گولان پہاڑیوں سے متعلق امریکی فیصلے کی مذمت
عرب ممالک نے گولان پہاڑیوں کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت کی ہے۔
عرب ممالک نے گولان پہاڑیوں کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ
عرب ممالک نے گولان پہاڑیوں کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ تیونس میں جاری عرب لیگ کے سالانہ اجلاس میں عرب ممالک نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا حل صرف اور صرف ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سعودی بادشاہ شاہ سلمان نے کہا کہ ہم گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیلی علاقہ تسلیم نہیں کرتے۔اسرائیلی جارحیت اور صہیونی بربریت کو جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کھلی حمایت اور پالیسیوں سے شے ملی ہے،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے فلسطینی عوام اور گزہ میں ظلم و ستم کا نیا بازار گرم کردیا ہے اور اب تو اسرائیلی فوج نے غزہ کے مشرقی علاقے میں حماس کی دو مشاہداتی چوکیوں پر توپ کے گولے داغے، عینی شاہدین سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اسرائیلی توپ بردار دستے نے غزہ میں حماس کے اڈوں پر بمباری کی۔
غزہ کی وزارت ِ صحت کی جانب سے ان حملوں میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کے حوالے سے تا حال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی تاحال اس حوالے سے مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں ہونے والے مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 4 ہو گئی۔ غزہ کے علاقے میں منعقدہ حق واپسی ملین مارچ کے موقع پر اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین پرگولیاں چلائیں اوران کے خلاف آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں316 شہریوں کے زخمی ہوئے جب کہ اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 4ہو گئی ہے۔
ادھر عرب لیگ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اس تنظیم کے تمام 22 رکن ممالک نے مشترکہ طور پر مقبوضہ گولان پہاڑیوں سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی نے تیونس میں جاری عرب لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطاب کے دوران کہا کہ گولان کی پہاڑیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو نظرانداز کرنا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔
انھوں نے یہ بات چند روز قبل امریکی صدر کی جانب سے مقبوضہ گولان پہاڑیوں کو اسرائیلی علاقے کے طور پر تسلیم کرنے کے فیصلے کے جواب میں کہی۔ موگیرینی کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے اور دو ریاستی حل کو ناقابل عمل بنانے سے روکا جائے۔
علمی برادری کا ادراک کرنا چاہیے کہ اسرائیلی بربریت سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پھر سے دھماکا خیز ہوسکتی ہے۔ دریں اثناء قطر کے امیر تمیم بن حمد ال ثانی تیونس میں جاری ایک روزہ عرب لیگ سمٹ کے افتتاحی سیشن میں شرکت کے بعد واپس اپنے ملک پہنچ گئے ہیں۔
قطر کے خلاف سعودی پابندیوں کے بعد یہ پہلا ایسا موقع تھا کہ وہ کسی ایسی کانفرنس میں شریک ہوئے، جہاں سعودی رہنما بھی موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق قطر کے امیر نے اس اجلاس میں خطاب بھی نہیں کیا۔مبصرین کے مطابق ایسے نازک وقت میں عرب دنیا کو باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سعودی بادشاہ شاہ سلمان نے کہا کہ ہم گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیلی علاقہ تسلیم نہیں کرتے۔اسرائیلی جارحیت اور صہیونی بربریت کو جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کھلی حمایت اور پالیسیوں سے شے ملی ہے،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے فلسطینی عوام اور گزہ میں ظلم و ستم کا نیا بازار گرم کردیا ہے اور اب تو اسرائیلی فوج نے غزہ کے مشرقی علاقے میں حماس کی دو مشاہداتی چوکیوں پر توپ کے گولے داغے، عینی شاہدین سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اسرائیلی توپ بردار دستے نے غزہ میں حماس کے اڈوں پر بمباری کی۔
غزہ کی وزارت ِ صحت کی جانب سے ان حملوں میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کے حوالے سے تا حال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی تاحال اس حوالے سے مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں ہونے والے مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 4 ہو گئی۔ غزہ کے علاقے میں منعقدہ حق واپسی ملین مارچ کے موقع پر اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین پرگولیاں چلائیں اوران کے خلاف آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں316 شہریوں کے زخمی ہوئے جب کہ اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 4ہو گئی ہے۔
ادھر عرب لیگ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اس تنظیم کے تمام 22 رکن ممالک نے مشترکہ طور پر مقبوضہ گولان پہاڑیوں سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی نے تیونس میں جاری عرب لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطاب کے دوران کہا کہ گولان کی پہاڑیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو نظرانداز کرنا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔
انھوں نے یہ بات چند روز قبل امریکی صدر کی جانب سے مقبوضہ گولان پہاڑیوں کو اسرائیلی علاقے کے طور پر تسلیم کرنے کے فیصلے کے جواب میں کہی۔ موگیرینی کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے اور دو ریاستی حل کو ناقابل عمل بنانے سے روکا جائے۔
علمی برادری کا ادراک کرنا چاہیے کہ اسرائیلی بربریت سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پھر سے دھماکا خیز ہوسکتی ہے۔ دریں اثناء قطر کے امیر تمیم بن حمد ال ثانی تیونس میں جاری ایک روزہ عرب لیگ سمٹ کے افتتاحی سیشن میں شرکت کے بعد واپس اپنے ملک پہنچ گئے ہیں۔
قطر کے خلاف سعودی پابندیوں کے بعد یہ پہلا ایسا موقع تھا کہ وہ کسی ایسی کانفرنس میں شریک ہوئے، جہاں سعودی رہنما بھی موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق قطر کے امیر نے اس اجلاس میں خطاب بھی نہیں کیا۔مبصرین کے مطابق ایسے نازک وقت میں عرب دنیا کو باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھنے کی ضرورت ہے۔