دبائو کے باوجود سزائے موت کے قانون پر عمل ہوگا پاکستان
470 افرادکوسزادینا باقی ہے، 25مقدمات ایوان صدر بھیجے جواب نہیں آیا، وزارت داخلہ
470 افرادکوسزادینا باقی ہے، 25مقدمات ایوان صدر بھیجے جواب نہیں آیا، وزارت داخلہ. فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
پاکستان کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی دباؤ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے احتجاج کے باوجود سزائے موت کے قانون پرعمل درآمد کرے گی۔
اس وقت حکومت کے پاس470 ایسے افرادکے مقدمات ہیں جن کی تمام تراپیلیں مسترد ہوچکی ہیں اوراب صرف سزا کے حکم پرعمل درآمد ہونا باقی ہے۔وزارت داخلہ کے ترجمان عمر حمید نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے صدر آصف علی زرداری کو گزشتہ ایک ماہ کے دوران25کے قریب مقدمات بھیجے تھے تاکہ انھیں پھانسی دینے کا عمل شروع کیاجاسکے لیکن ابھی تک ایوانِ صدرکی طرف سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا ۔ انھوں نے کہاکہ حکومت کسی بھی غیرملکی دبائومیں نہیں آئے گی اور وہ ملکی قوانین کے تحت سزائے موت پرعمل درآمدکرنے کیلیے پرعزم ہے۔واضح رہے کہ صدرکو آئین کے تحت اختیار ہے کہ وہ عدالت کی طرف سے کسی بھی مجرم کودی گئی پھانسی پر عمل درآمدروک سکتے ہیں یا پھرسزاکوعمرقید میں تبدیل یا سزا میں تخفیف کردیں۔ پیپلزپارٹی کے سابق دورحکومت نے سزائے موت کے قانون کوختم کرکے اسے عمرقید میں تبدیل کرنے سے متعلق قانون سازی کومنطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق سابق نگراں وزیراعظم میرہزارخان کھوسوکی حکومت کے دور میں بھی سزائے موت کے مقدمات پرسزائوں پر عمل درآمد نہیں ہوا، ایسے50 قیدیوں کے مقدمات کوواپس بھجوادیا تھا جن کی تمام تراپیلیں مستردہوچکی تھی۔ان کاموقف تھاکہ ان مقدمات سے متعلق فیصلہ کرنا اگلی منتخب حکومت کے اختیار میں ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کاکہنا تھا کہ4 ایسی کٹیگریز ہیں جن پرصدر مملکت کی طرف سے سزائے موت پر عمل درآمدکا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس میں ملٹری ایکٹ، انسداد دہشت گردی ایکٹ، منشیات ایکٹ اور ریاست کیخلاف کارروائی کے مقدمات شامل ہیں۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس وقت تک انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت آج تک پاکستان میں کسی کو بھی دی گئی موت کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ جن مجرمان کو اس ایکٹ کے تحت گرفتارکیاگیا وہ یا تو عدم ثبوت کی بنا پررہاکردیے گئے یا پھر ان میں سے کچھ مجرم جیلوں پرہونے والے حملوں کے حالیہ واقعات میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
مقامی میڈیا پر یہ خبریں آرہی تھیں کہ جی ایچ کیو حملے کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے ڈاکٹر عثمان کوآئندہ چند روزمیں تختہ دار پرلٹکا دیا جائیگا جس کے بارے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے یہ بیان سامنے آیاکہ اگرایسا ہوا توپنجاب حکومت کیخلاف کارروائیاں کی جائیں گی ۔ ڈاکٹرعثمان ان دنوں فیصل آباد کی سینٹرل جیل میں ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ طارق بابرکے مطابق ڈاکٹر عثمان کو موت کی سزا پر عمل درآمد سے متعلق کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اورنہ ہی متعقلہ عدالت سے اْن کے بلیک وارنٹ حاصل کیے گئے ہیں، پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری جنرل آئی اے رحمن کاکہنا ہے کہ سیاسی حکومتیں اس لیے سزائے موت کے قانون کو ختم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر ایسا کیا تومذہبی جماعتیں اور مذہبی تنظیمیں ان کیخلاف ہوجائیں گی۔
پاکستان کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی دباؤ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے احتجاج کے باوجود سزائے موت کے قانون پرعمل درآمد کرے گی۔
اس وقت حکومت کے پاس470 ایسے افرادکے مقدمات ہیں جن کی تمام تراپیلیں مسترد ہوچکی ہیں اوراب صرف سزا کے حکم پرعمل درآمد ہونا باقی ہے۔وزارت داخلہ کے ترجمان عمر حمید نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے صدر آصف علی زرداری کو گزشتہ ایک ماہ کے دوران25کے قریب مقدمات بھیجے تھے تاکہ انھیں پھانسی دینے کا عمل شروع کیاجاسکے لیکن ابھی تک ایوانِ صدرکی طرف سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا ۔ انھوں نے کہاکہ حکومت کسی بھی غیرملکی دبائومیں نہیں آئے گی اور وہ ملکی قوانین کے تحت سزائے موت پرعمل درآمدکرنے کیلیے پرعزم ہے۔واضح رہے کہ صدرکو آئین کے تحت اختیار ہے کہ وہ عدالت کی طرف سے کسی بھی مجرم کودی گئی پھانسی پر عمل درآمدروک سکتے ہیں یا پھرسزاکوعمرقید میں تبدیل یا سزا میں تخفیف کردیں۔ پیپلزپارٹی کے سابق دورحکومت نے سزائے موت کے قانون کوختم کرکے اسے عمرقید میں تبدیل کرنے سے متعلق قانون سازی کومنطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق سابق نگراں وزیراعظم میرہزارخان کھوسوکی حکومت کے دور میں بھی سزائے موت کے مقدمات پرسزائوں پر عمل درآمد نہیں ہوا، ایسے50 قیدیوں کے مقدمات کوواپس بھجوادیا تھا جن کی تمام تراپیلیں مستردہوچکی تھی۔ان کاموقف تھاکہ ان مقدمات سے متعلق فیصلہ کرنا اگلی منتخب حکومت کے اختیار میں ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کاکہنا تھا کہ4 ایسی کٹیگریز ہیں جن پرصدر مملکت کی طرف سے سزائے موت پر عمل درآمدکا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس میں ملٹری ایکٹ، انسداد دہشت گردی ایکٹ، منشیات ایکٹ اور ریاست کیخلاف کارروائی کے مقدمات شامل ہیں۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس وقت تک انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت آج تک پاکستان میں کسی کو بھی دی گئی موت کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ جن مجرمان کو اس ایکٹ کے تحت گرفتارکیاگیا وہ یا تو عدم ثبوت کی بنا پررہاکردیے گئے یا پھر ان میں سے کچھ مجرم جیلوں پرہونے والے حملوں کے حالیہ واقعات میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
مقامی میڈیا پر یہ خبریں آرہی تھیں کہ جی ایچ کیو حملے کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے ڈاکٹر عثمان کوآئندہ چند روزمیں تختہ دار پرلٹکا دیا جائیگا جس کے بارے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے یہ بیان سامنے آیاکہ اگرایسا ہوا توپنجاب حکومت کیخلاف کارروائیاں کی جائیں گی ۔ ڈاکٹرعثمان ان دنوں فیصل آباد کی سینٹرل جیل میں ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ طارق بابرکے مطابق ڈاکٹر عثمان کو موت کی سزا پر عمل درآمد سے متعلق کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اورنہ ہی متعقلہ عدالت سے اْن کے بلیک وارنٹ حاصل کیے گئے ہیں، پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری جنرل آئی اے رحمن کاکہنا ہے کہ سیاسی حکومتیں اس لیے سزائے موت کے قانون کو ختم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر ایسا کیا تومذہبی جماعتیں اور مذہبی تنظیمیں ان کیخلاف ہوجائیں گی۔