گورنری کے معاملات

ممنون حسین کوصدراور چوہدری محمد سرور کو گورنرپنجاب بنانے کے نواز شریف کے فیصلے پر بعض سیاسی حلقوں نے حیرت کا اظہار ہے۔

ممنون حسین کو پاکستان کا صدر اور چوہدری محمد سرور کو پنجاب کا گورنر بنانے کے وزیر اعظم نواز شریف کے فیصلے پر بعض سیاسی حلقوں نے حیرت کا اظہار بلکہ تنقید بھی کی ہے۔ وزیر اعظم کے اس فیصلے سے نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی بعض شخصیات کو نہ صرف شدید دھچکا لگا ہے بلکہ وہ حیران ہیں کہ بھاری بھرکم سیاسی شخصیات کو چھوڑ کر میاں صاحب نے ایسے لوگوں کا ان اہم عہدوں کے لیے انتخاب کیوں کیا کہ وہ نہ ملکی سطح پر سیاسی طور سے بااثر ہیں نہ ان کی قربانیاں قابل ذکر ہیں۔

بلاشبہ ممنون حسین تجارتی حلقوں میں زیادہ نمایاں رہے ہیں جب انھیں گورنر بنایا گیا تھا تو وہ سیاست میں کچھ نمایاں ہوئے تھے اور نواز حکومت کی برطرفی کے بعد ان کی گورنری بھی ختم ہوئی اور جب (ن) لیگ سیاسی لوگوں سے سندھ میں خالی ہو گئی تھی تو سندھ اور کراچی میں چند اہم شخصیات ہی باقی رہ گئی تھیں جو (ن) لیگ کی طرف سے سیاسی طور پر سرگرم اور نواز شریف کا اعتماد حاصل کیے ہوئے تھیں جن میں غوث علی شاہ نمایاں تھے جنھیں لیاقت جتوئی کی حکومت برطرفی کے بعد ممنون حسین کی گورنری میں گورنر راج نافذ کر کے سندھ کے لیے مشیر اعلیٰ بنایا گیا تھا اور وہ سندھ حکومت چلا رہے تھے۔

پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ جس کو ایک بار اسمبلی کے لیے منتخب یا وزارت و گورنری کا موقعہ مل جائے وہ ان عہدوں کو اپنا حق سمجھنے لگتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ عہدوں پر یا اقتدار میں رہے۔ وہ جب اسمبلی الیکشن لڑے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے حلقے سے صرف اسے ہی پارٹی کا ٹکٹ ملے خواہ اس نے اسمبلی میں اپنے حلقے کی موثر نمائندگی نہ کی ہو ۔ خاموشی اور مفاد پرستی کو اپنا وتیرہ بنا رکھا ہو یا اسمبلی میں سو کر وقت گزارا ہو۔ ایسے لوگ اکثریت میں ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا ان کے حلقے میں سیاسی طور پر نمایاں نہ ہو اور سیاسی اثر و رسوخ نہ حاصل کر لے۔ ایسے لوگ کسی بھی سیاسی پارٹی سے نظریاتی طور پر وفادار نہیں ہوتے نہ ان کے نزدیک پارٹی منشور اور اپنے سیاسی اصولوں کی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔

وہ دوسری بااثر سیاسی پارٹی سے بھی اندرونی طور پر رابطہ رکھتے ہیں تا کہ وقت ضرورت اس میں شمولیت کا دروازہ کھلا رکھیں۔ سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی انتخابات کے موقع پر ہوتی ہے یا کسی پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر پنچھی اپنے دیرینہ سیاسی گھونسلوں سے پرواز کر جاتے ہیں۔ ہماری ملکی سیاست میں بہت کم ایسے رہنما ہیں جنھوں نے اپنی سیاست کا آغاز جس پارٹی سے کیا ہو انھوں نے کبھی اچھے برے وقت میں اپنی سیاسی وفاداری تبدیلی نہ کی ہو اور کئی عشروں سے اب بھی پارٹی سے وفاداری نبھا رہے ہوں وگرنہ اکثریت ایسے ابن الوقت سیاسی رہنماؤں کی ہے جو اپنے پاس مختلف سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے بنوا کر تیار رکھتے ہیں اور پارٹی بدلتے وقت ان کے اپنے بنگلے پر لہرانے کی دیر ہوتی ہے۔


انتخابات کے وقت پارٹی ٹکٹ نہ ملے تو وہ اپنی مخالف پارٹی کا ٹکٹ لینے میں دیر نہیں کرتے اور نہ ملے تو آزادانہ طور پر انتخاب میں امیدوار بن جاتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں بھی اپنے لوگوں کی اہلیت اور وفاداری بہت کم دیکھتی ہیں اور انھیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ ایسے امیدوار کو ٹکٹ دیں جو ان کا دیرینہ ساتھی بے شک نہ ہو مگر الیکشن جیتنے کی طاقت ضرور رکھتا ہو۔

اکثر سیاسی پارٹیاں ان کے قائدین کی سیاسی ملکیت ہیں اور سیاست میں پارٹی سے زیادہ خود ان کی ذاتی شخصیت ہی پارٹی ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی واحد پارٹی ہے جہاں امیر پارٹی کا محتاج ہوتا ہے جماعت اس کی محتاج نہیں ہوتی۔ آج کی سیاست میں عمران خان کے بغیر تحریک انصاف کی، الطاف حسین کے بغیر متحدہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ مسلم لیگ نواز شریف، پیر پگاڑا اور چوہدری شجاعت کی اپنی سیاسی حیثیت کے باعث گروپوں میں تقسیم ہے۔ پیپلزپارٹی کا پتہ صدر زرداری کی واپسی کے بعد چلے گا کیونکہ پی پی بے نظیر بھٹو جیسی بھاری بھرکم سیاسی شخصیت سے محروم ہو چکی ہے۔

دیگر سیاسی پارٹیاں بھی شخصی طور پر چل رہی ہیں۔ رہی اصول پرستی تو وہ بھی مفاد پرستی کے تابع آ گئی ہے اور بڑے بڑے اصول پرست پارٹیوں میں نظر انداز ہونے کے باوجود سینیٹ کی نشست کے لیے چپ ہو جاتے ہیں اور پارٹی میں رہنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں تو بیرون ملک سے برآمد کر کے غیر سیاسی لوگوں کو دو بار وزارت عظمیٰ دی گئی اور وہ ملک تباہ کر کے چلے گئے۔ ملک میں گورنری اور وزارت اعلیٰ بھی اکثر سرداروں، جاگیرداروں کی میراث رہی ہے البتہ وزیر اعلیٰ کے عہدے قائد کی انگلیوں پر ناچنے والوں کو دیے جاتے رہے ہیں جو بوجھ بنیں تو فارغ کر دیے جاتے ہیں۔ نو منتخب صدر ممنون حسین سے زیادہ پنجاب کی گورنری پہ جہاں سیاسی حلقوں میں اعتراضات ہوئے ہیں وہاں بعض نامور کالم نگاروں نے گورنر پنجاب کے لیے چوہدری سرور کی خدمات کے باعث ان کی نامزدگی کو سراہا بھی تھا۔ پنجاب کی ایک ادبی شخصیت اور سابق سفارتکار پنجاب کی گورنری کے منتظر تھے جن کی حمایت (ن) لیگ مخالف حلقوں سے بھی ہوئی مگر وزیر اعظم نواز شریف نے برطانیہ میں سیاست کرنے والے اور وہاں کی پارلیمنٹ میں منتخب ہوتے رہنے والے چوہدری سرور کا انتخاب کیا۔

چوہدری محمد سرور 35 سال قبل کاروباری طور پر برطانیہ منتقل ہو گئے تھے جس کے بعد وہ برطانوی سیاست میں آئے۔ نمایاں ہو کر کامیاب ہوئے اور منفرد اعزاز کے حقدار بنے۔ ایک شخص جس نے برطانیہ جا کر اپنے کاروبار کو پہلے مستحکم کیا اور بعد میں برطانیہ کی سیاست میں حصہ لے کر اپنی قابلیت اور صلاحیت سے یہ مقام حاصل کیا کہ انھیں پہلے گلاسکو کا میئر اور بعد میں برطانوی پارلیمنٹ میں پہلے پاکستانی اور مسلمان ہونے کے ناطے رکن پارلیمنٹ بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہو کیا پاکستان میں اپنے صوبے کا گورنر بننے کا حق حاصل نہیں جس نے پاکستان کو برطانیہ میں منفرد اعزاز دلایا ہو اور اب برطانوی شہرت چھوڑ کر ملک واپس آ کر تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی کے لیے کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہو اسے اپنے آئینی محدود کردار میں رہتے ہوئے اگر یہ کچھ کرنے کا موقعہ مل جائے تو اس کی حوصلہ افزائی ضرور کی جانی چاہیے کیونکہ ان کے پاس برطانیہ میں حاصل کیا گیا تجربہ ہے۔ چوہدری سرور جیسی شخصیات وطن واپس آ کر اپنے تجربات اور صلاحیتوں کو استعمال کریں تو انھیں ملک کی مفاد پرستانہ اور بے اصولی سیاست میں بھی ایک مثبت تبدیلی کی توقع رکھی جا سکتی ہے وگرنہ ہماری سیاست اپنی پرانی ڈگر پر اسی طرح چلتی رہے گی جیسے 66 سال سے چل رہی ہے۔
Load Next Story