سورینام کے صدارتی مشیرکی کراچی چیمبر آمد تجارت پر گفتگو

حکومت سورینام وجنوبی امریکی مارکیٹ تک رسائی کیلیے اقدامات کرے، ہارون اگر

دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں،انور لال محمد ۔ فوٹو: فائل

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ہارون اگر نے شمالی امریکا اور یورپی یونین ٹریڈنگ بلاک کے علاوہ جنوبی امریکا، افریقہ اور وسطی ایشیائی مارکیٹوں میں نئی کاروباری راہیں تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے جمہوریہ سورینام کے صدر کے مشیر انور لال محمد کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور جمہوریہ سورینام کے درمیان دوستانہ باہمی تعلقات ہیں، سورینام میں بیشتر مسلمان اردو بولتے ہیں اور پاکستان سے ثقافتی روابط قائم کیے ہوئے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارت برائے نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سورینام سمیت جنوبی امریکی ممالک کے ساتھ تجارتی مواقع کی تلاش وقت کی اہم ضرورت ہے، حکومت کو اس بڑی مارکیٹ تک رسائی کے لیے بامعنی اقدامات کرنے چاہیئں، ہمارے مدمقابل ممالک کافی عرصے پہلے ہی اس مارکیٹ میں داخل ہو چکے ہیں اور منافع بخش کاروبار سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جبکہ ہم نے مذکورہ مارکیٹ تک رسائی میں بہت دیر کر دی ہے۔

تاہم پاکستان اپنی باصلاحیت اور ماہر افرادی قوت اور اعلی معیار کی مصنوعات کی پیداوار کی بنا پر اپنامارکیٹ شیئر حاصل کر سکتا ہے۔ ہارون اگر نے کہا کہ جنوبی امریکی ممالک میں کمرشل قونصلرز اور ٹریڈ آفیسرکا کردار دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے اہم ہے، حکومت پاکستان اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل کمرشل قونصلرز تعینات کرے جو پاکستان کے مارکیٹنگ منیجرز کے طور پر تجارتی اہداف کے حصول اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے بیرون ملک کمرشل سیکشن اور بڑے چیمبرز کے درمیان باہمی معلومات کے باقاعدگی سے تبادلے پر بھی زور دیا۔




ہارون اگرنے دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے جمہوریہ سورینام کے صدر کے مشیر انورلال محمد کو کراچی چیمبر آف کامرس کی طرف سے ہر ممکن تعاون اور سورینام چیمبر آف کامرس کے ساتھ کاروباری روابط کو مستحکم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ جمہوریہ سورینام کے صدر کے مشیر انورلال محمد نے کراچی چیمبر آف کامرس کے تعاون پر کے سی سی آئی کے صدر ہارون اگر کے جذبات کو سراہا اور کہاکہ اس ملاقات کا مقصددوطرفہ تجارتی و معاشی تعاون کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنا تھا، دونوں ممالک کے درمیان مناسب طریقے سے تجارت کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے آگاہ کیاکہ سورینام ابھرتی معیشت کاحامل ہے اوریہ جنوبی امریکا میں واقع ہے، اجناس کی شاندار پیداوار اور برآمدات سمیت تعمیراتی سرگرمیوں کی وجہ سے 2012میں اس کی گروتھ 4.5 فیصد تھی، آئی ایم ایف نے سورینام کے سازگار اقتصادی نقطہ نظر کا تعین کیا ہے اور آنے والے برسوں میںکان کنی، سونا، پٹرولیم اور قابل تجدید توانائی میں بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے، سرمایہ کاری کیلیے زراعت، جنگلات، آبی وسائل، مینوفیکچرنگ، سیاحت، صحت اور ہاؤسنگ کے شعبے پرکشش ہیں۔
Load Next Story