نیشنل ایکشن پلان عملدرآمد کا متقاضی
عالمی قوتیں خطرے کی گھنٹی بجانا چاہتی ہیں، حکمرانوں کو اس کا ادراک کرنا ہوگا۔
عالمی قوتیں خطرے کی گھنٹی بجانا چاہتی ہیں، حکمرانوں کو اس کا ادراک کرنا ہوگا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں گی ، پاک سرزمین پر کسی بھی مسلح گروپ کو کسی قسم کی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد حکومت کی پہلی ترجیح ہے، نیشنل ایکشن پلان تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ پلان ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی داخلی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز، صوبائی سیکریٹریز اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد قومی ضرورت ہے، یہ وہ کمٹمنٹ ہے جو عسکری و سیاسی قیادت نے امن دشمن قوتوں کے خاتمہ کے ضمن میں عوام سے کر رکھی ہے، یہ ان معصوم طالب علموں کی روحوں سے بھی تجدید وفا کا ایک لازمی حوالہ ہے جو آرمی پبلک اسکول میں دہشتگردی کا نشانہ بنے۔ نیز قومی یکجہتی، ملکی سالمیت،دہشتگردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے بہیمانہ جرائم اور غیر انسانی واقعات کی روک تھام کے لیے اس پلان کو اس کی روح اور الفاظ کے ساتھ بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے۔
نیشنل پلان پر عمل کی اس لیے بھی سخت ضرورت ہے کہ بعض عناصر اسی بحث میں وقت برباد کرنے کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں کہ سیاسی اسٹیک ہولڈرز نے سنجیدگی کے ساتھ نیشنل ایکش پلان کی اسپرٹ کا درست ادراک ہی نہیں کیا اور دیگر اہم فیصلوں کی طرح ایکشن پلان پر بھی ویسا اشتراک عمل ، اجتماعی سوچ اور مطلوبہ قوت محرکہ نظر نہیں آئی جس کی روشنی میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ریاست دشمن قوتوں اور سیاسی نظام کو سبوتاژ کرنے والے عناصر سے نمٹنے میں فکری،عملی اور انتظامی یکسوئی اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتیں۔
صورتحال یوں بھی انارکی اور بے سمتی کا شکار رہی کہ کالعدم تنظیموں نے آزادانہ سرگرمیوں کے ذریعے ریاستی اداروں اور حکومتوں کے لیے مسائل پیدا کیے ، عالمی رائے عامہ کو پاکستان کے بارے میں قیاس آرائیوں، الزامات اور مخاصمانہ پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملا ، سب سے زیادہ فائدہ بھارت نے اٹھانے کی کوشش کی اس نے مقبوضہ کشمیر میں بربریت کے ریکارڈ قائم کیے۔
کنٹرول لائن پر کشیدگی کے ساتھ ہی اس نے علی الاعلان بلوچستاں میں مداخلت اور دہشتگردی کی خفیہ کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دیں۔ بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعاتی تسلسل میں ارباب اختیار کے لیے سوچنے کا کافی سامان ہے۔بھارت نے پلوامہ حملہ پر جو ڈوزیئر پاکستان کو بھیجا اس سے وہ مسعود اظہر کا تعلق ثابت نہیں کرسکا ۔54 افراد اور22 مقامات کا جائزہ لیا گیا، کہیں کوئی کیمپ نظر نہیں آیا۔
بھارت سے مزید معلومات مانگی گئی ہیں۔ تاہم یہ خوش آیند بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو کالعدم تنظیموں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن پر بریفنگ دی گئی اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ دباؤ بھی عالمی سطح پر ملکی معیشت پر اپنے سامراجی فیصلے مسلط کرنے سے مشروط ہے۔
ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ماسٹر مائنڈ اور بنیادی ہدف پر نگاہ رکھنی چاہیے، اسے کالعدم تنظیموں کے اثاثوں، ان کے انفرااسٹرکچر سے متعلق حقائق کی تلاش ہے، اس کے باقی 27 نکات کا تعلق منی لانڈرنگ کی فنڈنگ ،دہشتگردی اور ان اداروں سے ہے جو ان سے ملحق ہیں لہذا سیاسی اور عسکری قیادت کے پاس ایک ہی چوائس ہے کہ ایکشن پلان پر اسطرح عمل کرے کہ دنیا ہمارے کہے اور کیے پر یقین کرلے ۔
ضرورت مدارس میں اصلاحات کے حوالے سے سنجیدہ غور و فکر اور صائب اقدامات کی ہے۔پاکستان اورایف اے ٹی ایف ایشیا پیسفک گروپ کے درمیان مذاکرات کاتیسرا اورآخری دور ختم ہوگیا۔ جمعرات کو پاکستانی وفد کی قیادت ڈی جی ایم او یو نے کی، ایس ای سی پی اور وزارت خارجہ حکام نے بریفنگ دی۔
اس دوران منی لانڈرنگ کے خلاف قوانین کے نفاذ،دہشتگردوں کی مالی مدد روکنے کے اقدامات، مشکوک ترسیلات زرکی نگرانی، مالیاتی اداروں اورکمپنیوں کے خلاف کارروائی،بے نامی بینک اکاؤنٹس اورجائیدادیں ضبط کرنے کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ معاہدوں سے آگاہ کیاگیا، ایف اے ٹی ایف نے ابتدائی عملدرآمد رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی جب کہ 8کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی پرعدم اطمینان ظاہرکرتے ہوئے قراردیاکہ قانون نافذ کرنے والے اورخفیہ اداروں میں تعاون کی کمی ہے، جہاں کارروائی ہونی چاہیے، وہاں نہیں کی جارہی جب کہ جہاں نہیں ہونی چاہیے وہاں کی جارہی ہے،اس کے طریقہ کار پر بھی اعتراض ہے۔
وفد نے نئے قوانین درست مگر عملی اقدامات ناکافی قراردیتے ہوئے کہا دہشت گردوں کو بینکوں کے ذریعے رقوم کی منتقلی روک لی گئی مگر جلسے، جلوسوں اور تقاریب میں فنڈزاکٹھے کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جسے روکنے کے لیے صوبائی اورضلع سطح پرکچھ نہیں کیا گیا۔
کالعدم تنظیموں کے لیے نقد رقوم لے جانے والوں پر بھی نظر رکھی جائے ۔خیال رہے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ ستمبر میں ہوگا۔ ایک اطلاع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ہدایت کی ہے کہ اس حوالے سے اپوزیشن رہنما جہاں چاہیں انھیں بریفنگ دی جائے۔ وزیراعظم نے وزیرخارجہ کو ہدایت کی کہ نیشنل ایکشن پلان پر اپوزیشن کے تحفظات جلد دور کیے جائیں، فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر بھی بات چیت آگے بڑھائی جائے، ذرایع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر شاہ محمود قریشی نے جلد اپوزیشن سے دوبارہ رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعتیں نیشنل ایکشن پلان پر محدود بریفنگ کی مخالفت کر رہی ہیں۔ادھر امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہرکو ''بلیک لسٹ'' کرنے کی تحریک دوبارہ پیش کر دی، امریکی قرارداد کا مسودہ تیار کرنے میں برطانیہ اور فرانس نے مدد دی۔ چین نے امریکا پرزوردیا ہے کہ مسعود اظہر پر پابندی کے مسئلے میں احتیاط برتی جائے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ کمیٹی کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے جمعرات کو بیجنگ میں معمول کی ایک بریفنگ میں کہا کہ مسعود اظہر پر پابندی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور چین مذاکرات اور اتفاق رائے سے اس کے مناسب حل کے لیے کوششیں کررہا ہے ۔
مذکورہ سیناریو سے محسوس ہوتا ہے کہ عالمی قوتیں خطرے کی گھنٹی بجانا چاہتی ہیں، حکمرانوں کو اس کا ادراک کرنا ہوگا جب کہ دوراندیشی کا تقاضہ ہے کہ سیاست دان اس نازک گھڑی میں قومی اتفاق رائے سے دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنادیں۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی داخلی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز، صوبائی سیکریٹریز اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد قومی ضرورت ہے، یہ وہ کمٹمنٹ ہے جو عسکری و سیاسی قیادت نے امن دشمن قوتوں کے خاتمہ کے ضمن میں عوام سے کر رکھی ہے، یہ ان معصوم طالب علموں کی روحوں سے بھی تجدید وفا کا ایک لازمی حوالہ ہے جو آرمی پبلک اسکول میں دہشتگردی کا نشانہ بنے۔ نیز قومی یکجہتی، ملکی سالمیت،دہشتگردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے بہیمانہ جرائم اور غیر انسانی واقعات کی روک تھام کے لیے اس پلان کو اس کی روح اور الفاظ کے ساتھ بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے۔
نیشنل پلان پر عمل کی اس لیے بھی سخت ضرورت ہے کہ بعض عناصر اسی بحث میں وقت برباد کرنے کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں کہ سیاسی اسٹیک ہولڈرز نے سنجیدگی کے ساتھ نیشنل ایکش پلان کی اسپرٹ کا درست ادراک ہی نہیں کیا اور دیگر اہم فیصلوں کی طرح ایکشن پلان پر بھی ویسا اشتراک عمل ، اجتماعی سوچ اور مطلوبہ قوت محرکہ نظر نہیں آئی جس کی روشنی میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ریاست دشمن قوتوں اور سیاسی نظام کو سبوتاژ کرنے والے عناصر سے نمٹنے میں فکری،عملی اور انتظامی یکسوئی اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتیں۔
صورتحال یوں بھی انارکی اور بے سمتی کا شکار رہی کہ کالعدم تنظیموں نے آزادانہ سرگرمیوں کے ذریعے ریاستی اداروں اور حکومتوں کے لیے مسائل پیدا کیے ، عالمی رائے عامہ کو پاکستان کے بارے میں قیاس آرائیوں، الزامات اور مخاصمانہ پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملا ، سب سے زیادہ فائدہ بھارت نے اٹھانے کی کوشش کی اس نے مقبوضہ کشمیر میں بربریت کے ریکارڈ قائم کیے۔
کنٹرول لائن پر کشیدگی کے ساتھ ہی اس نے علی الاعلان بلوچستاں میں مداخلت اور دہشتگردی کی خفیہ کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دیں۔ بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعاتی تسلسل میں ارباب اختیار کے لیے سوچنے کا کافی سامان ہے۔بھارت نے پلوامہ حملہ پر جو ڈوزیئر پاکستان کو بھیجا اس سے وہ مسعود اظہر کا تعلق ثابت نہیں کرسکا ۔54 افراد اور22 مقامات کا جائزہ لیا گیا، کہیں کوئی کیمپ نظر نہیں آیا۔
بھارت سے مزید معلومات مانگی گئی ہیں۔ تاہم یہ خوش آیند بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو کالعدم تنظیموں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن پر بریفنگ دی گئی اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ دباؤ بھی عالمی سطح پر ملکی معیشت پر اپنے سامراجی فیصلے مسلط کرنے سے مشروط ہے۔
ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ماسٹر مائنڈ اور بنیادی ہدف پر نگاہ رکھنی چاہیے، اسے کالعدم تنظیموں کے اثاثوں، ان کے انفرااسٹرکچر سے متعلق حقائق کی تلاش ہے، اس کے باقی 27 نکات کا تعلق منی لانڈرنگ کی فنڈنگ ،دہشتگردی اور ان اداروں سے ہے جو ان سے ملحق ہیں لہذا سیاسی اور عسکری قیادت کے پاس ایک ہی چوائس ہے کہ ایکشن پلان پر اسطرح عمل کرے کہ دنیا ہمارے کہے اور کیے پر یقین کرلے ۔
ضرورت مدارس میں اصلاحات کے حوالے سے سنجیدہ غور و فکر اور صائب اقدامات کی ہے۔پاکستان اورایف اے ٹی ایف ایشیا پیسفک گروپ کے درمیان مذاکرات کاتیسرا اورآخری دور ختم ہوگیا۔ جمعرات کو پاکستانی وفد کی قیادت ڈی جی ایم او یو نے کی، ایس ای سی پی اور وزارت خارجہ حکام نے بریفنگ دی۔
اس دوران منی لانڈرنگ کے خلاف قوانین کے نفاذ،دہشتگردوں کی مالی مدد روکنے کے اقدامات، مشکوک ترسیلات زرکی نگرانی، مالیاتی اداروں اورکمپنیوں کے خلاف کارروائی،بے نامی بینک اکاؤنٹس اورجائیدادیں ضبط کرنے کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ معاہدوں سے آگاہ کیاگیا، ایف اے ٹی ایف نے ابتدائی عملدرآمد رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی جب کہ 8کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی پرعدم اطمینان ظاہرکرتے ہوئے قراردیاکہ قانون نافذ کرنے والے اورخفیہ اداروں میں تعاون کی کمی ہے، جہاں کارروائی ہونی چاہیے، وہاں نہیں کی جارہی جب کہ جہاں نہیں ہونی چاہیے وہاں کی جارہی ہے،اس کے طریقہ کار پر بھی اعتراض ہے۔
وفد نے نئے قوانین درست مگر عملی اقدامات ناکافی قراردیتے ہوئے کہا دہشت گردوں کو بینکوں کے ذریعے رقوم کی منتقلی روک لی گئی مگر جلسے، جلوسوں اور تقاریب میں فنڈزاکٹھے کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جسے روکنے کے لیے صوبائی اورضلع سطح پرکچھ نہیں کیا گیا۔
کالعدم تنظیموں کے لیے نقد رقوم لے جانے والوں پر بھی نظر رکھی جائے ۔خیال رہے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ ستمبر میں ہوگا۔ ایک اطلاع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ہدایت کی ہے کہ اس حوالے سے اپوزیشن رہنما جہاں چاہیں انھیں بریفنگ دی جائے۔ وزیراعظم نے وزیرخارجہ کو ہدایت کی کہ نیشنل ایکشن پلان پر اپوزیشن کے تحفظات جلد دور کیے جائیں، فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر بھی بات چیت آگے بڑھائی جائے، ذرایع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر شاہ محمود قریشی نے جلد اپوزیشن سے دوبارہ رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعتیں نیشنل ایکشن پلان پر محدود بریفنگ کی مخالفت کر رہی ہیں۔ادھر امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہرکو ''بلیک لسٹ'' کرنے کی تحریک دوبارہ پیش کر دی، امریکی قرارداد کا مسودہ تیار کرنے میں برطانیہ اور فرانس نے مدد دی۔ چین نے امریکا پرزوردیا ہے کہ مسعود اظہر پر پابندی کے مسئلے میں احتیاط برتی جائے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ کمیٹی کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے جمعرات کو بیجنگ میں معمول کی ایک بریفنگ میں کہا کہ مسعود اظہر پر پابندی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور چین مذاکرات اور اتفاق رائے سے اس کے مناسب حل کے لیے کوششیں کررہا ہے ۔
مذکورہ سیناریو سے محسوس ہوتا ہے کہ عالمی قوتیں خطرے کی گھنٹی بجانا چاہتی ہیں، حکمرانوں کو اس کا ادراک کرنا ہوگا جب کہ دوراندیشی کا تقاضہ ہے کہ سیاست دان اس نازک گھڑی میں قومی اتفاق رائے سے دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنادیں۔