بارش و سیلاب سے ہلاکتیں تشویش ناک ہیں

بارش و سیلاب کے باعث ہونے والی یہ ہلاکتیں نہایت تشویش ناک ہیں.

دریائے سندھ، ستلج میں طغیانی سے درجنوں دیہات زیرآب آ گئے ہیں۔ فوٹو ایکسپریس

ملک بھر میں مون سون کی جاری بارشوں کے باعث دریائوں میں طغیانی آ گئی ہے۔ سیلابی ریلوں نے مختلف دیہات، قصبوں اور شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ گزشتہ روز بھی بچوں سمیت 19 افراد جاں بحق ہو گئے، بارش و سیلاب کے باعث ہونے والی یہ ہلاکتیں نہایت تشویش ناک ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ہلاکتیں چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہنے سے ہوئیں، لاہور میں تیز بارشوں نے تباہی مچا دی، ادھر دریائے سندھ، ستلج میں طغیانی سے درجنوں دیہات زیرآب آ گئے ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں گزشتہ روز ہونے والی طوفانی بارش نے تباہی مچا دی، نالہ لئی بپھر گیا، تمام چھوٹے بڑے نالوں میں پانی خطرے کا نشان عبور کر گیا، نصف شہر سیلاب میں ڈوب گیا جس پر فوج کو طلب کر لیا گیا، راولپنڈی200، اسلام آباد میں 190ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارشوں سے پروازوں اور ٹرینوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے۔ بی بی سی کے مطابق راول ڈیم سے اضافی پانی کے اخراج کے لیے سپل ویز کھول دیے گئے ہیں۔ مظفرآباد میں بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث وادی نیلم کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا۔ سرگودھا، میانوالی، چکوال، منڈی بہائوالدین، نارووال میں تیز بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔ ضلع غذر میں مٹی کا تودہ گرنے سے گلگت غذر روڈ ٹریفک کے لیے بند ہوگئی۔


پشاور، مردان، ڈیرہ اسماعیل خان، ملاکنڈ سمیت خیبرپختونخوا میں بارشوں نے تباہی مچا دی، صوبے کے دریا کنہار، کلپانی نالہ، بڈھنی نالہ اور دریائے کابل میں سیلابی ریلوں کے خطرہ کے باعث تمام محکموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ دریں اثناء دریائے ستلج میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے، ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا اخراج 60 ہزار کیوسک تک جا پہنچا جس کے باعث ایک درجن سے زائد دیہات سیلاب کی زد میں ہیں جب کہ سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ علاوہ ازیں دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث تحصیل جتوئی میں 6 مواضعات راجن پور اور ڈیرہ غازی خان میں متعدد دیہات زیر آب آ گئے۔ واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، بالائی اور جنوبی پنجاب، شمال مشرقی بلوچستان، جنوب مشرقی سندھ، کشمیر، خیبرپختونخوا کے اکثر مقامات پر مزید بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ بارش و سیلاب کے باعث ہر سال پاکستان میں تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بارش رحمت خداوندی ہے لیکن ناقص حکمت عملی اور بدانتظامی کے باعث یہ رحمت اہل وطن کے لیے باعث زحمت بن جاتی ہے اس پر حکومتی اداروں کی غفلت و لاپروائی مرے پر سو دُرّ ے کا کام کرتی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بارشوں نے بربادی اور انفرااسٹرکچر کو تہس نہس کرنے کی نئی ہولناک تاریخ رقم کر دی۔ ابھی تک کئی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہے۔ بلوچستان میں کئی دیہات اور بستیاں پانی میں ڈوب چکی ہیں جب کہ متاثرین کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور انتظامیہ کے اقدامات صفر ہیں۔ اپنے فرائض سے چشم پوشی سیلاب سے ہونے والے ان نقصانات کو سو گنا بڑھا سکتی ہے۔ حکومت کو فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے راست اقدامات کرنا ہوں گے، ساتھ ہی بارش و سیلاب متاثرین کی مکمل داد رسی کی جائے۔
Load Next Story