پوپ فرانسس کا دورہ مراکش

پوپ فرانسس نے یروشلم یعنی القدس کو عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کی مشترکہ میراث قرار دیا ہے

پوپ فرانسس نے یروشلم یعنی القدس کو عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کی مشترکہ میراث قرار دیا ہے۔ فوٹو: فائل

غزہ کی پٹی کا اسرائیل کی طرف سے طویل محاصرہ فلسطینیوں کے لیے روز مرہ کی بنیاد پر نئے المیے پیدا کر رہا ہے جب کہ ہزاروں لاکھوں فلسطینیوں نے گزشتہ پون صدی سے جاری احتجاج کے نئے مرحلے کی سالگرہ کے موقعے پر سالانہ تقریب منائی جب کہ غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوج اور اسرائیلی ٹینک کھڑے تھے۔

اس موقعے پر بھی دو فلسطینی نوجوانوں کے خون کا نذرانہ وصول کیا گیا جو اسرائیلی جارحیت، فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں شہادت سے دوچار ہوئے کہ فلسطین میں نسل در نسل شہدائے کرام کی فصلیں تیار ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دوسری طرف کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس ایک خیرسگالی دورے پر مراکش کے دارالحکومت رباط پہنچ گئے ہیں۔


جہاں مراکش کے شاہ محمد ششم نے بنفس نفیس پوپ کا خیر مقدم کیا۔ پوپ فرانسس نے اس موقع پر یروشلم یعنی القدس کو عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کی مشترکہ میراث قرار دیا۔ ایک ارب 30 کروڑ عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کو مراکش کے شاہ نے شمالی افریقہ کے اس ملک کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ کنگ محمد ششم نے اس موقع پر بین المذاہب ڈائیلاگ کی تجویز بھی پیش کی تا کہ اس دیرینہ مسئلہ کی مل کر کوئی صورت نکالی جا سکے۔

پوپ فرانسس اور شاہ مراکش محمد ششم نے مشترکہ اعلامیہ میں مقبوضہ القدس کو تینوں قدیمی مذاہب کا مشترکہ اثاثہ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس مشترکہ اثاثے کی مذہبی، سیاسی اور ثقافتی انفرادیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ واضح رہے پوپ فرانسس کا یہ بیان امر یکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اسی متنازعہ اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ نے القدس کو اسرائیلی دارالحکومت کا درجہ دینے کی دل سوز بات کی تھی اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا جس پر عالم اسلام کی طرف سے شدید احتجاجی صدائیں بلند ہوئیں مگر کسی نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا کیونکہ مسلمانوں کی اقتصادی اور سیاسی حالت اس قابل نہیں کہ ان کی بات پر دنیا کوئی اہمیت دے۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ فلسطین پر پون صدی سے صیہونی ریاست اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ہے۔

دوسری طرف اتنے ہی عرصے سے مقبوضہ کشمیر پر بھی بھارت کا ظالمانہ تصرف قائم ہے جہاں پر کہ آزادی کی خون آشام تحریک جاری ہے جس کو بھارت دہشت گردی سے معنون کر کے دنیا کی رائے عامہ کو بھٹکانے کی کوشش کر رہا ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق فلسطینی مظاہرین نے بھاری اسلحے سے لیس اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کیا اور ٹائر جلائے، جواب میں اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے برسائے۔
Load Next Story