زیر حراست نوجوان کی ہلاکت سندھ ہائیکورٹ نے جوڈیشل انکوائری کا حکم دیدیا
مقتول کے بھائی ریحان کی درخواست کو لا پتہ افراد کے مقدمے سے الگ کرنے کی ہدایت، سیشن جج تحقیقاتی افسر مقرر
فرحان کو سی آئی ڈی پولیس نے 4 جولائی کو حراست میں لیا اور دوران حراست تشدد کرکے ہلاک کردیا، درخواست گزار فوٹو: فائل
WASHINGTON:
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سی آئی ڈی کی حراست میں مبینہ تشدد سے اہلسنت والجماعت کے کارکن محمد فرحان کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔
عدالت نے مقتول محمد فرحان کے بھائی محمد ریحان کی درخواست کو لا پتہ افراد کے مقدمہ سے الگ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سیشن جج(وسطی) کو تحقیقاتی افسر مقرر کردیا، درخواست کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ اس کے بھائی محمد فرحان کوسی آئی ڈی پولیس نے 4 جولائی کوگھر سے حراست میں لیا اور بعد میں گرفتاری ظاہر کی جبکہ اس سے قبل گمشدگی کی درخواست دائر کردی گئی تھی۔
دوران حراست محمد فرحان کو تشدد کرکے قتل کردیا گیااوراس کی لاش ایدھی سردخانے میں جمع کرادی گئی،درخواست گزار کے مطابق ایدھی سینٹر کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے فرحان کی لاش وہاں رکھواتے ہوئے بتایا تھا کہ اسکی ہلاکت پولیس مقابلے میں ہوئی ہے تاہم اس کے جسم پر گولی کا کوئی نشان موجود نہیں جبکہ انسداد انتہا پسندی سیل کے سربراہ کے مطابق فرحان گردوں کا مریض تھا اور سول اسپتال کے ایم ایل او کرار عباسی نے دل کے دورے کو ہلاکت کی وجہ قرار دیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کے بیانات میں تضاد کی وجہ سے ے سیشن جج (وسطی) کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی جوڈیشل مجسٹریٹ سے اس صورتحال کی تحقیقات کرا کے رپورٹ ہائیکورٹ میں پیش کریں۔
واضح رہے کہ سی آئی ڈی پولیس نے محمد فرحان اور دیگر ملزمان کی اورنگی ٹاؤن کے علاقے قذافی چوک سے گرفتاری کا دعویٰ کیا تھااور متحدہ قومی موومنٹ کے ایم پی اے ساجد قریشی کے قتل میں محمد فرحان اور دیگر کا عدالتی ریمانڈ پر حاصل کیا تھا، سی آئی ڈی کے مطابق ملزم پروفیسر سبط جعفر سمیت فرقہ وارانہ قتل کی 25 سے زائد وارداتوں میں ملوث تھا۔
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سی آئی ڈی کی حراست میں مبینہ تشدد سے اہلسنت والجماعت کے کارکن محمد فرحان کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔
عدالت نے مقتول محمد فرحان کے بھائی محمد ریحان کی درخواست کو لا پتہ افراد کے مقدمہ سے الگ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سیشن جج(وسطی) کو تحقیقاتی افسر مقرر کردیا، درخواست کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ اس کے بھائی محمد فرحان کوسی آئی ڈی پولیس نے 4 جولائی کوگھر سے حراست میں لیا اور بعد میں گرفتاری ظاہر کی جبکہ اس سے قبل گمشدگی کی درخواست دائر کردی گئی تھی۔
دوران حراست محمد فرحان کو تشدد کرکے قتل کردیا گیااوراس کی لاش ایدھی سردخانے میں جمع کرادی گئی،درخواست گزار کے مطابق ایدھی سینٹر کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے فرحان کی لاش وہاں رکھواتے ہوئے بتایا تھا کہ اسکی ہلاکت پولیس مقابلے میں ہوئی ہے تاہم اس کے جسم پر گولی کا کوئی نشان موجود نہیں جبکہ انسداد انتہا پسندی سیل کے سربراہ کے مطابق فرحان گردوں کا مریض تھا اور سول اسپتال کے ایم ایل او کرار عباسی نے دل کے دورے کو ہلاکت کی وجہ قرار دیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کے بیانات میں تضاد کی وجہ سے ے سیشن جج (وسطی) کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی جوڈیشل مجسٹریٹ سے اس صورتحال کی تحقیقات کرا کے رپورٹ ہائیکورٹ میں پیش کریں۔
واضح رہے کہ سی آئی ڈی پولیس نے محمد فرحان اور دیگر ملزمان کی اورنگی ٹاؤن کے علاقے قذافی چوک سے گرفتاری کا دعویٰ کیا تھااور متحدہ قومی موومنٹ کے ایم پی اے ساجد قریشی کے قتل میں محمد فرحان اور دیگر کا عدالتی ریمانڈ پر حاصل کیا تھا، سی آئی ڈی کے مطابق ملزم پروفیسر سبط جعفر سمیت فرقہ وارانہ قتل کی 25 سے زائد وارداتوں میں ملوث تھا۔