مردم شماری کے حتمی نتائج میں تاخیرکا مسئلہ

شنید ہے کہ مرم شماری کے نتائج پر ایم کیو ایم کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

شنید ہے کہ مرم شماری کے نتائج پر ایم کیو ایم کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ فوٹو:فائل

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق ملک میں کی گئی مارچ 2107 ء کی چھٹی مردم شماری کے حتمی نتائج ابھی تک جاری نہیں کیے جا سکے۔اس مردم شماری کے عبوری نتائج محکمہ شماریات نے 2017 ء میں جاری کیے تھے جب کہ اگست2018 ء میں مکمل نتائج جاری کرنا ضروری تھا۔

مردم شماری نتائج میں بوجوہ تاخیر کے مضمرات سے متعلق حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک میں کنٹونمنٹ ایریاز وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبوں میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد پر چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں اور بعض سیاسی جماعتوں نے مردم شماری کے حتمی نتائج میں تاخیر پر خدشات کا اظہار کیا ہے، ان حلقوں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے انعقاد سے پہلے ملک میں شفاف ترین بلدیاتی نظام نافذ ہونا ناگزیر ہے، مقامی حکومتوں کے قیام کی ضرورت قومی یکجہتی اور جمہوری سسٹم کے استحکام اور گراس روٹ لیول پر سیاسی ارتقا اور قابل ذکر انتظامی صلاحیتوں کے حامل افراد کی سیاسی نشوونما اور سیاسی نظام کی بنیادی ڈھانچہ میں شمولیت وقت کا اولین تقاضہ ہے۔


اگر مردم شماری کے حتمی نتائج جاری نہیں ہوتے تو اس کا قوم کے جمہوری اداروں پر اعتماد کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ حکومتی ذرایع کے مطابق مردم شماری کے ضمن میں 10 بلاکوں کی تفصیلی مردم شماری اور 5 فیصد سیمپل سروے کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔

ادھر محکمہ شماریات نے متعلقہ اداروں کو باور کرایا ہے کہ ان کی طرف سے کام مکمل ہے ، تاہم حکومتی حلیف جماعتوں کی داخلی کشمکش اور جوڑتوڑ کی وجہ سے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری وفاقی حکومت کے لیے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، شنید ہے کہ مرم شماری کے نتائج پر ایم کیو ایم کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، البتہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے 5 فیصد دوباہ بطور سیمپل مردم شماری کی قراردادوں کی منظوری اور ایم کیو ایم (پاکستان) تحریک انصاف کے مابین شراکت اقتدار فارمولے اور مفاہمتی معاہدہ میں حکومت کی طرف سے تائید کے بعد حکومت کو الجھن دور کرنی چاہیے۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ 5 فیصد دوبارہ مردم شماری کی شرط پوری کیے بغیر حتمی نتائج جاری ہوئے تو حکومتی اتحاد خطرہ میں پڑسکتا ہے جب کہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اب دو سال بعد دوبارہ مردم شماری کی گئی توعمومی نتائج میں فرق پڑ سکتا ہے جس سے نئی مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔ اب جب کہ محکمہ شماریات کے کہنے کے مطابق اس کا کام مکمل ہوچکا اور اب صرف فائلنگ کا کام جاری ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی حکومت حتمی نتائج کے بارے میں صائب فیصلہ کرے۔
Load Next Story