غربت مکائو پروگرام کا اجرا

ضرورت اس جامع پروگرام پر موثر عملدرآمد اور توجہ مرکوز رکھنے کی ہے۔

ضرورت اس جامع پروگرام پر موثر عملدرآمد اور توجہ مرکوز رکھنے کی ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے ملک سے غربت کے خاتمہ کے لیے ''احساس اور کفالت'' کے نام سے پروگرام جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں صحت ، تعلیم ، روٹی کپڑا اور مکان سمیت دیگر سہولتیں عوام کے بنیادی حقوق ہوں گے۔

اس کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے گی ' وزیراعظم نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر جہاد کرنا ہے، تخفیف غربت کا کوئی ایک فارمولہ نہیں بلکہ اس کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت پڑتی ہے، ''احساس'' کے نام سے تخفیف غربت کے لیے جو پروگرام شروع کیا جا رہا ہے اس کے نتیجہ میں پاکستان غربت سے نکلے گا، پسماندہ اور کمزور طبقات کے لیے 80 ارب روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے، اس رقم کو آیندہ دو سال میں 120 ارب تک بڑھایا جائے گا۔ وہ بدھ کو کنونشن سینٹر میں پاورٹی ایلیویشن کوآرڈینیشن کونسل کے تحت ''احساس'' کے نام سے تخفیف غربت کے جامع پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

غربت ، مہنگائی اور بیروزگاری بلاشبہ ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، ملک کی ایک بڑی افرادی طاقت کی صلاحیتیں نہ صرف ضایع جارہی ہیں بلکی انسانی ترقی، عوامی خوشحالی اور اقتصادیات کے استحکام کے دعوے بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوتے گئے ہیں، ہر حکومت نے عوام کی فلاح وبہبود کے دعوے کیے مگر غربت کے خاتمہ کے لیے جس سیاسی ارادہ، نیت نیتی، عوام دوستی، معاشرتی ارتقا ، اقدار اور فکری و سائنسی بلندیوں کو سر کرنے کی ضرورت تھی اس سے ہمیشہ اغماض برتا گیا۔اس تناطر میں حکومت کا غربت مکاؤ پروگرام کے بارے میں نیک خواہشات کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے ۔

اس عظیم ذمے داری سے نمٹنے کے لیے ایک مستحکم معیشت کا سہارا ناگزیر ہے ،اگر ملک کو ایک شفاف، متحرک، ڈائنامک اور نتیجہ خیز اقتصادی ، معاشی اور سماجی سمت دے دی جائے تو پاکستانی معیشت نہ صرف آیندہ ایک دوعشروں میں دنیا کی کسی بھی طاقتور معیشت کے مد مقابل آسکتی ہے بلکہ غریبوں کے دن بھی بدل سکتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ57 لاکھ خواتین کے سیونگ اکاؤنٹس بنائے جائیں گے، دیہات میں غریب خواتین کو دیسی مرغیاں اور بکریاں دیں گے، ہر شہر میں بے سہارا افراد کے لیے پناہ گاہیں بنائیں گے، بلا سود قرضوں کے لیے پانچ ارب روپے رکھے گئے ہیں، پاورٹی ایلیویشن فنڈ میں 25 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، سب سے پسماندہ 45 اضلاع کے 1200 دیہات میں کنیکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، بہترین بلدیاتی نظام متعارف کرایا جائے گا، حکومتی اراضی پر جتنے بھی کھوکھے ہیں ان میں غریبوں کا کوٹہ مقرر کیا جائے گا۔


اسلام آباد کی کچی آبادیوں کے مکینوں کو فلیٹ بنا کر مالکانہ حقوق دیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے غربت کے خاتمہ کا جہاد شروع کیا ہے'انھوں نے ملک میں صحت کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 43 فیصد پاکستانی بچوں کی اسٹنٹڈ گروتھ ہے' وزیراعظم نے کہا کہ یہ مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وضع کی گئی ہے' یہ پہلا قدم ہے۔پروگرام میں2021ء تک 120 ارب مزید بڑھائیں گے۔

سوشل پروٹیکشن اینڈ پاورٹی ایلیویشن کے نام سے نئی وزارت قائم کی جائے گی جو اس پروگرام کی کوآرڈینیشن کرے گی تاکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، بیت المال اور زکوٰۃ کے اداروں سمیت جو کئی ادارے عوامی فلاح و بہبود کا کام کر رہے ہیں، ان کو ایک جگہ سے کوآرڈینیٹ کیا جا سکے۔ ون ونڈو آپریشن کے ذریعے عوام کو ایک ہی جگہ ساری سہولیات فراہم کریں گے ۔ حکومت کا منصوبہ کثیر جہتی ہے ، ضرورت اس کی تکمیل کی ہے جس کے لیے بڑے وسائل اور موثر حکمت عملی اشد لازمی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب تک ہمارا این ایف سی ایوارڈآبادی کے لحاظ سے جاتا ہے۔ ہم نے اس حوالے سے بھی بات چیت کی ہے۔ پروانشل فنانس ایوارڈ میں پسماندہ اضلاع کو زیادہ پیسے دیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب میں راجن پور کا علاقہ پسماندہ ترین علاقوں میں شامل ہے، وہاں ایک فرد پر خرچ ڈھائی ہزار روپے آتا ہے جب کہ لاہور میں اوسطاً ایک فرد پر 70 ہزار روپے خرچ ہے۔ اس طرح غریب پیچھے رہ جاتا ہے۔دیہات میں کسانوں کے لیے زرعی پالیسی بنائی ہے جو انشاء اللہ جلد منظر عام پر آ جائے گی ۔

ادھر عمران خان کے افغانستان کے بارے میں بیان پر افغان حکومت اور امریکی نمایندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے شدید تنقید کی ہے ، زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کا مستقبل صرف افغان عوام کے لیے ہے جب کہ افغان حکومت نے الزام لگایا کہ عمران خان کا بیان پاکستان کی جانب سے کابل کے معاملات میں براہ راست مداخلت ہے۔ تاہم پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان کے بارے میں دیا گیا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے جس کی وجہ سے غیر ضروری رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ تاہم افغان حکومت کو اس مسئلہ پر پاکستان کے اب تک کے کلیدی کردار کوبرائے امن کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

بہرحال حکومت نے غربت کے خاتمہ کے لیے صائب پہل کی ہے، ضرورت اس جامع پروگرام پر موثر عملدرآمد اور توجہ مرکوز رکھنے کی ہے کیونکہ خارجی اور داخلی چیلنجز بھی ہوشربا اور بے پناہ ہیں۔ سنبھل کر آگے قدم بڑھانا خطے کے مفاد میں ہے۔
Load Next Story