پاک بھارت وزرائے اعظم میں خطوط کا تبادلہ تعاون پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں منموہن

نواز اور منموہن کی ایک دوسرے کو آزادی کی مبارکباد، لوک سبھا میں پاکستان کیخلاف قراردادیں

بھارت کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری، بٹل سیکٹر میں ایک شخص شہید ،11سالہ بچی زخمی، پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی فوٹو: فائل

پاک، بھارت وزرائے اعظم کی طرف ایک دوسرے کو خطوط کے تبادلے کے بعد کنٹرول لائن پر کشیدگی میں کمی آگئی۔

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے وزیراعظم نواز شریف کو خط لکھا ہے ، جس میں وہ کہتے ہیں کہ پاکستان سے تعاون پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف کو مبارکباد کا خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے۔ خط میں بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے خط میں وزیر اعظم نوازشریف سے نیویارک میں ممکنہ ملاقات کا ذکر نہیں کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی بھارت کے یوم آزادی (15 اگست) کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو بھی خط لکھا ہے، جس میں انھیں مبارکباد دی ہے۔ وزیر اعظم نوازشریف کا خط پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔ دریں اثناء بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود پاک بھارت مذاکرات جاری رہنا چاہئیں، پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا آپشن کھلا ہے، بھارت ممبئی حملوں کے معاملے کی تحقیقات سے دستبردار نہیں ہو گا۔ حافظ سعید سے متعلق کئی ثبوت پاکستان کو دیے جا چکے ہیں، پاکستان کو حافظ سعید کیخلاف کارروائی کرنا ہوگی، پاک بھارت تعلقات میں بھارتی سلامتی مقدم رہے گی۔

ایک بھارتی ٹی وی کو انٹرویو میں سلمان خورشید نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے،اس کے ساتھ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کئی خطوں کیلیے اہم ہیں۔ تمام تنازعات کا حل مذاکرات میں ہے۔ ممبئی حملے کے حوالے سے سلمان خورشید نے کہا کہ بھارت نے ممبئی حملوں کا معاملہ فراموش نہیں کیا۔ پاکستان ممبئی حملوں سے متعلق خدشات پرواضح جوابات دے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اہم معاملات پر بات چیت ہو ہی نہیں رہی تو معطل کیسے کی جائے۔کچھ لوگ ہمسایوں کے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں، اختلافات ہوتے ہیں تاہم آخر کار بات چیت ہی کرنا پڑتی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان سیز فائر معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیاں بند کرے۔جب تک دونوں ممالک کے درمیان ماحول کو سازگار نہیں بنایا جاسکتا دو طرفہ تجارت سمیت تعلقات کی بحالی ناممکن ہے۔ ادھر آن لائن کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ نے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے بارے میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں منظور ہونے والی قرار داد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج جنگ بندی کے حوالے سے اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے۔




بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا اور ایوان بالا راجیہ سبھا میں متفقہ طور پر قرار دادوں کی منظوری دی گئی جن میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستانی فوج نے ایسے وقت میں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی جب دونوں ممالک کے درمیان امن، دوستی اور تعاون کا پائیدار فریم ورک تشکیل دینے کی باتیں ہورہی تھیں۔ قرار دادوں میں کہا گیا ہے کہ ہماری پارلیمنٹ پاکستان کی قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں منظور کی جانے والی قرار دادوں کی سختی سے مذمت کرتی ہے جن میں بھارتی فوج اور عوام پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔ آئی این پی کے مطابق لوک سبھا کی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے جموں و کشمیر اور بعض دیگر علاقوں پر جبری اور غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے جبکہ یہ تمام علاقے بھارت کا اٹوٹ انگ ہیں۔ بھارت توقع کرتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سرحدوں اور ایل او سی پر فائر بندی کے معاہدوں کی پاسداری یقینی بنائے گا۔ بی بی سی کے مطابق لوک سبھا میں اسپیکر میرا کمار نے پاکستان کے خلاف قرارداد پیش کرتے ہوئے پاکستانی پارلیمنٹ میں منظور کردہ قرارداد کی مذمت کی اور کہا کہ اس میں بھارت اور اس کے لوگوں پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔

پاکستان کی فوج نے بلا اشتعال بھارتی فوجی چوکی پر حملہ کیا اور یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان اس طرح کے حملوں میں ملوث ہے۔ میرا کمار نے الزام لگایا کہ پاکستان ایسے گروہوں کی حمایت کرتا ہے جو بھارت کو نشانہ بناتے ہیں اور اس سے پورے خطے کے امن کو خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ بھارت کنٹرول لائن پر نافذ جنگ بندی پر عمل کر رہا ہے اور پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ لوک سبھا میں کنٹرول لائن پر فائرنگ میں مارے گئے 5 فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے میرا کمار نے کہا کہ بھارتی فوج کے صبر کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے اور وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت میں پوری طرح مستعد ہیں۔ دوسری جانب ریاستی وزیر فاروق عبداللہ نے بھارتی پارلیمنٹ میں پاکستان کے خلاف منظور کردہ قرارداد کو بلا جواز اور بے مقصد قرار دیا اور کہاکہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ اس قسم کے اقدامات سے الٹا سرحد پار بھارت کے دشمنوں کو استحکام ملے گا ۔ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے جانے چاہئیں۔ دریں اثنا بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں، بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے، بٹل سیکٹر کے علاقوں منڈول ، ککوٹہ ، تیتری نوٹ، ڈونگہ گھمیر میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ و گولہ باری سے ایک شخص شہید جبکہ 11سالہ بچی زخمی ہو گئی، گولہ باری سے مکانات کو بھی نقصان پہنچا جس سے مکینوں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے،پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی سے دشمن کی بندوقیں خاموش کرا دیں۔ فائرنگ کے تبادلے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
Load Next Story