بھارت پر ناسا کی تنقید

بھارت کی خواہش سپرپاور بننے کی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ روایتی اور غیرروایتی ہتھیاروں کی تیاری اور خرید میں مصروف ہے۔

بھارت کی خواہش سپرپاور بننے کی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ روایتی اور غیرروایتی ہتھیاروں کی تیاری اور خرید میں مصروف ہے۔ فوٹو : فائل

امریکا کے خلائی تحقیقات کے ادارے ''ناسا'' نے گزشتہ دنوں بھارت کی جانب سے خلا میں میزائل کے تجربے پر اپنے ردعمل میں بھارت میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے اس تجربے سے جو ملبہ خلا میں بکھرا ہے وہ خلائی اسٹیشن کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے تاہم بھارت نے ناسا حکام کی اس تنقید کا جواب دینے سے اجتناب کیا ہے۔ بھارت کی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل امان آنند نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے ناسا کے اعتراض کا سرکاری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ناسا ترجمان کے مطابق امریکی خلائی ادارے نے بھارتی راکٹ تجربے سے پیدا ہونے والے ملبے کے تقریباً 4سو ٹکڑوں کی شناخت کی ہے جن میں سے 60کو باقاعدہ ٹریک کر لیا گیا ہے جن میں سے 24ٹکڑوں کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر گرنے کا خطرہ بدستور موجود ہے جو بے حد خطرناک بات ہے۔


بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ بھارت کے خلائی راکٹ کے ذریعے سیٹلائٹ کو تباہ کرنے کا تجربہ خلائی میدان میں بھارت کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے جس کے بعد بھارت بھی امریکا کے علاوہ روس اور چین کے ساتھ خلائی دور میں شامل ہو گیا ہے۔

بھارتی حکام کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ خلاء میں امریکا نے جو تجربات کیے ہیں ان کے نتیجے میں جس قدر ملبہ خلا میں بکھرا ہے وہ کہیں زیادہ نقصان کا باعث بن سکتاہے۔ بہرحال بھارت جس طرح عسکری تیاریاں کررہا ہے اور اسلحے کے ڈھیر لگا رہا ہے، اب اس کے خطرات صرف جنوبی ایشیا تک نہیں بلکہ دنیا بھر میں محسوس کیے جارہے ہیں۔

بھارت کی خواہش سپرپاور بننے کی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ روایتی اور غیرروایتی ہتھیاروں کی تیاری اور خرید میں مصروف ہے۔اب شاید دنیا کو ادراک ہوجائے کہ پاکستان بھارت کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کرتا چلا آیا ہے، وہ حقیقت پر مبنی ہیں۔
Load Next Story