پاکستان میں اغوا برائے تاوان نے ’’صنعت‘‘ کی شکل اختیار کرلی

6 ماہ میں 9 ہزار واقعات ہوچکے، وارداتیں غیرقانونی دھندوں کیلیے سرمائے کا ذریعہ بن گئیں

6 ماہ میں 9 ہزار واقعات ہوچکے، وارداتیں غیرقانونی دھندوں کیلیے سرمائے کا ذریعہ بن گئیں فوٹو: فائل

پاکستان میں چند برسوں سے اغوا کی وارداتوں نے ایک صنعت کی شکل اختیار کرلی ہے اور یہ ایک ایسا منافع بخش کاروبار بن گیا ہے جو کسی کیلیے راتوں رات امیر بننے تو کسی کیلیے بہت سے دوسرے غیرقانونی دھندوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔

پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے نصف میں ملک بھر میں 9 ہزار سے زیادہ افراد اغوا کیے گئے ہیں۔پنجاب میں اغوا کی وارداتوں کی تعدادسب سے زیادہ ہے ۔ پولیس کے مطابق صوبے میں رواں سال جنوری سے جون کے اواخر تک مختلف نوعیت کے اغوا کی 7139وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔




اس دوران کئی اہم شخصیات کو بھی اغوا کیا گیا ہے جن میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی اور سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیرکااغوا شامل ہے ۔سندھ میںرواںسال اغواء کی1711،خیبر پختونخوا میں15جولائی تک524وارداتیں ہوئی ہیں۔
Load Next Story