بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرول کے نرخوں میں اضافہ

حکومت کو اپنی معاشی حکمت عملی ترتیب دیتے وقت عوام اور کاروبار دوست ترجیحات کو اولیت دینی چاہیے۔

حکومت کو اپنی معاشی حکمت عملی ترتیب دیتے وقت عوام اور کاروبار دوست ترجیحات کو اولیت دینی چاہیے۔فوٹو:فائل

حکومت نے گزشتہ روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں چھ، چھ جب کہ لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں تین تین روپے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اپریل سے ہوگیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 98 روپے 89 پیسے ، جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 117روپے 43 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اسی طرح مٹی کے تیل کی نئی قیمت 3 روپے اضافے کے بعد 89 روپے31 پیسے جب کہ لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 80 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11 روپے 92 پیسے اضافے کی تجویزبھجوائی تھی، جس کے تحت پٹرول کی قیمت میں 11 روپے 92 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں11 روپے 17 پیسے فی لیٹر اضافہ تجویز کیا گیا تھا لیکن حکومت نے اوگرا کے تجویز کردہ نرخوں کے سے ذرا کم اضافہ کردیا ہے۔ ادھر ریلوے نے بھی خاموشی سے کرایوں میں اضافہ کر دیا جس سے ریل کے کرائے پبلک ٹرانسپورٹ سے بڑھ گئے' تمام کلاس کے کرایوں میں فی ٹکٹ40 سے 60روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے اس سے پیشتر مارچ میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4روپے 75پیسے فی لٹر کا اضافہ کیا تھا' اس طرح یکم اپریل کو ہونے والے نئے اضافے سے پٹرول مجموعی طور پر 10روپے 75پیسے فی لٹر مہنگا کیا گیا ہے۔ جب اوگرا نے اپنی تجاویز حکومت کو بھجوائیں تو اس وقت ہی یہ توقع کی جارہی تھی کہ حکومت اوگرا کی تجاویز کے مطابق تو نرخ نہیں بڑھائے گی البتہ اس کا نصف ضرور بڑھائے گی اور ایسا ہی ہوا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر لازمی طور پر معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی پڑے گا۔

بعض دل جلے اس پر کچھ یوں تبصرہ کررہے ہیں ، تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مہنگائی کو ختم کرنے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے اور ملکی اقتصادی نظام کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے دعوے یکم اپریل کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ریلوے کے کرایوں میں ہونے والے اضافے یعنی اپریل فول کی صورت میں جلوہ گر ہوئے ہیں۔ بہرحال ایک بات تو طے ہے کہ عوام پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں پر اضافے پر پریشان ہی ہوں گے کیونکہ متوسط طبقے کے لوگوں کی جیب پر اس کا اثر پڑنا لازم ہے ۔

راولپنڈی کے ٹرانسپورٹرز نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی اس موقع پر اپنا سیاسی پوائنٹ اسکور کرنے میں مصروف ہیں۔باقی رہ گئے غریب عوام تو وہ پہلے ہی اشیاء ضروریہ کی مہنگائی سے پریشان ہیں۔


حقیقت یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں پہلے سے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی پر جلتی پر تیل کا کام کرے گا اور مہنگائی کا نیا طوفان اپنے ہمراہ لے کر آئے گا۔ اگر بنظر غائر عام آدمی کے معاشی حالات کا جائزہ لیا جائے تو پہلے جو اسے دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی نصیب ہوتی تھی شاید اب اس کا حصول بھی مشکل ہو جائے گا۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ روز مرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اشیا کی نقل و حمل پر پڑنے والے اخراجات کے اضافے کے اثرات تمام شعبوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان ریلوے نے 7دسمبر 2018ء کو کرایوں میں اضافہ کیا تھا اب مارچ 2019ء میں ایک بار پھر مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ خدشہ ہے کہ اب بجلی کے بلوں میں بھی مزید اضافہ ہو گا کیونکہ ماضی اس امر کا گواہ ہے کہ جب بھی گرمیوں کا سیزن شروع ہوتا ہے تو حکومت کی جانب سے عوام کو بجلی کے بلوں میں اضافے کی'خوشخبری' سنائی جاتی ہے۔

امید ہے کہ حکومت ماضی کی اس ''شاندار روایت'' کو برقرار رکھے گی۔ بجٹ سے پہلے مہنگائی کا عوام کو تحفہ دیا گیا ہے۔ ایک جانب بڑھتی ہوئی مہنگائی تو دوسری جانب بیروز گاری میں اضافہ معاشرے میں بے چینی اور انتشار کا موجب بن رہا ہے اور یہ معاشرتی سطح پر جنم لینے والی اضطرابی کیفیت حکومت کی مقبولیت کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں سبزیاں اور برائلر مرغی کا گوشت پہلے ہی مہنگا ہونے سے وہ عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے، ادویات کی قیمتیں بھی ابھی حال ہی میں بڑھی ہیں۔ اب ان کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جب معاشرے میں مہنگائی اور بیروز گاری پہلو بہ پہلو بے لگام بڑھتے چلے جائیں تو ڈکیتی' راہزنی اور دیگر جرائم میں اضافہ خود بخود ہوتا چلا جاتا ہے اور امن و امان کے حوالے سے نئے مسائل پیدا ہوتے جنھیں حل کرنے کے لیے حکومت کو سیکیورٹی فورسز پر مزید اخراجات کرنا پڑتے ہیں۔

یہ ایک ایسا منحوس سائیکل ہے جس کی زد میں نہ صرف عوام بلکہ ریاستی ادارے بھی آ جاتے ہیں۔معاشی حکمت عملی ناکام ہونا شروع ہوجائے اور افراط زر بڑھنے لگے تو پھر مہنگائی کا سلسلہ کہیں بھی رکنے میں نہیں آتا۔

جرائم میں اضافہ ہوجاتا ہے اور معاشرہ ابتری کی جانب بڑھنے لگتا ہے، اگر حکومت نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر اس سے بھی حکومتی اخراجات پورے نہ ہوئے تو کیا ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا جس سے مہنگائی کا طوفان کسی سے بھی روکا نہیں جا سکے گا اور اس سے عوام میں پیدا ہونے والی بے چینی کے منفی اثرات حکومت کی مقبولیت پر بھی مرتب ہوں گے، حکومت کی معاشی مجبوریاں اپنی جگہ رہیں لیکن اس کا حل نئے ٹیکس لگانا یا یوٹیلٹیز کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہے ۔

حکومت کو اپنی معاشی حکمت عملی ترتیب دیتے وقت عوام اور کاروبار دوست ترجیحات کو اولیت دینی چاہیے۔اگر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ترغیبات ہوں گی تو وہ اپنا سرمایہ کاروباروں میں لگائیں گے جس سے حکومت کے محصولات میں بھی اضافہ ہوگا ، روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے ، درمیانے اور نچلے طبقے کی قوت خرید میں اضافہ ہوگا ، یوں یہ طبقے مہنگائی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔
Load Next Story