کم خوراکی اور بچوں کی نشوونما
اکستان میں بچوں کی اس کمزوری کو دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے
اکستان میں بچوں کی اس کمزوری کو دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ فوٹو: فائل
وسیع پیمانے پر کیے جانے والے ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیاد ترقی یافتہ صوبے پنجاب میں ہر پانچ بچوں میں سے تین کم خوراکی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کی فطرتی نشوونما نہیں ہو پاتی جب کہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں صورت حال اور زیادہ خراب ہے جہاں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح بھی الارمنگ حد تک بلند ہے۔
یہ اعدادوشمار پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے جاری کیے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سماجی بہبود اور غربت مٹاؤ پروگرام کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زیادہ تر نوزائیدہ بچوں کو مکمل خوراک میسر نہیں آتی جس کی وجہ سے ان کی پرورش اور پرداخت ناقص رہ جاتی ہے اور انھیںزندگی میں آگے چل کر اس حوالے سے مشکلات پیش آتی ہیں اور ان کی دماغی پرداخت بھی فطرت کے مطابق پرورش نہیں کر پاتی۔ یونیسف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان بچوں کے دماغ معمول کی نسبت کافی چھوٹے رہ جاتے ہیں جس کے باعث وہ زیادہ دماغی قوت کے کام نہیں کر سکتے۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں 38فیصد بچے مکمل ذہنی توانائی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی اس کمزوری کو دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ مناسب خوراک کی قلت ہے۔ علاوہ ازیں ماحولیاتی آلودگی بھی اپنا رنگ دکھاتی ہے۔
بچوں کو کھلانے کے لیے عمومی طور پر ہاتھوں کی انگلیاں اچھی طرح صاف نہیں کی جاتیں جس کا بہت مضر اثر بچوں کی صحت پر پڑتا ہے۔ اب تو اقوام متحدہ سال میں ایک دن ہاتھوں کو دھونے کے لیے بھی مناتی ہے جب کہ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ دھوتے وقت صرف انگلیاں یا ہتھیلی ہی نہ دھوئی جائے بلکہ پورا ہاتھ کلائی تک صابن سے دھویا جانا چاہیے۔ بہت سی بیماریوں کا صرف اس ایک بات سے تدارک ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بچوں کی معمول سے کم صحت کی ایک وجہ ان کی ماؤں کی کمزوری بھی ہے جنھیں پوری خوراک حاصل نہیں ہوتی۔ اس وجہ غربت اور آمدنی میں کمی ہے۔ غریب طبقے کی آمدنی اتنی نہیں ہوتی کہ وہ اچھی اور مہنگی خوراک کھا سکے۔
یہ اعدادوشمار پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے جاری کیے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سماجی بہبود اور غربت مٹاؤ پروگرام کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زیادہ تر نوزائیدہ بچوں کو مکمل خوراک میسر نہیں آتی جس کی وجہ سے ان کی پرورش اور پرداخت ناقص رہ جاتی ہے اور انھیںزندگی میں آگے چل کر اس حوالے سے مشکلات پیش آتی ہیں اور ان کی دماغی پرداخت بھی فطرت کے مطابق پرورش نہیں کر پاتی۔ یونیسف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان بچوں کے دماغ معمول کی نسبت کافی چھوٹے رہ جاتے ہیں جس کے باعث وہ زیادہ دماغی قوت کے کام نہیں کر سکتے۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں 38فیصد بچے مکمل ذہنی توانائی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی اس کمزوری کو دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ مناسب خوراک کی قلت ہے۔ علاوہ ازیں ماحولیاتی آلودگی بھی اپنا رنگ دکھاتی ہے۔
بچوں کو کھلانے کے لیے عمومی طور پر ہاتھوں کی انگلیاں اچھی طرح صاف نہیں کی جاتیں جس کا بہت مضر اثر بچوں کی صحت پر پڑتا ہے۔ اب تو اقوام متحدہ سال میں ایک دن ہاتھوں کو دھونے کے لیے بھی مناتی ہے جب کہ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ دھوتے وقت صرف انگلیاں یا ہتھیلی ہی نہ دھوئی جائے بلکہ پورا ہاتھ کلائی تک صابن سے دھویا جانا چاہیے۔ بہت سی بیماریوں کا صرف اس ایک بات سے تدارک ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بچوں کی معمول سے کم صحت کی ایک وجہ ان کی ماؤں کی کمزوری بھی ہے جنھیں پوری خوراک حاصل نہیں ہوتی۔ اس وجہ غربت اور آمدنی میں کمی ہے۔ غریب طبقے کی آمدنی اتنی نہیں ہوتی کہ وہ اچھی اور مہنگی خوراک کھا سکے۔