پاک فوج کے 3 جوان وطن پر نثار

بلاشبہ اہل وطن کو پاکستانی فوجیوں کی شہادت پر فخر ہے اور اس بات کا ثبوت ان جنازوں میں خلق خدا کا امنڈ آنا بھی ہے۔

بلاشبہ اہل وطن کو پاکستانی فوجیوں کی شہادت پر فخر ہے اور اس بات کا ثبوت ان جنازوں میں خلق خدا کا امنڈ آنا بھی ہے۔ فوٹو: فائل

لائن آف کنٹرول کے راولاکوٹ سیکٹر میں پاک فوج کے تین جوانوں نے اپنی جانیں وطن پر نچھاور کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ، جب کہ پاکستان کی جانب سے جوابی فائرنگ سے سات بھارتی فوجی ہلاک اور نو زخمی ہوئے، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔

بلاشبہ اہل وطن کو پاکستانی فوجیوں کی شہادت پر فخر ہے اور اس بات کا ثبوت ان جنازوں میں خلق خدا کا امنڈ آنا بھی ہے۔ پاکستانی عوام اپنی جری اور بہادر فوج سے اس لیے پیارکرتے ہیں کہ وہ اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کرتے ہیں۔ بھارت ایل او سی پر فائرنگ سے 2003ء کے سیز فائر معاہدے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کی خاطر پہل کی لیکن بد قسمتی سے بھارت کا رویہ امن پسند نہیں۔ لائن آف کنٹرول پر بھارت بلااشتعال فائرنگ کیوں کرتا ہے؟ جواب انتہائی سادہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے سوا کوئی دوسرا قابل عمل، دیرپا اور جمہوری حل نہیں ہوسکتا، لیکن بھارتی فوج اور بیوروکریسی میں موجود ایک انتہا پسند لابی دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کے خلاف ہے جس کی وجہ سے بھارتی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔


عسکری ماہرین کے مطابق 2016ء سے اب تک بھارت 2 ہزار سے زائد بار سیزفائرکی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیہاتی آبادیوں کو نشانہ بناچکا ہے جس میں سیکڑوں خواتین اور بچے شہید و زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی چند روز پیشتر ہی ہمارے شاہینوں نے دو بھارتی طیارے پلک جھپکنے میں مار گرائے تھے اور ایک بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو زندہ گرفتار بھی کرلیا تھا، جسے بعد ازاں رہا بھی کیا گیا ۔ بین الاقوامی ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

تاریخی اعدادوشمار کے آئینے میں دیکھا جائے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان 3252کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس میں سے 2175 کلومیٹرکو باقاعدہ عالمی سطح پر تسلیم کیا جاچکا ہے جب کہ باقی سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیاہے، جس میں سے 108کلومیٹر لائن آف ایکچیوئل کنٹرول (LoAC)، 767 کلومیٹر لائن آف کنٹرول اور 202 کلومیٹر ورکنگ باؤنڈری شامل ہے۔ یہ مسئلہ فوری حل طلب تھا لیکن مقام افسوس ہے کہ اقوام عالم ، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بھارت سے عمل درآمد کروانے میں ناکام ومراد ہوئی ہیں ۔

عالمی ضمیر مردہ ہوچکا ہے ۔ اس مسئلے کا واحد اور دیرپا حل یہ ہے کہ بھارت کشمیر ی عوام کو ان کا حق دے اور پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ ختم کرے تب ہی دونوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوسکتی ہے۔
Load Next Story