مہنگائی اور غربت کا خاتمہ بنیادی ہدف
ارباب اختیار اپنی معاشی سمت درست کریں، شہریوں کے بنیادی اور روزمرہ مسائل حل ہونے چاہئیں۔
ارباب اختیار اپنی معاشی سمت درست کریں، شہریوں کے بنیادی اور روزمرہ مسائل حل ہونے چاہئیں۔ فوٹو: فائل
MELBOURNE:
وفاقی کابینہ نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل نہ کرنے جب کہ غریبوں کی کفالت کے لیے ''احساس'' نام سے پروگرام لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ، ڈاکٹر ثانیہ نشترکی سربراہی میں سماجی تحفظ و انسداد غربت ڈویژن کا قیام، انصاف ہیلتھ کارڈ، پاکستان بیت المال ، محکمہ زکوۃ و عشر سمیت غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے ادارے اس نئے ڈویژن کے ماتحت ہونگے ، فاٹاکے لیے 57ارب 30کروڑ فاٹا کو منتقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی، کابینہ نے فیصلہ کیا کہ سیاسی تنازعات کو کھیلوں اور ثقافت میں نہیں آنا چاہیے،پاکستان میں آئی پی ایل پر پابندی لگائی گئی ہے ، بھارت نے پاکستان میں کرکٹ کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش کی۔
کابینہ نے سوئی سدرن اور پی آئی اے سمیت کئی اداروں کے سربراہان اور اوجی ڈی سی ایل بورڈ آف گورنر کے تقرر کی بھی منظوری دی ۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 19 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جب کہ کئی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے 19نکاتی ایجنڈہ پر تفصیلی غور وخوض کیا تاہم بعض اہم فیصلوں کا اعلان وزیرخزانہ اسد عمر نے میڈیا سے وزارت خزانہ میں گفتگوکے دوران کیا جس میں ملکی و غیر ملکی نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم، امرا پر ٹیکس میں چھوٹ،اور WHT ختم کرنے ، یکم جولائی سے نان فائلرز پر جائیداد کی خریداری کی پابندی کا خاتمہ نمایاں اقدامات ہونگے، مگر اس کے لیے پراپرٹی دی ویلویشن کا نظام درست کرنا ہوگا، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے خدوخال تیار کیے جا رہے ہیں،اس اسکیم پر میڈیا میں اس حوالہ سے بحث قابل غور ہے ۔
ماہرین کے مطابق حکومت نے یوٹرن لے لیا تاہم ملکی معیشت کے استحام کے لیے کالا دھن کو سفید کرنے کے لیے اب ضرورت گاجر اور چھڑی کا استعمال درست نہ ہوگا، کاروباری برادری اپنی چھپی ہوئی دولت اور اثاثے ظاہر کرنا چاہتی ہے تو اسے بلاخوف وخطر اپنا کالا دھن ظاہر کرنے کی چھوٹ دی جائے مگر اس اسکیم کو پیسہ کمانے کا ذریعہ بنانے سے حکومت گریز کرے۔اسد عمر نے خوش آیند پیش رفت سے آگاہ کیا کہ اپوزیشن سے مل کر میثاق معیشت کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے، جسے منظوری کے لیے جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، انھوں نے بتایا کہ ٹیکس ایمنسٹی لانے کی منطق یہ ہے کہ جو لوگ جیل جانا پسند نہیں کریں گے، اپنا پیسہ لائیں گے۔
یہ تجویز بھی آئی کہ سیاستدانوں اور سرکاری ملازمین کو بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی جائے۔بہرحال وزیرخزانہ نے عوام پر مزید گیس ،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا جو عندیہ دیا ہے اس کے مضمرات کو ارباب اختیار کو ذہن میں رکھنا چاہیے، عوام ہوشربا مہنگائی کے شدید دباؤ میں ہیں اور حکومت کے قول وفعل کا بڑا امتحان لے رہے ہیں، نیپرا بجلی کی سہ ماہی قیمتوں کے تعین کا جو نظام استعمال کررہی ہے اسے ماضی میں شدید عوامی اضطراب کا سبب بتایا گیا تھا، حکومت کو مہنگائی کے اسباب کو ترقیاتی کاموں کا شاخسانہ کہنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے، ترقی کہاں ہورہی ہے،حکومت بتائے تو سہی۔ لوگ اس معاشی مسیحائی کو رد کردیں گے جس سے ان کی زندگیاں اجیرن ہوجائیں، حکومت ادراک کرے کہ مہنگائی حد سے آگے بڑھ کر کہیں اونٹ کی کمر کا آخری تنکا نہ بن جائے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ کے ابتک 33اجلاس ہوئے، جن میں 607فیصلے ، 378 فیصلوں پر مکمل عمل درآمد کردیا گیا، کابینہ اجلاس کے فیصلوں پر 90 دن میں عملدرآمد ہوتاہے، البتہ18فیصلوں پر 90روز کے اندر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی موسم گرما بالخصوص رمضان المبارک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے ، گندم کی خریداری،آیندہ سردیوں میں گیس کی مطلوبہ مقدار یقینی بنانے ، نئی گاڑیوں پراضافی رقم کے خاتمے کے لیے جامع پالیسی مرتب کرنے،آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور ملائیشین آڈٹ کے ساتھ تعاون کے معاہدے کی منظوری دی گئی ۔ کئی انتظامی فیصلے بھی ہوئے ، وزیراطلاعات نے کہاکہ ایئرمارشل (ر)ارشد ملک کو پی آئی اے کا سی ای او تعینات کردیا گیا، شمس الدین پی ایم ڈی سی کے نئے چیئرمین ہوں گے۔
قمر جاوید شریف کی سربراہی میں اوجی ڈی سی ایل اور ڈاکٹر شمشاد اختر کی سربراہی میں ایس ایس جی سی ایل کا نیا بورڈ تشکیل، آئی پی او بورڈ سے حسن شاہ کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ وزیر اطلاعات نے کہا وہ لوگ جو قرضوں کے لیے بینک کو گارنٹی نہیں دے سکتے لیکن کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے قرضوں کا پروگرام ہے، وزیراعظم اسکیم کے تحت سستا گھر اسکیم کا افتتاح بھی جلد کیا جائے گا۔فواد چوہدری نے بتایا کہ آئل اینڈ گیس لمیٹڈ کارپوریشن اور سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کے نئے بورڈ تشکیل دیے گئے ہیں،اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) کے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ وزیراعظم نے گندم، کپاس، چاول کے حوالے سے پالیسی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومتی پالیسیوں کی بدولت پہلی بارگنے کے کاشتکار کومکمل معاوضہ ملا، وزیرخزانہ اسدعمر معیشت پر روڈ میپ اسی ہفتے سامنے لائیں گے، آرٹ، کلچر اور فیشن کے شعبوں کی ترقی اور فروغ کے لیے ٹاسک فورس کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ گرمیوں بالخصوص رمضان میں لوڈشیڈنگ کم سے کم ہو، گاڑیوں کی اون کے بغیر اصل قیمت پرعملدر آمد یقینی بنایاجائے ۔انھوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں طے ہوا تھا کہ فوجی عدالتیں بنائی جائیں گی اوراس حوالے سے حکومت کی پوزیشن بڑی واضح ہے ،کابینہ اجلاس میں شاہ محمود اورجہانگیر ترین تنازع بھی زیربحث آیا اوراس معاملے پروزیراعظم نے ناپسندیدگی کا اظہارکیا ہے۔
فواد چوہدری نے مزیدکہا کہ مرادعلی شاہ سے پوچھا جائے کہ این ایف سی ایوارڈ کی رقم کہاں خرچ ہوئی، 90ہزارکروڑ روپے کہاں گئے ، دریں اثنا وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نان ٹیکس فائلر کے خلاف آیندہ ماہ سے کریک ڈاؤن شروع کرے گی، وزیر مملکت نے مزید کہاکہ حکومت کو ملک بھر سے 40 سے 50 ہزار نان ٹیکس فائلر کی معلومات وصول ہوئی ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ آیندہ بجٹ میں زراعت کے لیے بڑا پیکیج لا رہے ہیں۔ سی پیک کا اسپیشل اکنامک زون رشکئی علاقے کی معاشی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔تاہم حکومت پنجاب نئے بلدیاتی نظام کو حتمی شکل دینے میں ناکام ہو گئی ، وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بار بار مہلت ملنے کے باوجود پنجاب حکومت حتمی مسودہ تیار نہ کرسکی ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے مثبت بات کہی ہے کہ مستقبل کی سرمایہ کاری کا مرکز بلوچستان ہے۔
ارباب اختیار اپنی معاشی سمت درست کریں، شہریوں کے بنیادی اور روزمرہ مسائل حل ہونے چاہئیں، مائیکرو اور میکرو اکنامک فوائد سے عوام کو جینے کا سہارا ملے، سماجی گھٹن کم ہو، سنگین جرائم الارمنگ ہیں۔ حکومت اقتصادی بریک تھرو کے لیے آل آؤٹ اقدامات میں کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لائے۔ عوام کی تنگدستی اور غربت کا جب خاتمہ ہوگا تب ہی حکمرانوں کی گڈ گورننس کی تعریف ہوگی ۔
وفاقی کابینہ نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل نہ کرنے جب کہ غریبوں کی کفالت کے لیے ''احساس'' نام سے پروگرام لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ، ڈاکٹر ثانیہ نشترکی سربراہی میں سماجی تحفظ و انسداد غربت ڈویژن کا قیام، انصاف ہیلتھ کارڈ، پاکستان بیت المال ، محکمہ زکوۃ و عشر سمیت غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے ادارے اس نئے ڈویژن کے ماتحت ہونگے ، فاٹاکے لیے 57ارب 30کروڑ فاٹا کو منتقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی، کابینہ نے فیصلہ کیا کہ سیاسی تنازعات کو کھیلوں اور ثقافت میں نہیں آنا چاہیے،پاکستان میں آئی پی ایل پر پابندی لگائی گئی ہے ، بھارت نے پاکستان میں کرکٹ کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش کی۔
کابینہ نے سوئی سدرن اور پی آئی اے سمیت کئی اداروں کے سربراہان اور اوجی ڈی سی ایل بورڈ آف گورنر کے تقرر کی بھی منظوری دی ۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 19 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جب کہ کئی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے 19نکاتی ایجنڈہ پر تفصیلی غور وخوض کیا تاہم بعض اہم فیصلوں کا اعلان وزیرخزانہ اسد عمر نے میڈیا سے وزارت خزانہ میں گفتگوکے دوران کیا جس میں ملکی و غیر ملکی نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم، امرا پر ٹیکس میں چھوٹ،اور WHT ختم کرنے ، یکم جولائی سے نان فائلرز پر جائیداد کی خریداری کی پابندی کا خاتمہ نمایاں اقدامات ہونگے، مگر اس کے لیے پراپرٹی دی ویلویشن کا نظام درست کرنا ہوگا، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے خدوخال تیار کیے جا رہے ہیں،اس اسکیم پر میڈیا میں اس حوالہ سے بحث قابل غور ہے ۔
ماہرین کے مطابق حکومت نے یوٹرن لے لیا تاہم ملکی معیشت کے استحام کے لیے کالا دھن کو سفید کرنے کے لیے اب ضرورت گاجر اور چھڑی کا استعمال درست نہ ہوگا، کاروباری برادری اپنی چھپی ہوئی دولت اور اثاثے ظاہر کرنا چاہتی ہے تو اسے بلاخوف وخطر اپنا کالا دھن ظاہر کرنے کی چھوٹ دی جائے مگر اس اسکیم کو پیسہ کمانے کا ذریعہ بنانے سے حکومت گریز کرے۔اسد عمر نے خوش آیند پیش رفت سے آگاہ کیا کہ اپوزیشن سے مل کر میثاق معیشت کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے، جسے منظوری کے لیے جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، انھوں نے بتایا کہ ٹیکس ایمنسٹی لانے کی منطق یہ ہے کہ جو لوگ جیل جانا پسند نہیں کریں گے، اپنا پیسہ لائیں گے۔
یہ تجویز بھی آئی کہ سیاستدانوں اور سرکاری ملازمین کو بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی جائے۔بہرحال وزیرخزانہ نے عوام پر مزید گیس ،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا جو عندیہ دیا ہے اس کے مضمرات کو ارباب اختیار کو ذہن میں رکھنا چاہیے، عوام ہوشربا مہنگائی کے شدید دباؤ میں ہیں اور حکومت کے قول وفعل کا بڑا امتحان لے رہے ہیں، نیپرا بجلی کی سہ ماہی قیمتوں کے تعین کا جو نظام استعمال کررہی ہے اسے ماضی میں شدید عوامی اضطراب کا سبب بتایا گیا تھا، حکومت کو مہنگائی کے اسباب کو ترقیاتی کاموں کا شاخسانہ کہنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے، ترقی کہاں ہورہی ہے،حکومت بتائے تو سہی۔ لوگ اس معاشی مسیحائی کو رد کردیں گے جس سے ان کی زندگیاں اجیرن ہوجائیں، حکومت ادراک کرے کہ مہنگائی حد سے آگے بڑھ کر کہیں اونٹ کی کمر کا آخری تنکا نہ بن جائے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ کے ابتک 33اجلاس ہوئے، جن میں 607فیصلے ، 378 فیصلوں پر مکمل عمل درآمد کردیا گیا، کابینہ اجلاس کے فیصلوں پر 90 دن میں عملدرآمد ہوتاہے، البتہ18فیصلوں پر 90روز کے اندر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی موسم گرما بالخصوص رمضان المبارک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے ، گندم کی خریداری،آیندہ سردیوں میں گیس کی مطلوبہ مقدار یقینی بنانے ، نئی گاڑیوں پراضافی رقم کے خاتمے کے لیے جامع پالیسی مرتب کرنے،آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور ملائیشین آڈٹ کے ساتھ تعاون کے معاہدے کی منظوری دی گئی ۔ کئی انتظامی فیصلے بھی ہوئے ، وزیراطلاعات نے کہاکہ ایئرمارشل (ر)ارشد ملک کو پی آئی اے کا سی ای او تعینات کردیا گیا، شمس الدین پی ایم ڈی سی کے نئے چیئرمین ہوں گے۔
قمر جاوید شریف کی سربراہی میں اوجی ڈی سی ایل اور ڈاکٹر شمشاد اختر کی سربراہی میں ایس ایس جی سی ایل کا نیا بورڈ تشکیل، آئی پی او بورڈ سے حسن شاہ کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ وزیر اطلاعات نے کہا وہ لوگ جو قرضوں کے لیے بینک کو گارنٹی نہیں دے سکتے لیکن کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے قرضوں کا پروگرام ہے، وزیراعظم اسکیم کے تحت سستا گھر اسکیم کا افتتاح بھی جلد کیا جائے گا۔فواد چوہدری نے بتایا کہ آئل اینڈ گیس لمیٹڈ کارپوریشن اور سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کے نئے بورڈ تشکیل دیے گئے ہیں،اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) کے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ وزیراعظم نے گندم، کپاس، چاول کے حوالے سے پالیسی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومتی پالیسیوں کی بدولت پہلی بارگنے کے کاشتکار کومکمل معاوضہ ملا، وزیرخزانہ اسدعمر معیشت پر روڈ میپ اسی ہفتے سامنے لائیں گے، آرٹ، کلچر اور فیشن کے شعبوں کی ترقی اور فروغ کے لیے ٹاسک فورس کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ گرمیوں بالخصوص رمضان میں لوڈشیڈنگ کم سے کم ہو، گاڑیوں کی اون کے بغیر اصل قیمت پرعملدر آمد یقینی بنایاجائے ۔انھوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں طے ہوا تھا کہ فوجی عدالتیں بنائی جائیں گی اوراس حوالے سے حکومت کی پوزیشن بڑی واضح ہے ،کابینہ اجلاس میں شاہ محمود اورجہانگیر ترین تنازع بھی زیربحث آیا اوراس معاملے پروزیراعظم نے ناپسندیدگی کا اظہارکیا ہے۔
فواد چوہدری نے مزیدکہا کہ مرادعلی شاہ سے پوچھا جائے کہ این ایف سی ایوارڈ کی رقم کہاں خرچ ہوئی، 90ہزارکروڑ روپے کہاں گئے ، دریں اثنا وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نان ٹیکس فائلر کے خلاف آیندہ ماہ سے کریک ڈاؤن شروع کرے گی، وزیر مملکت نے مزید کہاکہ حکومت کو ملک بھر سے 40 سے 50 ہزار نان ٹیکس فائلر کی معلومات وصول ہوئی ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ آیندہ بجٹ میں زراعت کے لیے بڑا پیکیج لا رہے ہیں۔ سی پیک کا اسپیشل اکنامک زون رشکئی علاقے کی معاشی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔تاہم حکومت پنجاب نئے بلدیاتی نظام کو حتمی شکل دینے میں ناکام ہو گئی ، وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بار بار مہلت ملنے کے باوجود پنجاب حکومت حتمی مسودہ تیار نہ کرسکی ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے مثبت بات کہی ہے کہ مستقبل کی سرمایہ کاری کا مرکز بلوچستان ہے۔
ارباب اختیار اپنی معاشی سمت درست کریں، شہریوں کے بنیادی اور روزمرہ مسائل حل ہونے چاہئیں، مائیکرو اور میکرو اکنامک فوائد سے عوام کو جینے کا سہارا ملے، سماجی گھٹن کم ہو، سنگین جرائم الارمنگ ہیں۔ حکومت اقتصادی بریک تھرو کے لیے آل آؤٹ اقدامات میں کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لائے۔ عوام کی تنگدستی اور غربت کا جب خاتمہ ہوگا تب ہی حکمرانوں کی گڈ گورننس کی تعریف ہوگی ۔