تلخیاں ختم کرنے اور ثالثی کی پیشکش
بھارت کا جنگی جنون حد پار کرچکا ہے.
بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ فوٹو : فائل
KARACHI:
بھارت کا جنگی جنون حد پار کرچکا ہے ۔ کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس سے ایک اور شخص زخمی ہو گیا جب کہ پاکستان نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے ایک شخص کی شہادت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزیوں پر پاک بھارت امن عمل متاثر ہو رہا ہے، بھارت جنگ بندی کے 2003ء کے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائے۔بھارت کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیوں کا تسلسل افسوس ناک ہے تاہم عالمی برادری نے اس پیدا کردہ صورتحال کا نوٹس لینا بھی شروع کردیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان و بھارت متفق ہوں تو وہ کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کے لیے تیار ہیں۔
ایک پیشگی انٹرویو میں بان کی مون نے جموں کشمیر میں تشدد کے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی ادارہ کے فوجی مبصرین لائن آف کنٹرول پرکسی تصادم سے گریز کے لیے کوشاں ہیں ، امید ہے دونوں ممالک کی قیادت اعتمادسازی کے لیے اقدامات پر بات چیت جاری رکھے گی۔ تاہم بھارتی حکمراں، اپوزیشن، میڈیا اور بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی کا طرز عمل عجیب ہسٹیریائی کیفیت سے دوچار ہے، اور زمینی صورتحال اور ورکنگ بائونڈری کے حوالہ سے پیدا شدہ تنائو پر حقیقت پسندی اور معروضیت کے بجائے شعلوں کو ہوا دینے میں مصروف ہے۔ ادھرکنٹرول لائن پر اشتعال انگیز کارروائیوں کو بڑھاتے ہوئے بھارتی فوج نے پیر کولائن آف کنٹرول پر نکیال سیکٹر میں سیز فائر کی تین بار خلاف ورزی کی ۔راولا کوٹ میں بھارتی فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ملی ،عسکری ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے گذشتہ رات 8.50 بجے پاکستان کی نانگا، ٹوپہ اور پانامہ پوسٹوں اور شکر گڑھ کے قریب سر حدی علاقہ بڑا بھائی جگوال میں بلا اشتعال فائرنگ کی جس میں ایک شخص زخمی ہوا ، بھارتی فائرنگ کے جواب میں چناب رینجرز نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔
بھارت کے وزیر دفاع اے کے انتھونی نے دھمکی دی ہے کہ تحمل اور صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ فوج کو فری ہینڈ دے دیا ہے اور وہ کوئی بھی قدم اٹھانے کے لیے آزاد اور تیار ہے۔ادھر بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنرسلمان بشیر نے بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید کی جانب سے بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی ذمے داری کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی فوجیوںکی ہلاکت کا ذمے دار نہیں۔ پیر کو بھارتی ٹی وی چینلز کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکا رہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو پاکستا ن کی پالیسی میں ترجیحی حیثیت حاصل ہے۔ بھارتی فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشنز نے 6اگست کو ہاٹ لائن پر رابطے کے دوران اپنے پاکستانی ہم منصب کو 5بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں نہیں بتایا ۔اس لیے مجھے یہ لگتا ہے اس واقعے کو ''واقعہ'' بنانے میں منصوبہ بندی کے تحت کام کیا گیا تاہم میں اس کی تخصیص کسی پر ڈالنا نہیں چاہتا۔
بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی باتیں بعد میں سامنے آئیں ۔یہ اعتراف حقیقت ایک سفارت کار کا سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے کی بازگشت ہے جب کہ بھارتی الیکٹرانک میڈیا اور تھنک ٹینک پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائیوں کا ریکارڈ قائم کرچکے ہیں ۔ لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی بلاجواز ہے جس کی کوئی اخلاقی،عسکری اور سیاسی بنیاد نہیں، یہ چنگاری کسی خاص مقصد سے بھڑکائی گئی ہے ۔سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے جو ہورہا ہے وہ دبائو کا نتیجہ ہے، اگر وردی پہن کر حملہ کرنے والوں کی بات ہے تو صرف وردی پہننے سے وہ پاکستانی نہیں ہو سکتے کیونکہ ڈی آئی خان جیل پر حملہ کرنیوالوں نے بھی وردی پہن رکھی تھی۔ دونوں ملکوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ایک دوسرے کا بارڈر کراس کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی نے امن مذاکرات شروع کیے تھے اور 2014 کے الیکشن کے لیے خود ہی برعکس رویہ اختیار کر رہی ہے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات حل کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل بیٹھ کر نئی شروعات کرے، پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل پر وزیراعظم نواز شریف نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئیں نئی شروعات کریں، آئیں مل بیٹھ کر پرامن ماحول میں دوستانہ طریقے سے تمام اہم معاملات حل کریں، وزیراعظم نے کہا کہ1947 سے قبل پاکستان اور بھارت کے لوگ اکٹھے رہتے تھے تاہم اب آزادی کے65 سال گزر گئے ہیں اور دونوں ممالک کواپنی بہتری اور خوشحالی کے لیے تلخیاں بھلا کر تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ادھر لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیز کارروائیوں کے باعث مقبوضہ کشمیر کے علاقے جموں میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے جاری مسلم کش فسادات کے خلاف پیر کو احتجاجی مظاہرے اور ہڑتال کی گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق قابض انتظامیہ نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو سرینگر میں ایک پر امن احتجاجی مارچ کی قیادت سے روکنے کے لیے گرفتار کرکے کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن میں نظربند کردیا، قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں شبیر احمد شاہ ،نعیم احمد خان اور ظفر اکبر بٹ کو مسلسل پانچویں روز بھی گھروں میں نظربندرکھا۔
مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق اور بزرگ کشمیری حریت رہنماء سید علی گیلانی نے کشتواڑ اور صوبہ جموں میں فرقہ وارانہ مسلم کُش فسادات پر شدید غم و غصہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ، پولیس اور بھارت نواز سیاست دان علاقے کے مسلمانوں کی مشکلات پر خاموش تماشی بنے ہوئے ہیں ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کی کال پر کنٹرول لائن پر بھارت کی طرف سے فائرنگ کے خلاف آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بیرون ممالک تارکین وطن نے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ ان احتجاجی ریلیوں میں لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ، مقبوضہ کشمیر میں مساجد کی بیحرمتی، بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی اور دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن پر بھارتی انتہا پسندوں کے حملے پر بھارتی حکمرانوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام عالم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارتی جارحیت کا نوٹس لے اور بھارت کو برصغیر کا امن برباد کرنے سے باز رکھے۔ صدر آزاد جموں و کشمیر سردار یعقوب خان نے اپنے ایک مذمتی بیان میں بھارتی افواج کی بلا اشتعال گولہ باری اور اندھا دھند فائرنگ کی شدید مذمت کی ۔
بھارت میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر سلمان بشیر نے بلاشبہ بھارتی دو عملی اور چانکیائی عسکری سیاست کوطشت از بام کیا ہے ،ان کی معروضات کو ممتاز بھارتی دانشور اور کالم نویس کلدیپ نیئر کے اس شکوے کے تناطر میں دیکھنا چاہیے کہ ہم پڑوسی ہیں مگر دوست نہیں، جب کہ دوستی کا جہاں تک تعلق ہے وزیراعظم نواز شریف ماضی میں بھی اور گزشتہ روز کے ان کے بیانات اس امر کی واضح گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے دو طرفہ تعلقات کی بحالی اور خطے میں امن، رواداری، تجارت کے فروغ اور تنازعات کے پر امن حل کی طرف بار بار ضرورت کا احساس دلاتے رہے ہیں ۔مگر ہمسائیگی کی پر امن بنیادوں پر تعمیر کے لیے بھارت کو اپنے مذموم عزائم سے دست کش ہونا پڑیگا، کشمیر سمیت تمام تنازعات کا واحد حل صرف پاک بھارت مکالمہ ہے ،اور اس بات چیت میں بان کی مون کی ثالثی مفید ثابت ہوسکتی ہے تو کشمیریوں کی اس اہم موقع پر شمولیت کا بھی سب کو خیرمقدم کرنا چاہیے۔
بھارت کا جنگی جنون حد پار کرچکا ہے ۔ کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس سے ایک اور شخص زخمی ہو گیا جب کہ پاکستان نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے ایک شخص کی شہادت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزیوں پر پاک بھارت امن عمل متاثر ہو رہا ہے، بھارت جنگ بندی کے 2003ء کے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائے۔بھارت کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیوں کا تسلسل افسوس ناک ہے تاہم عالمی برادری نے اس پیدا کردہ صورتحال کا نوٹس لینا بھی شروع کردیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان و بھارت متفق ہوں تو وہ کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کے لیے تیار ہیں۔
ایک پیشگی انٹرویو میں بان کی مون نے جموں کشمیر میں تشدد کے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی ادارہ کے فوجی مبصرین لائن آف کنٹرول پرکسی تصادم سے گریز کے لیے کوشاں ہیں ، امید ہے دونوں ممالک کی قیادت اعتمادسازی کے لیے اقدامات پر بات چیت جاری رکھے گی۔ تاہم بھارتی حکمراں، اپوزیشن، میڈیا اور بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی کا طرز عمل عجیب ہسٹیریائی کیفیت سے دوچار ہے، اور زمینی صورتحال اور ورکنگ بائونڈری کے حوالہ سے پیدا شدہ تنائو پر حقیقت پسندی اور معروضیت کے بجائے شعلوں کو ہوا دینے میں مصروف ہے۔ ادھرکنٹرول لائن پر اشتعال انگیز کارروائیوں کو بڑھاتے ہوئے بھارتی فوج نے پیر کولائن آف کنٹرول پر نکیال سیکٹر میں سیز فائر کی تین بار خلاف ورزی کی ۔راولا کوٹ میں بھارتی فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ملی ،عسکری ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے گذشتہ رات 8.50 بجے پاکستان کی نانگا، ٹوپہ اور پانامہ پوسٹوں اور شکر گڑھ کے قریب سر حدی علاقہ بڑا بھائی جگوال میں بلا اشتعال فائرنگ کی جس میں ایک شخص زخمی ہوا ، بھارتی فائرنگ کے جواب میں چناب رینجرز نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔
بھارت کے وزیر دفاع اے کے انتھونی نے دھمکی دی ہے کہ تحمل اور صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ فوج کو فری ہینڈ دے دیا ہے اور وہ کوئی بھی قدم اٹھانے کے لیے آزاد اور تیار ہے۔ادھر بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنرسلمان بشیر نے بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید کی جانب سے بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی ذمے داری کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی فوجیوںکی ہلاکت کا ذمے دار نہیں۔ پیر کو بھارتی ٹی وی چینلز کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکا رہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو پاکستا ن کی پالیسی میں ترجیحی حیثیت حاصل ہے۔ بھارتی فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشنز نے 6اگست کو ہاٹ لائن پر رابطے کے دوران اپنے پاکستانی ہم منصب کو 5بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں نہیں بتایا ۔اس لیے مجھے یہ لگتا ہے اس واقعے کو ''واقعہ'' بنانے میں منصوبہ بندی کے تحت کام کیا گیا تاہم میں اس کی تخصیص کسی پر ڈالنا نہیں چاہتا۔
بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی باتیں بعد میں سامنے آئیں ۔یہ اعتراف حقیقت ایک سفارت کار کا سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے کی بازگشت ہے جب کہ بھارتی الیکٹرانک میڈیا اور تھنک ٹینک پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائیوں کا ریکارڈ قائم کرچکے ہیں ۔ لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی بلاجواز ہے جس کی کوئی اخلاقی،عسکری اور سیاسی بنیاد نہیں، یہ چنگاری کسی خاص مقصد سے بھڑکائی گئی ہے ۔سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے جو ہورہا ہے وہ دبائو کا نتیجہ ہے، اگر وردی پہن کر حملہ کرنے والوں کی بات ہے تو صرف وردی پہننے سے وہ پاکستانی نہیں ہو سکتے کیونکہ ڈی آئی خان جیل پر حملہ کرنیوالوں نے بھی وردی پہن رکھی تھی۔ دونوں ملکوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ایک دوسرے کا بارڈر کراس کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی نے امن مذاکرات شروع کیے تھے اور 2014 کے الیکشن کے لیے خود ہی برعکس رویہ اختیار کر رہی ہے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات حل کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل بیٹھ کر نئی شروعات کرے، پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل پر وزیراعظم نواز شریف نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئیں نئی شروعات کریں، آئیں مل بیٹھ کر پرامن ماحول میں دوستانہ طریقے سے تمام اہم معاملات حل کریں، وزیراعظم نے کہا کہ1947 سے قبل پاکستان اور بھارت کے لوگ اکٹھے رہتے تھے تاہم اب آزادی کے65 سال گزر گئے ہیں اور دونوں ممالک کواپنی بہتری اور خوشحالی کے لیے تلخیاں بھلا کر تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ادھر لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیز کارروائیوں کے باعث مقبوضہ کشمیر کے علاقے جموں میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے جاری مسلم کش فسادات کے خلاف پیر کو احتجاجی مظاہرے اور ہڑتال کی گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق قابض انتظامیہ نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو سرینگر میں ایک پر امن احتجاجی مارچ کی قیادت سے روکنے کے لیے گرفتار کرکے کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن میں نظربند کردیا، قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں شبیر احمد شاہ ،نعیم احمد خان اور ظفر اکبر بٹ کو مسلسل پانچویں روز بھی گھروں میں نظربندرکھا۔
مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق اور بزرگ کشمیری حریت رہنماء سید علی گیلانی نے کشتواڑ اور صوبہ جموں میں فرقہ وارانہ مسلم کُش فسادات پر شدید غم و غصہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ، پولیس اور بھارت نواز سیاست دان علاقے کے مسلمانوں کی مشکلات پر خاموش تماشی بنے ہوئے ہیں ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کی کال پر کنٹرول لائن پر بھارت کی طرف سے فائرنگ کے خلاف آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بیرون ممالک تارکین وطن نے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ ان احتجاجی ریلیوں میں لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ، مقبوضہ کشمیر میں مساجد کی بیحرمتی، بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی اور دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن پر بھارتی انتہا پسندوں کے حملے پر بھارتی حکمرانوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام عالم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارتی جارحیت کا نوٹس لے اور بھارت کو برصغیر کا امن برباد کرنے سے باز رکھے۔ صدر آزاد جموں و کشمیر سردار یعقوب خان نے اپنے ایک مذمتی بیان میں بھارتی افواج کی بلا اشتعال گولہ باری اور اندھا دھند فائرنگ کی شدید مذمت کی ۔
بھارت میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر سلمان بشیر نے بلاشبہ بھارتی دو عملی اور چانکیائی عسکری سیاست کوطشت از بام کیا ہے ،ان کی معروضات کو ممتاز بھارتی دانشور اور کالم نویس کلدیپ نیئر کے اس شکوے کے تناطر میں دیکھنا چاہیے کہ ہم پڑوسی ہیں مگر دوست نہیں، جب کہ دوستی کا جہاں تک تعلق ہے وزیراعظم نواز شریف ماضی میں بھی اور گزشتہ روز کے ان کے بیانات اس امر کی واضح گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے دو طرفہ تعلقات کی بحالی اور خطے میں امن، رواداری، تجارت کے فروغ اور تنازعات کے پر امن حل کی طرف بار بار ضرورت کا احساس دلاتے رہے ہیں ۔مگر ہمسائیگی کی پر امن بنیادوں پر تعمیر کے لیے بھارت کو اپنے مذموم عزائم سے دست کش ہونا پڑیگا، کشمیر سمیت تمام تنازعات کا واحد حل صرف پاک بھارت مکالمہ ہے ،اور اس بات چیت میں بان کی مون کی ثالثی مفید ثابت ہوسکتی ہے تو کشمیریوں کی اس اہم موقع پر شمولیت کا بھی سب کو خیرمقدم کرنا چاہیے۔