آسٹریلیا سے ون ڈے سیریز میں شکست
ابتدائی طور پر اندازہ لگایا گیا تھا کہ مقابلہ برابر کی چوٹ رہے گا لیکن میدان میں صورتحال باالکل مختلف رہی۔
ابتدائی طور پر اندازہ لگایا گیا تھا کہ مقابلہ برابر کی چوٹ رہے گا لیکن میدان میں صورتحال باالکل مختلف رہی۔ فوٹو: فائل
پاکستان کو آسٹریلیا سے حالیہ ون ڈے کرکٹ سیریز میں بدترین شکست ہوئی ہے۔ پانچ میچوں کی سیریز میں پاکستان تمام میچ ہار گیا۔ کسی میچ میں بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ پاکستانی کھلاڑی آسٹریلوی کھلاڑیوں پر حاوی ہوئے ہیں۔
یہ ون ڈے کرکٹ سیریزمتحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں منعقد ہوئی۔ یہ درست ہے کہ پاکستانی ٹیم میں اس کے چوٹی کے کھلاڑی شامل نہیں تھے بالخصوص کپتان سرفراز احمد' بابر زمان' حسن علی، محمد عامر اور دیگر کھلاڑی ٹیم کا حصہ نہیں تھے لیکن آسٹریلوی ٹیم میں بھی نئے کھلاڑی موجود تھے جنہوں نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ابتدائی طور پر اندازہ لگایا گیا تھا کہ مقابلہ برابر کی چوٹ رہے گا لیکن میدان میں صورتحال باالکل مختلف رہی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی بی سی) اور سلیکشن کمیٹی نے سینئر کھلاڑیوں کو آرام کا موقع دیا، یہ فیصلہ سیریز کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوا ۔
ایسا لگتا ہے کہ بعض فیصلے عجلت میں کیے گئے ہیں ، اگر نئے کھلاڑیوں کو آزمانا تھا تو انھیں پہلے میچوں میں موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ تب چوٹی کے کھلاڑیوں کو ریسٹ کا موقع دے دیا جاتا اور اس کے ساتھ ہی ابھرتے ہوئے نئے کھلاڑیوں کو بھی اپنی شاندار کارکردگی دکھانے کا موقع مل سکتا تھا۔
ٹیم کے مورال کی سطح بھی اتنی بلند نہیں تھی جتنی کہ توقع کی جا رہی تھی۔ البتہ اس سارے معاملے کے کچھ مثبت پہلو بھی تھے۔ حارث سہیل اور رضوان احمد بڑی اچھی فٹنس کے ساتھ واپس آ گئے ہیں اور ان دونوں نے دو سینچریاں بنا لی ہیں حالانکہ ان کے بیٹنگ اسٹائل پر کچھ اعتراضات بھی عائد کیے گئے' عابد علی نے سینچری بنا کر اپنا ٹیلنٹ ثابت کیا جب کہ عثمان شنواری نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
اب یہ سلیکٹروں کی ذمے داری ہے کہ وہ دیکھیں کہ شعیب ملک اور عمر اکمل کس پوزیشن پر رکھے جا سکتے ہیں۔ یہ بات ناگزیر ہے کہ پاکستانی کھلاڑی ورلڈ کپ کھیلنے کی اہمیت کو کسی صورت نظر انداز نہ کریں۔ ٹیم کے کوچ پر امید ہیں کہ اس تجربے کے بعد زیادہ بہتر اور بیلنس ٹیم تشکیل پا جائے گی۔پاکستان کے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔
بہترین فاسٹ اور اسپین باولرز موجود ہیں، اسی طرح اچھے بلے باز بھی ٹیم کا حصہ ہیں، اگر حالات کی مناسبت کے مطابق ٹیم تشکیل دی جائے تو اچھا کمبینشن بن سکتا ہے۔ کرکٹ بورڈ کو اب تمام تر توجہ ورلڈ کپ مرکوز رکھنی چاہیے تاکہ اس بڑے ٹورنامنٹ میں ہمارے کھلاڑی اپنی تمام تر صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے پاکستان کا نام بلند کریں۔
یہ ون ڈے کرکٹ سیریزمتحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں منعقد ہوئی۔ یہ درست ہے کہ پاکستانی ٹیم میں اس کے چوٹی کے کھلاڑی شامل نہیں تھے بالخصوص کپتان سرفراز احمد' بابر زمان' حسن علی، محمد عامر اور دیگر کھلاڑی ٹیم کا حصہ نہیں تھے لیکن آسٹریلوی ٹیم میں بھی نئے کھلاڑی موجود تھے جنہوں نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ابتدائی طور پر اندازہ لگایا گیا تھا کہ مقابلہ برابر کی چوٹ رہے گا لیکن میدان میں صورتحال باالکل مختلف رہی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی بی سی) اور سلیکشن کمیٹی نے سینئر کھلاڑیوں کو آرام کا موقع دیا، یہ فیصلہ سیریز کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوا ۔
ایسا لگتا ہے کہ بعض فیصلے عجلت میں کیے گئے ہیں ، اگر نئے کھلاڑیوں کو آزمانا تھا تو انھیں پہلے میچوں میں موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ تب چوٹی کے کھلاڑیوں کو ریسٹ کا موقع دے دیا جاتا اور اس کے ساتھ ہی ابھرتے ہوئے نئے کھلاڑیوں کو بھی اپنی شاندار کارکردگی دکھانے کا موقع مل سکتا تھا۔
ٹیم کے مورال کی سطح بھی اتنی بلند نہیں تھی جتنی کہ توقع کی جا رہی تھی۔ البتہ اس سارے معاملے کے کچھ مثبت پہلو بھی تھے۔ حارث سہیل اور رضوان احمد بڑی اچھی فٹنس کے ساتھ واپس آ گئے ہیں اور ان دونوں نے دو سینچریاں بنا لی ہیں حالانکہ ان کے بیٹنگ اسٹائل پر کچھ اعتراضات بھی عائد کیے گئے' عابد علی نے سینچری بنا کر اپنا ٹیلنٹ ثابت کیا جب کہ عثمان شنواری نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
اب یہ سلیکٹروں کی ذمے داری ہے کہ وہ دیکھیں کہ شعیب ملک اور عمر اکمل کس پوزیشن پر رکھے جا سکتے ہیں۔ یہ بات ناگزیر ہے کہ پاکستانی کھلاڑی ورلڈ کپ کھیلنے کی اہمیت کو کسی صورت نظر انداز نہ کریں۔ ٹیم کے کوچ پر امید ہیں کہ اس تجربے کے بعد زیادہ بہتر اور بیلنس ٹیم تشکیل پا جائے گی۔پاکستان کے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔
بہترین فاسٹ اور اسپین باولرز موجود ہیں، اسی طرح اچھے بلے باز بھی ٹیم کا حصہ ہیں، اگر حالات کی مناسبت کے مطابق ٹیم تشکیل دی جائے تو اچھا کمبینشن بن سکتا ہے۔ کرکٹ بورڈ کو اب تمام تر توجہ ورلڈ کپ مرکوز رکھنی چاہیے تاکہ اس بڑے ٹورنامنٹ میں ہمارے کھلاڑی اپنی تمام تر صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے پاکستان کا نام بلند کریں۔