برطانوی اخبار کی فکر انگیز رپورٹ

ہمالیہ کے خطے میں پاکستان‘ بھارت‘ چین اور نیپال چار سو سے زائد ڈیمز بنا نے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں, گار جین

یہ منصوبے دنیا کے سب سے بڑے پہاڑی سلسلے میںماحولیاتی تباہی لا سکتے ہیں. فوٹو: فائل

KARACHI:
برطانوی اخبار گارجین کی رپورٹ کے مطابق ہمالیہ کے خطے میں پاکستان' بھارت' چین اور نیپال چار سو سے زائد ڈیمز بنا نے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔ بھارت292، چین100، نیپال 13اور پاکستان 9سے زائد ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے بنا رہے ہیں،یہ منصوبے دنیا کے سب سے بڑے پہاڑی سلسلے میںماحولیاتی تباہی لا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایشیا میں آبی وسائل پر قبضے کی خطرناک علاقائی دوڑ جاری ہے، ہمالیہ کا مستقبل وسیع ڈیموں کے تعمیری منصوبے کیوجہ سے خطرے سے دوچار ہے۔


اگر چار سو سے زائد ڈیم مکمل ہو گئے تو 2050تک گلیشئر زکے بہائو میں 20فیصد کمی ہو جائے گی، اس سے دریائوں میں پانی مزید کم ہو گا۔ آئندہ بیس برس میں ہمالیہ دنیا کا خطرناک خطہ بن جائے گا ۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ انسان ترقی کے نام پر ایسے منصوبے شروع کر چکا ہے جس کا نتیجہ خطر ناک ماحولیاتی آلودگی اور ارضیاتی تبدیلیوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔ ایک جانب انسان ایٹمی اور کیمیائی ہتھیار بنا رہا ہے تو دوسری جانب دریائوں کے لاکھوں برس پرانے روٹس میں تبدیلی لا رہا ہے۔ مختلف قسم کی اشیاء تیار کرنے والی فیکٹریوں کے باعث زیر زمین پانی آلودہ ہو رہا ہے۔ ان سارے عوامل نے مل کر کرہ ارض کو جانداروں کے لیے خطر ناک بنا دیا ہے۔

اس معاملے میں ترقی یافتہ ممالک سب سے آگے ہیں۔ انسان نے اگر ان معاملات پر توجہ نہ دی تو پھر ساری ترقی دھری کی دھری رہ جائے گی۔ پاکستان 'بھارت اور چین ہمالیہ اور قراقرم کے سلسلے میں واقعے ہیں۔ یہ دنیا کے بلند ترین اور طویل ترین پہاڑی سلسلے ہیں۔ یہ قدرت کا انمول تحفہ ہے جو اس خطے کو عطا کیا گیا ہے۔ اس سارے وسیع و عریض خطے میں بہنے والے تمام دریا 'ندی نالے 'چشمے اور جھرنے ان ہی پہاڑی سلسلوں سے پھوٹتے ہیں۔ پاکستان 'بھارت ' چین 'نیپال 'بنگلہ دیش 'افغانستان یہاں تک کہ برما کے حکمرانوں کو ایسی پالیسی تیار کرنی چاہیے جس سے ہمالیائی سلسلے سے بھرپور فائدہ بھی لیا جا سکے اور اس سے ماحولیاتی انتشار بھی پیدا نہ ہو۔ یہی انسانی ذہانت کا کمال ہو گا۔
Load Next Story