لاپتہ شہری کی بازیابی کیلیے تحقیقاتی افسر تعینات کرنیکی ہدایت
عدالت کو بتایاگیا کہ مقدمہ کی تفتیش کرائم برانچ کے ڈی ایس پی حفیظ جونیجوکررہے تھے، انکی تنزلی کے بعد تفتیش رک گئی تھی
عدالت نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے آبزروکیا کہ نوجوان کو لاپتہ ہوئے 15ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا مگر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ فوٹو: راشد اجمیری/ فائل
سپریم کورٹ نے سیاسی جماعت کے لاپتہ کارکن کی بازیابی میں پیش رفت نہ ہونے پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے تفتیش کیلیے ایماندار پولیس افسر تعینات کرنے اور آئندہ سماعت پر پیشرفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اے آئی جی لیگل علی شیر جکھرانی نے بینچ کو بتایا کہ ایس پی جمیل مرزا کو تحقیقاتی افسر مقرر کردیا گیا ہے، جسٹس انور ظہیرجمالی اور جسٹس امیرہانی مسلم پرمشتمل بینچ نے پیرکراچی رجسٹری میں نوجوان توقیر کی گمشدگی سے متعلق اس کی والدہ مسمات فاطمہ بی بی کی درخواست کی سماعت کی، اس موقع پر اے آئی جی لیگل علی شیر جکھرانی نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے پیش رفت نہیں ہوسکی کیونکہ پولیس افسران کی بڑے پیمانے پر تنزلی اور تبادلوں سے بعض اسامیاں تاحال خالی ہیں، عدالت نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے آبزروکیا کہ نوجوان کو لاپتہ ہوئے 15ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا مگر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مقدمہ کی تفتیش کرائم برانچ کے ڈی ایس پی حفیظ جونیجو کر رہے تھے، ان کی تنزلی کے بعد یہ تفتیش رک گئی تھی تاہم جلد ہی کسی افسر کو تفتیش پر تعینات کردیا جائے گا، عدالت نے ہدایت کی کہ ایک روز میں تفتیشی افسر مقرر کیا جائے، عدالت کو بتایا گیا کہ ایس پی جمیل مرزا کو تفتیشی افسر مقرر کیا جارہا ہے، مسمات فاطمہ بی بی نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے 14 مئی 2012 کو اس کے گھر سے بیٹے توقیر کو اغوکرکے لے گئے تھے جو تاحال لاپتہ ہے۔
اے آئی جی لیگل علی شیر جکھرانی نے بینچ کو بتایا کہ ایس پی جمیل مرزا کو تحقیقاتی افسر مقرر کردیا گیا ہے، جسٹس انور ظہیرجمالی اور جسٹس امیرہانی مسلم پرمشتمل بینچ نے پیرکراچی رجسٹری میں نوجوان توقیر کی گمشدگی سے متعلق اس کی والدہ مسمات فاطمہ بی بی کی درخواست کی سماعت کی، اس موقع پر اے آئی جی لیگل علی شیر جکھرانی نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے پیش رفت نہیں ہوسکی کیونکہ پولیس افسران کی بڑے پیمانے پر تنزلی اور تبادلوں سے بعض اسامیاں تاحال خالی ہیں، عدالت نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے آبزروکیا کہ نوجوان کو لاپتہ ہوئے 15ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا مگر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مقدمہ کی تفتیش کرائم برانچ کے ڈی ایس پی حفیظ جونیجو کر رہے تھے، ان کی تنزلی کے بعد یہ تفتیش رک گئی تھی تاہم جلد ہی کسی افسر کو تفتیش پر تعینات کردیا جائے گا، عدالت نے ہدایت کی کہ ایک روز میں تفتیشی افسر مقرر کیا جائے، عدالت کو بتایا گیا کہ ایس پی جمیل مرزا کو تفتیشی افسر مقرر کیا جارہا ہے، مسمات فاطمہ بی بی نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے 14 مئی 2012 کو اس کے گھر سے بیٹے توقیر کو اغوکرکے لے گئے تھے جو تاحال لاپتہ ہے۔