرائیل کی بے جا حمایت سے مشرق وسطیٰ کے پورے خطے میں بدامنی اور بے چینی میں اضافہ ہو گا، ٹرمپ کا یہ اعلان اقوام متحدہ کی قرارداروں کی بھی نفی کرتا ہے۔ ایسے میں یورپی یونین امریکا کی حمایت کر کے انسانی حقوق کے حوالے سے اپنا غلط امیج قائم نہیں کرنا چاہتی۔