پہلی لا یونیورسٹی کا قیام سندھ کیلیے باعث افتخار ہے گورنر
کے ایم سی شہید بھٹو یونیورسٹی آف لا کیلیے قطعہ اراضی فراہم کریگی،اجلاس میں فیصلہ
گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ سندھ میں پہلی لا یونیورسٹی کا قیام صوبے کیلیے باعث افتخار ہے. فوٹو: فائل
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملک کی پہلی لا یونیورسٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کی تشکیل کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ اعجاز چوہدری ، پرنسپل سیکریٹری محمد حسین سید ، وائس چانسلر لا یونیورسٹی ڈاکٹر قاضی خالد علی ، سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت ، مشیر اعلیٰ تعلیم سید وجاہت علی اور منصوبہ بندی و ترقیات ، تعلیم ، بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی،اجلاس میں طے کیا گیا کہ کے ایم سی لا یونیورسٹی کے لیے قطعہ اراضی فراہم کرے گی جبکہ ابتدائی طور پر یونیورسٹی کو فعال کرنے کیلیے بھی شہر میں مناسب جگہ کا انتظام کیا جائے گا، چیف سیکریٹری اور متعلقہ محکموں کے حکام نے ملک کی پہلی لا یونیورسٹی کے قیام کیلیے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ،اجلاس میں بتایا گیا کہ اس ضمن میں محکمہ تعلیم کی جانب سے اس ہفتے پی سی ون کو حتمی صورت دیدی جائے گی۔
گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ سندھ میں پہلی لا یونیورسٹی کا قیام صوبے کیلیے باعث افتخار ہے اس کے لیے ہمیں ترجیحی بنیادوں پرکام کرنا ہوگا، انھوں نے وائس چانسلر کو ہدایت کی کہ سابق ججز اور قانون کے پیشے سے وابستہ معروف افراد کا بھرپور تعاون حاصل کریں، انھوں نے واضح کیا کہ قانون کی معیاری تعلیم اور لا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد کا اعلیٰ معیار ہی یونیورسٹی کا طرہْ امتیاز ہونا چاہیے،اجلاس میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی کا قانون کی تعلیم کے اعلیٰ معیار کے غیر ملکی اداروں سے الحاق کے لیے بھی کام جاری ہے جبکہ ہائرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے قانون کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بیرون ملک گئے ہوئے پانچ اسکالرز کو واپسی پر لاء یونیورسٹی میں تعینات کیا جائے گا ۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ اعجاز چوہدری ، پرنسپل سیکریٹری محمد حسین سید ، وائس چانسلر لا یونیورسٹی ڈاکٹر قاضی خالد علی ، سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت ، مشیر اعلیٰ تعلیم سید وجاہت علی اور منصوبہ بندی و ترقیات ، تعلیم ، بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی،اجلاس میں طے کیا گیا کہ کے ایم سی لا یونیورسٹی کے لیے قطعہ اراضی فراہم کرے گی جبکہ ابتدائی طور پر یونیورسٹی کو فعال کرنے کیلیے بھی شہر میں مناسب جگہ کا انتظام کیا جائے گا، چیف سیکریٹری اور متعلقہ محکموں کے حکام نے ملک کی پہلی لا یونیورسٹی کے قیام کیلیے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ،اجلاس میں بتایا گیا کہ اس ضمن میں محکمہ تعلیم کی جانب سے اس ہفتے پی سی ون کو حتمی صورت دیدی جائے گی۔
گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ سندھ میں پہلی لا یونیورسٹی کا قیام صوبے کیلیے باعث افتخار ہے اس کے لیے ہمیں ترجیحی بنیادوں پرکام کرنا ہوگا، انھوں نے وائس چانسلر کو ہدایت کی کہ سابق ججز اور قانون کے پیشے سے وابستہ معروف افراد کا بھرپور تعاون حاصل کریں، انھوں نے واضح کیا کہ قانون کی معیاری تعلیم اور لا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد کا اعلیٰ معیار ہی یونیورسٹی کا طرہْ امتیاز ہونا چاہیے،اجلاس میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی کا قانون کی تعلیم کے اعلیٰ معیار کے غیر ملکی اداروں سے الحاق کے لیے بھی کام جاری ہے جبکہ ہائرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے قانون کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بیرون ملک گئے ہوئے پانچ اسکالرز کو واپسی پر لاء یونیورسٹی میں تعینات کیا جائے گا ۔