منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے شرجیل میمن
ارسلان افتخار پر راتوں رات ارب پتی بننے کا الزام ہے، اس پر چپ سادھ لی جاتی ہے
ارسلان افتخار پر راتوں رات ارب پتی بننے کا الزام ہے، اس پر چپ سادھ لی جاتی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
KARACHI:
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عدالت میں پیش ہونے نہ ہونے کا فیصلہ پی پی کے رہنمااور اتحادی باہمی رضا مندی سے کریں گے لیکن عوام کے منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ارسلان افتخار چوہدری پر راتوں رات ارب پتی بننے، 4محکموں میں اثروسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ڈیپوٹیشن پر تعیناتی اور چیف جسٹس کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے دباؤ ڈلوانے کے الزامات ہیں لیکن اس پر چپ سادھ لی جاتی ہے۔ کیا وہ عوام کے سامنے جوابدہ نہیں؟۔
پیپلزپارٹی کا ساری عمر ٹرائل ہوتا رہا ہے، آج تک شہید بھٹو کے خون کا حساب نہیں ہوا، آئی جے آئی کیس کا فیصلہ نہیں آیا، قتل اغوا، زنا بالجبر اور دیگر مقدمات التوا کا شکار ہیں لیکن این آر او کے 8ہزار مقدمات میں سے ایک مقدمے کو جواز بنا کر پیپلزپارٹی کے ٹرائل کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ انھوںنے سوال کیا کہ کیا یہ انصاف کا دہرا معیار نہیں؟۔ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں چور ہیں، سردار دوست محمد کھوسہ پر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے خود دو ارب کی کرپشن کا الزام عائد کیا تھا ان کی ن لیگ میں واپسی کے بعد حساب کون مانگے گا؟۔
انھوں نے کہ عابد شیر علی اور سینیٹر اسحاق ڈار کے بیانات بھی مثال ہیں کہ مسلم لیگ میں پیسے کی بندربانٹ کا جھگڑا چل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس دن یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجا گیا اسی دن عوام کی عدالت نے پنجاب کی نشست پر پیپلزپارٹی کو جتوایا۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب میں اربوں روپے کی کرپشن کا نوٹس نہیں لیا جاتا اور ارسلان افتخار کیس پر بھی اسٹے دے دیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے صاحبزادے ارسلان افتخار کو عوام کے سوالوں کا جواب دینا پڑے گا۔ سول سوسائٹی اور وکلاء ان سے حساب مانگیں؟۔ دریں اثنا ایک بیان میں شرجیل انعام نے کہا کہ تھر کو آفت زدہ قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ حکومت تھر کے عوام کے مسائل حل کرے گی اور ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھے گی۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عدالت میں پیش ہونے نہ ہونے کا فیصلہ پی پی کے رہنمااور اتحادی باہمی رضا مندی سے کریں گے لیکن عوام کے منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ارسلان افتخار چوہدری پر راتوں رات ارب پتی بننے، 4محکموں میں اثروسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ڈیپوٹیشن پر تعیناتی اور چیف جسٹس کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے دباؤ ڈلوانے کے الزامات ہیں لیکن اس پر چپ سادھ لی جاتی ہے۔ کیا وہ عوام کے سامنے جوابدہ نہیں؟۔
پیپلزپارٹی کا ساری عمر ٹرائل ہوتا رہا ہے، آج تک شہید بھٹو کے خون کا حساب نہیں ہوا، آئی جے آئی کیس کا فیصلہ نہیں آیا، قتل اغوا، زنا بالجبر اور دیگر مقدمات التوا کا شکار ہیں لیکن این آر او کے 8ہزار مقدمات میں سے ایک مقدمے کو جواز بنا کر پیپلزپارٹی کے ٹرائل کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ انھوںنے سوال کیا کہ کیا یہ انصاف کا دہرا معیار نہیں؟۔ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں چور ہیں، سردار دوست محمد کھوسہ پر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے خود دو ارب کی کرپشن کا الزام عائد کیا تھا ان کی ن لیگ میں واپسی کے بعد حساب کون مانگے گا؟۔
انھوں نے کہ عابد شیر علی اور سینیٹر اسحاق ڈار کے بیانات بھی مثال ہیں کہ مسلم لیگ میں پیسے کی بندربانٹ کا جھگڑا چل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس دن یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجا گیا اسی دن عوام کی عدالت نے پنجاب کی نشست پر پیپلزپارٹی کو جتوایا۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب میں اربوں روپے کی کرپشن کا نوٹس نہیں لیا جاتا اور ارسلان افتخار کیس پر بھی اسٹے دے دیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے صاحبزادے ارسلان افتخار کو عوام کے سوالوں کا جواب دینا پڑے گا۔ سول سوسائٹی اور وکلاء ان سے حساب مانگیں؟۔ دریں اثنا ایک بیان میں شرجیل انعام نے کہا کہ تھر کو آفت زدہ قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ حکومت تھر کے عوام کے مسائل حل کرے گی اور ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھے گی۔