طلب میں کمی کے باوجود بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری

بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہر کے کئی علاقوں میں شہری سراپا احتجاج ہیں۔

شہر میں500سے600 میگاواٹ کی کمی پورا کرنے کیلیے طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ فوٹو: فائل

شہر میں موسم خوشگوار ہونے کے بعد بجلی کی طلب میں نمایاں کمی ہوئی ہے جبکہ کے ای ایس سی نے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ برقرار رکھنے کیلیے بجلی کی پیداوار میں دانستہ کمی کردی ہے۔

تاحال شہر میں500سے600 میگاواٹ کی کمی پورا کرنے کیلیے طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، کے ای ایس سی کی انتظامیہ کا سارا انحصار قدرتی گیس سے بجلی کی پیداوار اور واپڈا سے حاصل ہونیوالی بجلی پر ہے، بن قاسم بجلی گھر کا یونٹ نمبر 4 کئی ہفتوں سے تکنیکی خرابی کے نام پر بند ہے جبکہ نجی بجلی گھروں گل احمد اور ٹپال سے ان کی مجموعی استعداد کی صرف 25 فیصد بجلی حاصل کی جا رہی ہے، لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ بجلی کی بندش سے پانی کا بحران بھی پیدا ہوا رہا ہے جس سے شہری دہرے عذاب میں مبتلا ہو رہے ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہر کے کئی علاقوں میں شہری سراپا احتجاج ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ فوری بند کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق رواں سال موسم گرما کے دوران کراچی میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب جون کے مہینے میں تقریباً 2750 میگاواٹ رہی جبکہ اس وقت کے ای ایس سی حکام کو تقریباً 550میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا تھا، ذرائع کے مطابق جولائی کے مہینے میں گرمی کی شدت میں کمی کے ساتھ ساتھ بتدریج بجلی کی طلب میں بھی کمی ہوئی اور مجموعی طور پر تقریباً 150میگاواٹ کمی کی ہوئی تاہم کے ای ایس سی نے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں کی اور یکساں دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھا، رواں مہینے کی ابتدا میں کراچی میں مون سون کی پہلی بارش کے فورا بعد موسم خوشگوار ہوگیا اور بجلی کی طلب میں بھی نمایاں کمی ہوئی، ذرائع کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بجلی کی طلب نے 2450میگاواٹ سے تجاوز نہیں کیا ہے اور امکان ہے کہ اس مہینے کے دوران بجلی کی طلب 2400 سے 2500 میگاواٹ کے درمیان رہے گی تاہم کے ای ایس سی تاحال 550 سے 600 میگاواٹ بجلی کی لوڈشیڈنگ کررہی ہے۔




جس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں 5 سے 8 گھنٹے کیلیے بجلی کی فراہمی معطل کی جاتی ہے جبکہ ہفتہ وار اور دیگر تعطیلات کے دوران بجلی طلب میں مزید 150سے200 میگاواٹ کی کمی ہوتی ہے تاہم کے ای ایس سی انتظامیہ تعطیلات کے دوران بھی یکساں دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، ذرائع نے بتایا کے ای ایس سی نے بجلی کی طلب کم ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی کے بجائے بجلی کی پیداوار میں دانستہ کمی کردی ہے ذرائع نے بتایا کہ کے ای ایس سی حکام نے بن قاسم بجلی گھر کے یونٹ نمبر 4 کو کئی ہفتوں سے تکنیکی خرابی کے نام پر بند کیاہوا ہے جبکہ نجی بجلی گھروں گل احمد اور ٹپال سے ان کی مجموعی استعداد کی صرف 25 فیصد بجلی حاصل کی جارہی ہے۔

، ذرائع نے بتایا کہ اس کی واضح مثال عیدالفطر کی تعطیلات کے دوران شہر بھر میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کے ای ایس سی حکام دانستہ طور پر فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار اور نجی بجلی گھروں سے ان کی مجموعی استعداد کے مطابق بجلی حاصل نہیں کرر ہی ہے جس سے کراچی میں بجلی کا مصنوعی بحران جاری ہے، دوسری جانب کے ای ایس سی کی انتظامیہ کاسارا انحصار قدرتی گیس سے بجلی کی پیداوار اور واپڈا سے حاصل ہونیوالی بجلی پر ہے، علاوہ ازیں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ بجلی کی بندش سے پانی کا بحران بھی پیدا ہوا رہا ہے جس سے شہری دہرے عذاب میں مبتلا ہو رہے ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہر کے کئی علاقوں میں شہری سراپا احتجاج ہیں۔
Load Next Story