ہائے مہنگائی عوام کی فریاد

مہنگائی کا آسمان سے باتیں کرنے کا محاورہ عملی صورت میں سچ ثابت ہورہا ہے۔

مہنگائی کا آسمان سے باتیں کرنے کا محاورہ عملی صورت میں سچ ثابت ہورہا ہے۔ فوٹو: فائل

پٹرول اور ایل پی جی کے بعد بجلی کی قیمت میں81 پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا گیا ہے، یعنی بجلی بم گرانے کے نتیجے میں صارفین پر 5 ارب 20کروڑکا اضافی بوجھ پڑے گا۔نیپرا حکام کے مطابق گیس کی قیمتیں بڑھنے سے تین ارب کا بوجھ پہلے ہی عوام پر ڈالا جاچکا ہے۔ مہنگائی کا آسمان سے باتیں کرنے کا محاورہ عملی صورت میں سچ ثابت ہورہا ہے۔ الیکشن کے وقت عوام کو جو سہانے خواب دکھائے گئے تھے، وہ سب چکنا چور ہوگئے بلکہ ان کی بھیانک تعبیر اب سامنے آرہی ہے۔

دوسری جانب ادویات کی قیمتوں میں سو فیصد اضافے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں 5 سے 15 فیصد اضافے کی منظوری دی تھی ، تاہم حکومتی فیصلے کے برعکس فارماسوٹیکل کمپنیوں نے قیمتوںمیں100 فیصد تک اضافہ کر دیاہے۔ یعنی مریض ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجائیں تو بہترہے کیونکہ وہ انتہائی مہنگی دوائیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا اعلان کرکے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کی چاندی کروا دی ہے۔ مہنگی پٹرولیم مصنوعات کی آڑ میں رمضان سے قبل ہی منافع خوری کی بہترین پلاننگ پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔ مہنگائی کے مارے عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے ۔


ملک کے تمام اضلاع کی شہری انتظامیہ کے اہلکاروں نے حسب عادت آنکھیں بند کر لی ہیں۔ ملک کے ہر چھوٹے، بڑے شہر ، تحصیل ، ضلع ، قصبوں اور دیہاتوں میں مرغی کے گوشت اور سبزیوں کی قیمتوں میں من مانے اضافے کے بعد اب چینی، دالوں، چاول، بیسن، املی، الائچی، جاؤتری و دیگر اشیاء خورو نوش کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

حکومت اور انتظامیہ کی عوامی مسائل سے چشم پوشی کے باعث رمضان المبارک تک اشیائے خورونوش کے نرخ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ مہنگائی اچانک اور اتنی تیزی سے بڑھی ہے کہ اب غریب دال بھی نہیں کھاسکتا۔ دال اور مرغی کے گوشت کی قیمت برابرکردی گئی۔اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اس پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے مدینہ منورہ میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے کا وعدہ کرنے والوں نے مدینہ کی طرف آنا مشکل بنا دیا ہے، جب کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما وسینیٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ حکومت غریب عوام کو ریلیف نہیں دے سکی ۔

سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت کو کہہ دینا چاہیے ماضی میں جو ہمارے منہ میں آ رہا تھا ہم کہہ دیتے تھے، ہم غلط سیاست کر رہے تھے اور اب ہم حکومت میں آئے ہیں تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ مہنگائی کوکنٹرول میں رکھنا حکومت کی ذمے داری ہے، اس ضمن میں وفاقی حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کے سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔
Load Next Story