انسان چیونٹیوں کو دنیا بھر میں پھیلا رہا ہے ہسپانوی سائنسدان
چیونٹیاں ڈبوں میں بند ہوکرنا دانستہ طور پر مختلف ممالک کو بھیج دی جاتی ہیں، پھیلائو روکا جائے
چیونٹیاں ڈبوں میں بند ہوکرنا دانستہ طور پر مختلف ممالک کو بھیج دی جاتی ہیں، پھیلائو روکا جائے. فوٹو وکی پیڈیا
ہسپانوی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان چیونٹیوں کی بہت بڑی تعدادکو نادانستہ طور پردنیا بھر پھیلا رہا ہے۔
ننھی منی ہونے کی وجہ سے چیونٹیاں پھلوں، آرائشی پودوں، مٹی یا لکڑی وغیرہ کے ڈبوں کے اندر بند ہو کر بحری یا ہوائی جہازوں پر نادانستہ طور پر مختلف ممالک کو بھیج دی جاتی ہیں،768 اقسام کی چیونٹیاں تجارتی راستوں سے دنیا بھر میں پہنچا دی گئی ہیں،جن میں سے 600 کے قریب نئی بستیاں بسانے میں کامیاب ہو گئی ہیں،سائنس دانوں نے خبردارکیا ہے کہ ان میں سے بہت سی انواع نئے خطوں میں آباد ہوکر ماحول، تعمیرات اور انسانی صحت کو خطرے سے دوچار کر رہی ہیں۔
بدھ کو برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ حیرت انگیز انکشافرائل سوسائٹی بیالوجی لیٹرز میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان چیونٹیوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔تحقیق کے مطابق بہت سے جانور نئی جگہوں پر جا کر کسی خطرے کا باعث نہیں بنتے لیکن کچھ ایسے جانور ہیں جو نئے ماحول کو تباہ و برباد کرسکتے ہیں۔ ان میں چیونٹیاں بھی شامل ہیں۔
ننھی منی ہونے کی وجہ سے چیونٹیاں پھلوں، آرائشی پودوں، مٹی یا لکڑی وغیرہ کے ڈبوں کے اندر بند ہو کر بحری یا ہوائی جہازوں پر نادانستہ طور پر مختلف ممالک کو بھیج دی جاتی ہیں،768 اقسام کی چیونٹیاں تجارتی راستوں سے دنیا بھر میں پہنچا دی گئی ہیں،جن میں سے 600 کے قریب نئی بستیاں بسانے میں کامیاب ہو گئی ہیں،سائنس دانوں نے خبردارکیا ہے کہ ان میں سے بہت سی انواع نئے خطوں میں آباد ہوکر ماحول، تعمیرات اور انسانی صحت کو خطرے سے دوچار کر رہی ہیں۔
بدھ کو برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ حیرت انگیز انکشافرائل سوسائٹی بیالوجی لیٹرز میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان چیونٹیوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔تحقیق کے مطابق بہت سے جانور نئی جگہوں پر جا کر کسی خطرے کا باعث نہیں بنتے لیکن کچھ ایسے جانور ہیں جو نئے ماحول کو تباہ و برباد کرسکتے ہیں۔ ان میں چیونٹیاں بھی شامل ہیں۔