پاکستانی آم کو آسٹریلیا کی ہائی ویلیو منڈی تک رسائی مل گئی

آسٹریلیا نے پاکستانی فیکٹریوں میں پراسیسنگ سہولتوں کا 2سال جائزہ لینے کے بعدآم برآمدکرنے کی اجازت دی

رواں سیزن میں ہی ٹرائل شپمنٹ ہائی ویلیو منڈی آسٹریلیا روانہ کی جائے گی فوٹو: فائل

آسٹریلیا نے پاکستانی کمپنیوں کو آم برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

جس کے بعد رواں سیزن میں ہی ٹرائل شپمنٹ ہائی ویلیو منڈی آسٹریلیا روانہ کی جائے گی۔آسٹریلیا کی جانب سے پاکستانی قرنطینہ انتظامات اور فیکٹریوں میں پراسیسنگ کی سہولتوں کا گزشتہ 2 سال سے جائزہ لیا جارہا تھا، رواں سیزن بھی آسٹریلوی ماہرین نے2 پاکستانی فیکٹریوں کا دورہ کرکے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ اور حفظان صحت کے انتظامات کا جائزہ لیا تھا جس کے بعد آسٹریلوی حکام نے پاکستان کو کلیئر کرتے ہوئے آم برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔




آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد کے مطابق آسٹریلیا میں خود بھی آم پیدا ہوتا ہے تاہم آسٹریلیا کا سیزن نومبر دسمبر میں آتا ہے، اس دوران پاکستانی آم کے لیے آسٹریلوی منڈی میں بہت گنجائش ہے تاہم پاکستان میں آم کے معیار اور ظاہری خوبصورتی کو بہتر بنانے کے لیے فارم کی سطح پر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی سخت ضرورت ہے، معیار کو بہتر کیے بغیر آسٹریلیوی منڈی کھلنے کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا، معیار کو بہتر بناکر 5 سال میں آسٹریلیا کی مارکیٹ کو پاکستان سے آم کی برآمدات 4ملین ڈالر تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔

آسٹریلیا کی طرح جنوبی کوریا، ماریشس اور جاپان کی منڈیاں بھی ہائی ویلیو منڈیاں ہیں، ان منڈیوں میں جگہ بنانے کے لیے کاشتکاروں کو بھی انڈسٹری کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا، ان منڈیوں میں آم کے ذائقے کے ساتھ ظاہری خوبصورتی کو بھی ترجیح دی جاتی ہے، آسٹریلیا کی منڈی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ لاجسٹک کے مسائل ہیں، پاکستان سے آسٹریلیا کے لیے براہ راست پروازیں نہ ہونے سے مشکلات کا سامنا ہوگا اور فریٹ مہنگا ہونے سے بلند لاگت کا سامنا ہوگا۔
Load Next Story