سیاستدان تدبر سے کام لیں

کوئی ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے کہ سیاسی کشمکش اور کشیدگی کوئی اور رخ اختیار کرے، ملک سب کو عزیز ہونا چاہیے۔

کوئی ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے کہ سیاسی کشمکش اور کشیدگی کوئی اور رخ اختیار کرے، ملک سب کو عزیز ہونا چاہیے۔ فوٹو: فائل

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو پھر ایک دریا کا سامنا ہے۔ اس کی نئی مشکل کسی بڑے بحران کا اگر عندیہ نہیں تب بھی ملک کو جو معاشی ، سماجی اور اعصاب شکن مسائل اور عالمی چیلنجز درپیش ہیں اس کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کے لیے صائب ترین چوائس داخلی رقابتوں اور اختلافات پر فوری قابو پانا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات اور تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی کے 2 اہم رہنماؤں جہانگیر ترین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان ایک بار پھر لفظی جنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کے سرکاری اجلاسوں میں بیٹھنے سے چیف جسٹس کے فیصلے کی تضحیک ہوتی اور اپوزیشن کی طرف سے انگلیاںاٹھائی جاتی ہیں لہٰذا اپنے بھائی سے التجا ہے کہ بیک گراؤنڈ میں رہ کر تجاویز دیں کیونکہ جب میٹنگ میں بیٹھتے ہیں تو اپوزیشن کو بھی باتیں کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ شاہ صاحب نے یہ آئینی نکتہ اٹھایا کہ اگر ) 62-1(F نواز شریف پر لگ جاتی ہے اور وہ عہدے سے تاحیات نا اہل ہوجاتے ہیں، دوسری جانب جہانگیر ترین نے شاہ محمود کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ایک انتخابی مینڈیٹ لے کر آئی ہے ، اسے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنا ہیں، ملکی سلامیت کو لاحق خطرات اور بھارتی جنگی مہم جوئی اور بزدلانہ جارحیت سے نمٹنے کے لیے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے افواج پاکستان کو کمک پہنچانا اور قومی یکجہتی کے ماحول کو سازگار رکھنا ہے، یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ملک مین امن واستحکام، معاشی ترقی، انتظامی اور ادارہ جاتی امور کی انجام دہی نیشنل اسپرٹ کے ساتھ ہو اور سیاسی وعسکری قیادت سمیت پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے۔

پی ٹی آئی کے ایک دوسرے سے برسرپیکار سیاست رہنماؤں کے لیے ملکی داخلی و خارجی صورتحال کی نزاکت کا ادراک تقاضائے وقت ہے ۔ فروعی اختلافات اور نان ایشوز میں الجھنے کے ایڈونچرازم سے دشمن کو واک اوور دینے کے مغالطے سے گریز لازم ہے ۔حکام کو ملک میں امن وامان کی صورتحال پر گہری نظر رکھنا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہونا باقی ہے، آئی ایم ایف سے امدادی پیکیج کی بات آخری لمحوں میں ہے، عمران خان تبدیلی کا جو ایجنڈا رکھتے ہیں۔


اس کا کیا بنے گا، ملکی معیشت کے استحکام سمیت خارجہ و داخلہ پالیسییوں کے وسیع تر تناظر میں حکومت کو ایک نئے پاکستان کی تشکیل وتعمیر کرنا ہے اور اتنا بڑا ٹاسک داخلی اٹھا پٹخ سے ممکن نہیں جب کہ اپوزیشن جماعتین بظاہر وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کو کام کرنے کا اوپن چانس دینے کے وعدے کرتی ہیں اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنی آئینی اور قانونی جدوجہد کے باوجود اس امر کا بار بار حوالہ دیتی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت عوام کو ڈیلیور کرکے دکھائے ، اپوزیشن نے اپنے تبدیل شدہ طرز عمل اور متحدہ اپوزیشن کے کوششوں میں تیزی لانے پر بھی یہ راستہ کھلا چھوڑ رکھا ہے کہ وہ حکومت گرانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

بلاول بھٹو نے ٹرین مارچ کے دوران تند وتیز تقاریر کرتے ہوئے بعض حساس موضوعات پر خیال آرائی کی ہے جس پر بعض حلقوں نے دبے لفظوں میں پی پی قیادت کو مشورہ دیا ہے وہ ملکی سلامتی ، بھارتی عزائم اور جنگی جنون کے سیاق سباق میں کالعدم تنظیموں کے بارے میں معروضیت کے اس بیانیے سے گریز کریں جن سے دشمن فائدہ اٹھائے۔ تاہم اصل مسئلہ پی ٹی آئی کی قائدانہ صلاحیتوں کے امتحان اور لمحہ موجود میں مختلف النوع آزمائشوں سے سرخروہوکر نکلنے کا ہے۔

پی ٹی آئی کے کیڈر اور پارٹی ورکرزکو دونوں مرکزی رہنماؤں کی اس لفظی جنگ پر تشویش کا ہونا فطری ہے، اختلافات کا فال آوٹ پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، صورتحال ایسی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنما بھی میدان جنگ میں کود پڑے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن بھی حالات کے مضمرات پر سوچنے پر مجبور ہوگی۔

کوئی ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے کہ سیاسی کشمکش اور کشیدگی کوئی اور رخ اختیار کرے، ملک سب کو عزیز ہونا چاہیے۔ حکومت کا فرض یہ ہے کہ وہ سیاسی درجہ حرارت میں کمی لانے میں پہل کرے، ایک مفاہمانہ سیاسی کلچر کی نئی روایت ہی صورتحال کو ڈفیوز کرسکتی ہے اوراس میں سب کا بھلا ہے۔ لہٰذا امید کی جانی چاہیے کہ وزیراعظم عمران خان انٹرا پارٹی جاری صورتحال کا فوری نوٹس لیں گے اور ملک کے عظیم تر مفاد میں پارٹی رہنماؤں کو باہمی اختلافات سے بالاتر رہنے کا مفید مشورہ دیتے ہوئے ان کو ہدایت کریں گے کہ وہ عوام کی حالت بدلنے کا جو عہد کرچکے ہیں اسے پورا کرنے میں اب اپنی ساری توانائیاں صرف کریں۔
Load Next Story