حیدرآباد کے شہری عید پر بھی گراں فروشوں کے رحم و کرم پر
سبزیوں کی قیمتوں نے عوام کے ہوش اڑا دیے،ٹماٹر 2سو روپے فی کلو فروخت کیا گیا
قیمتوں میں بے انتہا اضافے کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد مطلوبہ مقدار سے کم سبزی خرید کر گھر لے کر گئی. فوٹو: فائل
RIO DE JANEIRO:
حیدرآباد کے شہری عید کے موقع پر بھی گراں فروشوں کے رحم و کرم پر رہے۔
سبزیوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے عوام کے ہوش اڑا دیے۔ ٹماٹر کی قیمت تاریخ میں پہلی بار فی کلو ڈبل سنچری کراس کر گئی جبکہ کھیرا بھی عام لوگوں کی دسترس سے باہر رہا، دودھ دہی تو شہر سے ناپید ہی ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق حیدرآباد کے شہری رمضان المبارک میں ابھی پھلوں کی گراں فروشی کے وار سہ کر ہی بیٹھے تھے کہ عید کے موقع پر سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی خوشیاں ماند کر دیں۔ چاند رات کو جب عید کے پکوان بریانی، قورمہ، کڑھائی میں استعمال ہونے والی سبزی خریدنے نکلے تو انہیں ایسا لگا کہ وہ کسی سبزی فروش کے پاس نہیں بلکہ کسی جوہری کے ہاں آئے ہیں۔ عید کے ایام میں ٹماٹر کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں۔ غریب آبادی والے علاقوں میں ٹماٹر160 سے180 روپے کلو اور پوش علاقوں میں 2سو سے240 روپے فی کلو تک فروخت کیا گیا۔
جب کہ کھیرا 160 سے 2 سو روپے کلو تک فروخت کیا گیا۔ لیموں 120 سے 160 روپے کلو،ادرک160سے180 روپے کلو، ہری مرچ80 روپے سے سو روپے کلو، پیاز60 سے 80 روپے کلو تک فروخت کیا گیا، جب کہ ہرا دھنیا اور پودینے کی قیمتوں میں بھی من مانا اضافہ کر دیا گیا۔ اس موقع پر سبزیوں کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ دکانداروں کے نخرے بھی بڑھ گئے، اول تو سبزیوں کی قیمتیں سن کرہی لوگوں کے ہوش اڑ گئے اگر کسی نے ہمت کر کے دکاندار سے بھاؤ تاؤ کی کوشش کی تو عید کا پورا پورا فائدہ اٹھانے والے دکانداروں نے اس بے چارے کو بے بھاؤ کی سنا دیں۔
قیمتوں میں بے انتہا اضافے کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد مطلوبہ مقدار سے کم سبزی خرید کر گھر لے کر گئی، جب کہ غریب شہریوں نے تو خالی ہاتھ ہی لوٹ جانے میں عافیت جانی۔ ٹماٹر کی قیمتیں لوگوں کی دسترس سے نکل جانے کے باعث لوگوں نے عید کے دنوں میں کھانوں کی تیاری میں دہی کا استعمال کیا، جس کی وجہ سے پورے شہر میں عید کے تینوں دن، دہی محض چند گھنٹوں ہی میں ختم ہو گیا، جس کی وجہ سے شہری ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک دہی ڈھونڈتے ہی رہے۔ دوسری جانب شہر و لطیف آباد کے اکثر مقامات پر عید کے ایام میں دودھ اور دہی نایاب ہو گیا۔
شہری شیر خورمہ کے لیے دودھ اور بریانی قورمہ کے لیے دہی کی تلاش میں سرگرداں رہے، لیکن ڈیری شاپس والوں نے دودھ دہی کی قلت کا پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا۔ عید کے موقع پر گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ بچھیا کا ہڈی والا گوشت جو عام دنوں میں تین سو سے تین سو بیس روپے اور بغیر ہڈی کا تین سو ساٹھ روپے کلو تک فروخت کیا جاتا ہے۔
چاند رات سے عید کے ایام تک ہڈی والا گوشت تین سو چالیس اور بغیر ہڈی کا گوشت چار سو روپے کلو تک فروخت کیا گیا، جب کہ مرغی کا گوشت دو سو پچاس سے دو سو ساٹھ روپے کلو تک فروخت کیا گیا۔ اسی طرح ٹھنڈے مشروبات کی قیمتوں میں بھی ایک سے دو روپے اضافی وصول کیے گئے اور کہیں جواز عیدی تو کہیں لوڈ شیڈنگ کے باعث مشروبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اضافی متبادل نظام چلانے کے کرائے کو جواز بنایا گیا۔
حیدرآباد کے شہری عید کے موقع پر بھی گراں فروشوں کے رحم و کرم پر رہے۔
سبزیوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے عوام کے ہوش اڑا دیے۔ ٹماٹر کی قیمت تاریخ میں پہلی بار فی کلو ڈبل سنچری کراس کر گئی جبکہ کھیرا بھی عام لوگوں کی دسترس سے باہر رہا، دودھ دہی تو شہر سے ناپید ہی ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق حیدرآباد کے شہری رمضان المبارک میں ابھی پھلوں کی گراں فروشی کے وار سہ کر ہی بیٹھے تھے کہ عید کے موقع پر سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی خوشیاں ماند کر دیں۔ چاند رات کو جب عید کے پکوان بریانی، قورمہ، کڑھائی میں استعمال ہونے والی سبزی خریدنے نکلے تو انہیں ایسا لگا کہ وہ کسی سبزی فروش کے پاس نہیں بلکہ کسی جوہری کے ہاں آئے ہیں۔ عید کے ایام میں ٹماٹر کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں۔ غریب آبادی والے علاقوں میں ٹماٹر160 سے180 روپے کلو اور پوش علاقوں میں 2سو سے240 روپے فی کلو تک فروخت کیا گیا۔
جب کہ کھیرا 160 سے 2 سو روپے کلو تک فروخت کیا گیا۔ لیموں 120 سے 160 روپے کلو،ادرک160سے180 روپے کلو، ہری مرچ80 روپے سے سو روپے کلو، پیاز60 سے 80 روپے کلو تک فروخت کیا گیا، جب کہ ہرا دھنیا اور پودینے کی قیمتوں میں بھی من مانا اضافہ کر دیا گیا۔ اس موقع پر سبزیوں کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ دکانداروں کے نخرے بھی بڑھ گئے، اول تو سبزیوں کی قیمتیں سن کرہی لوگوں کے ہوش اڑ گئے اگر کسی نے ہمت کر کے دکاندار سے بھاؤ تاؤ کی کوشش کی تو عید کا پورا پورا فائدہ اٹھانے والے دکانداروں نے اس بے چارے کو بے بھاؤ کی سنا دیں۔
قیمتوں میں بے انتہا اضافے کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد مطلوبہ مقدار سے کم سبزی خرید کر گھر لے کر گئی، جب کہ غریب شہریوں نے تو خالی ہاتھ ہی لوٹ جانے میں عافیت جانی۔ ٹماٹر کی قیمتیں لوگوں کی دسترس سے نکل جانے کے باعث لوگوں نے عید کے دنوں میں کھانوں کی تیاری میں دہی کا استعمال کیا، جس کی وجہ سے پورے شہر میں عید کے تینوں دن، دہی محض چند گھنٹوں ہی میں ختم ہو گیا، جس کی وجہ سے شہری ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک دہی ڈھونڈتے ہی رہے۔ دوسری جانب شہر و لطیف آباد کے اکثر مقامات پر عید کے ایام میں دودھ اور دہی نایاب ہو گیا۔
شہری شیر خورمہ کے لیے دودھ اور بریانی قورمہ کے لیے دہی کی تلاش میں سرگرداں رہے، لیکن ڈیری شاپس والوں نے دودھ دہی کی قلت کا پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا۔ عید کے موقع پر گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ بچھیا کا ہڈی والا گوشت جو عام دنوں میں تین سو سے تین سو بیس روپے اور بغیر ہڈی کا تین سو ساٹھ روپے کلو تک فروخت کیا جاتا ہے۔
چاند رات سے عید کے ایام تک ہڈی والا گوشت تین سو چالیس اور بغیر ہڈی کا گوشت چار سو روپے کلو تک فروخت کیا گیا، جب کہ مرغی کا گوشت دو سو پچاس سے دو سو ساٹھ روپے کلو تک فروخت کیا گیا۔ اسی طرح ٹھنڈے مشروبات کی قیمتوں میں بھی ایک سے دو روپے اضافی وصول کیے گئے اور کہیں جواز عیدی تو کہیں لوڈ شیڈنگ کے باعث مشروبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اضافی متبادل نظام چلانے کے کرائے کو جواز بنایا گیا۔