اقتصادی ماحول سازگار کرنے کی ضرورت

اسد عمر اور دیگر معاشی ماہرین اپنا بلیو پرنٹ اقتدار سے پہلے مکمل کرلیتے تو معاشی مسائل کی سونامی سے کوئی خطرہ نہ ہوتا۔

اسد عمر اور دیگر معاشی ماہرین اپنا بلیو پرنٹ اقتدار سے پہلے مکمل کرلیتے تو معاشی مسائل کی سونامی سے کوئی خطرہ نہ ہوتا۔ فوٹو:فائل

KARACHI:
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2019میں معاشی ترقی کی شرح کم ہو کر 3.9 فیصد ہو جائے گی جب کہ مہنگائی بڑھے گی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور روپیہ دباؤ کا شکار رہے گا جب کہ کم از کم زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے بھاری بیرونی امداد کی ضرورت ہو گی۔

بینک کی رپورٹ ''ایشیئن ڈویلپمنٹ آؤٹ لک2019'' کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک شرح نمو مسلسل دوسرے سال کم ہوتے ہوئے 3.9 فیصد پر آ جائے گی جب کہ آیندہ مالی سال 2019-20میں یہ شرح مزید کم ہو کر 3.6 فیصد پر آ جائے گی۔ 3.9 فیصد کی شرح کے ساتھ پاکستان آٹھ جنوب ایشیائی ممالک میں سست رفتار معاشی ترقی کی بنیاد پر چھٹے نمبر پر ہو گا۔

بھاری کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لانے کے لیے بڑی مقدار میں قرضے لینے پڑیں گے جب کہ 2019کے اوائل میں ملنے والی بیرونی امداد کا بڑا حصہ توازن ادائیگی کا خسارہ دور کرنے پر خرچ ہو جائیگا۔ ایشیائی بینک نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور کاروباری افراد کا اعتماد بحال کرنے کے لیے میکرو اکنامک استحکام کی ضرورت ہے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے ایک بیان نے معاشی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے، ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس نہ گئے تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ وہ بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ وفاقی وزیر اسد عمرنے کہا کہ ادائیگیوں کے توازن کے لیے دو آپشنز ہیں، ایک آپشن دیوالیہ ہونے کا ہے اور دوسرا آئی ایم ایف کا پروگرام لینے کا ہے، اگر دیوالیہ ہوتے ہیں تو پاکستانی روپے کی قدر بہت کم ہو جائے گی اور ملک میں سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جا کر اصلاحات لائیں گے، حکومت کی کوشش ہو گی کہ کمزور طبقے پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔ بہر حال یہ تو آیندہ وقت بتائے گا کہ معیشت کسی کروٹ بیٹھے گی تاہم آئی ایم ایف سے ایک نازک وقت میں رجوع کرنے سے کیا یہ بہتر نہ تھا کہ عالمی مالیاتی ادارہ سے امدادی پیکیج کسی فین فیئر کے بغیر جلدی لے لیا جاتا، کیونکہ عوام کو ہمیشہ یہی تاثر ملتا رہا کہ ملکی مفاد کے برعکس پیکیج نہیں لیں گے، پھر اگر خدشات تھے تو اسی وقت آئی ایم ایف سے معاشی ضرورت کے مطابق معاہدہ کر لینے میں کوئی مضائقہ نہ تھا، اب بھی مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے، حکومت کو صائب اور ٹھوس دلائل کی بنیاد پر آئی ایم ایف سے معاملے طے کر لینا چاہیے۔

صدر عارف علوی نے کامسیٹ یونیورسٹی کی سینیٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی چیلنجز کے باوجود حکومت عوام کے سماجی مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ حکومت میں اتنی جرات ہے کہ ملکی مفاد کے لیے سخت فیصلے کر سکے۔ بہت جلد معیشت ٹریک پر آ جائے گی اور معیشت مضبوط ہو جائے گی، ادھر پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کا اجلاس چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور کو چیئرمین آصف زرداری کی زیرصدارت نوڈیرو ہاؤس میں ہوا۔


اجلاس کے بعد پی پی رہنما فرحت بابر نے کہا کہ اجلاس میں منظور ہونے والی قراردادوں میں ملک میں مہنگائی، بیروزگاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس کی ذمے دار موجودہ نااہل حکومت اور موجودہ ملکی سیاسی صورتحال ہے، مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی ایمنسٹی اسکیم نااہلی اور منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے، مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے 5.8 فیصد جی ڈی پی سے ترقی کرتا پاکستان پی ٹی آئی کے حوالے کیا تھا، جس نے جی ڈی پی ساڑھے 3 فیصد کے قریب پہنچا دیا، حکومت نے مہنگائی کی ، اس شرح کو8 ماہ میں بڑھا کر 9.4 فیصد پر پہنچا دیا، بجلی 25، گیس141 فیصد اور پٹرول کی قیمت میں بار بار اضافے نے قوم کو بے حال کر دیا ہے، عوام پوچھ رہے ہیں کہ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر کہاں ہیں؟

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر دالوں اور چاول کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو گیا، یوٹیلیٹی اسٹورز پر دالوں اور چاول کی قیمتوں میں 10سے 50 روپے تک اضافہ کر دیا گیا، دالوں اور چاول کی قیمتوں میں اضافہ 2 ارب کے رمضان ریلیف پیکیج پر بھی اثر انداز ہو گا۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن پر چند روز قبل بھی چند برانڈڈ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا تاہم اب ایک مرتبہ پھر دالوں اور چاولوں کی قیتموں میں ایک بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے، اوپن مارکیٹ میں تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنی مصنوعات میں5 سے15 فیصد فوری اضافہ کر دیا ہے، دوائیں انتہائی مہنگی بک رہی ہیں۔

گھی، چاول، چینی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کے ساتھ تمام روٹس کے ٹرانسپورٹروں نے بھی کرایوں میں من مانے اضافے کر دیے، جس سے مسافروں اور ٹرانسپورٹروں میں جھگڑے شروع ہو گئے ہیں، مقامی روٹ کے ٹرانسپورٹروں نے بھی کرایہ بڑھا دیا ہے چنگ چی رکشاؤں، ٹیکسی اور رکشا مالکان نے بھی کرائے بڑھا دیے ہیں، نان بائیوں نے روٹی کی قیمت میں اضافہ کی انتظامیہ کو ڈیڈ لائن دے دی ہے۔

رمضان سے قبل مہنگائی کا بڑا طوفان بھی آنے کے لیے ''تیاری'' مکمل کر چکا ہے، کجھوریں اور پھل مہنگے ہونگے، اوپن مارکیٹ میں گھی کی قیمت دس روپے اضافہ کے ساتھ 160 روپے، چینی کی قیمت دو روپے اضافہ کے ساتھ60 روپے کلو، چاول 160 روپے کلو سے اضافہ کے ساتھ200 روپے کلو، ملٹی نیشنل تمام کمپنیوں نے صابن کی قیمت10روپے اضافہ کے ساتھ ٹکیہ55 اور60 روپے کر دی ہے، کیچ اپ 185روپے سے بڑھا کر 200 روپے، آٹا تھیلا بڑھا کر810 روپے کر دیا گیا ہے جب کہ نئی سبزیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے بھنڈی200 روپے کلو، کریلہ300 روپے کلو، کچنار 240 روپے کلو، شملہ مرچ140 روپے کلو ہے جب کہ مٹر 50 روپے سے دوبارہ اضافہ کے ساتھ 70 سے 80 روپے کلو، ٹماٹر دوبارہ اضافہ کے ساتھ 40روپے کلو سے بڑھا کر70 روپے کلو کر دیے گئے ہیں۔

امریکی ڈالر کی اونچی اڑان نے صرافہ مارکیٹوں میں بھی بھونچال پیدا کر دیا، سونے کی عالمی قیمتوں میں معمولی اضافے کے برعکس ملک میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے۔ صراف اینڈ جیولرز کے مطابق اپریل 2019ء کے ابتدائی 3دنوں میں سونے کی قیمت مجموعی طور پر 1650 روپے بڑھ کر 72200 روپے فی تولہ اور 1415روپے بڑھ کر 61900 روپے فی10 گرام کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ معیشت کو صرف آئی ایم ایف کا چیلنج درپیش نہیں، پی ٹی آئی کو بلاشبہ ایک غیرمعمولی سماجی اور معاشی صورتحال میں حکومت ملی ہے مگر اس کے معاشی مسیحاؤں کے پاس ادراک معیشت کا کافی وقت تھا وہ حکومتی روڈ میپ کی پیشگی تیاری کر کے صورتحال میں جوہری اور معیاری تبدیلی لا سکتے تھے۔

پی ٹی آئی کی انتخابی مہم اور الیکشن کے نتائج بھی سربستہ راز نہ تھے، اسد عمر اور دیگر معاشی ماہرین اپنا بلیو پرنٹ اقتدار سے پہلے مکمل کر لیتے تو معاشی مسائل کی سونامی سے کوئی خطرہ نہ ہوتا۔ اس وقت ملک میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو گئی ہیں، سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرتے ہوئے تذبذب کا شکار ہیں، انھیں بادی النظر میں کرپشن، بد انتظامی اور ملکی دولت کی وطن واپسی کے لیے ایک بڑا کریک ڈاؤن ہوتا نظر آتا ہے اس لیے وہ محتاط ہیں، سرمایہ کبھی بدامنی کی دلدل میں قدم رنجہ نہیں ہوتا، سیاسی درجہ حرارت بھی معمول پر نہیں، ایک ہاہاکار مچی ہوئی ہے، لہذا سیاسی محاذ آرائی کم ہوگی تو حکومت کو اپنے معاشی اہداف کے حصول میں آسانی ہو گی۔ ایسا ماحول سازگار کرنا اولین قومی ضرورت ہے۔
Load Next Story