مشکل معاشی صورت حال

حکومت کے لیے بڑا امتحان ہے کہ وہ ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔

حکومت کے لیے بڑا امتحان ہے کہ وہ ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔ فوٹو: فائل

عالمی بینک نے اپنی نئی رپورٹ میں پاکستان کی معاشی صورت حال کے بارے میں جو اشاریے دیے ہیں، اس سے ملک کے پالیسی سازوں کی آنکھیں ضرور کھلنی چاہیے۔ قرضوں کی سرعت سے افزونی' افراط زر میں بڑھوتری' روپے کی قدر میں کمی کا تسلسل' بجٹ خسارہ' اخراجات اور آمدن میں واضح اور بے لگام فرق اور قومی شرح نمو میں تفریط سے جنم لینے والی ملکی معاشی حجم کی تنزلی کے اعدادوشمار کا جو بیانیہ پیش کیا گیا اس سے سیاسی،عوامی، صنعتی و تجارتی اور کاروباری حلقوں میں تشویش کا ابھرنا ایک قدرتی امر ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام پر پاکستان کے قرضے گزشتہ 17برسوں کی انتہائی بلندی پریعنی اس کی معیشت کے 82.3فیصد حجم کے برابر جب کہ بجٹ خسارہ 2.6کھرب ہوجائے گا۔ اگلے سال پاکستان کی شرح نمو2.7 فیصد تک سکڑنے کا خدشہ ہے جب کہ رواں سال پاکستان کی شرح نمو 3.4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جوگزشتہ 8برسوں میں سب سے کم ہے۔

عالمی بینک نے جنوبی ایشیا کی اقتصادیات کے متعلق اتوارکواپنی رپورٹ میں جوخاکہ جاری کیا وہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی زیادہ خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مالی سال میں افراط زر7.1فیصد جب کہ اگلے مالی سال روپے کی قدر میں مزید کمی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے 13.5فیصدکی خطرناک سطح تک پہنچ جائے گا۔ نمو میں کمی اور افراط زر میں اضافے کے باعث غربت کے خاتمے کی رفتار رواں اور اگلے مالی سال میں کم رہنے کا امکان ہے۔

13.5فیصدافراط زرکا مطلب یہ ہوگاکہ اسٹیٹ بینک جس نے شرح سود مناسب سطح پر رکھنے کا عزم ظاہرکیا تھا، اسے 15فیصدکرنا پڑے گا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ روپے کی قدرمیں کمی اور شرح سود میں اضافہ شرح نمو کا گلا گھونٹے گی جس سے غربت بڑھے گی جب کہ غربت میں کمی کی حالیہ کامیابیاں مہنگائی میں اضافے کے باعث خطرے میں پڑجائیں گی۔

عالمی بینک کے مطابق گو2019-20ء کے مالی سال سے قرض بتدریج کم ہونے لگے گا تاہم پی ٹی آئی حکومت کے تیسرے سال میں بھی یہ سطح4.75فیصدتک ہوگی،بڑھتے قرضوں کے باعث پاکستان کو مزید اقتصادی جھٹکے لگیں گے۔ کم زرمبادلہ اور زیادہ قرضوں کے باعث انھیں سہنے کی ملکی صلاحیت کم ہوئی ہے،جس سے عالمی منڈیوں تک رسائی پر منفی اثر ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے بجٹ کا 36فیصد قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتا ہے۔رواں مالی سال کے اختتام پر بجٹ خسارہ 6.9فیصد ہوجائے گا جو گزشتہ برس 6.5فیصد تھا، یہ 2020-21ء کے اختتام پر 5.3فیصد پر پہنچ جائے گا۔


عالمی بینک کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ طویل مذاکرات اورعلاقائی تناؤسے معیشت کو لاحق خطرہ بڑھا۔ پاکستان کومستحکم نشوونما کے راستے پرڈالنے کے لیے زر مبادلہ کی شرح لچک اورمسابقت بڑھانا جب کہ کاروبارکی لاگت گھٹانا ہوگی۔ محاصل کی وصولی میں نازک صورتحال کے باعث اس کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے اصلاحات کرنا ہوں گی۔ موجودہ حکومت ملک کو درپیش اقتصادی و معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے لیکن صورت حال اس قدر گمبھیر ہے کہ یہ کسی بھی طور قابو میں نہیں آ رہی۔ اب کچھ عرصے سے حکومت یہ اعلان کر رہی ہے کہ کمزور معاشی ڈھانچے کو سہارا دینے کے لیے اسے ایک بار پھر آئی ایم ایف کے قرضوں کی بیساکھی پکڑنا پڑے گی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ آئی ایم ایف قرضے فراہم کرنے کے لیے کڑی شرائط پیش کر رہا ہے جسے حکومت من و عن تسلیم کرنے سے ہچکچا رہی ہے کیونکہ اسے اس حقیقت کا ادراک ہے کہ ان شرائط پر قرضے لینے سے ملک میں مہنگائی کا ایک اور طوفان آجائے گا اور اگر کرنسی کی قدر میں مزید تفریط ہوتی ہے تو اس سے درآمدات بڑھنے اور برآمدات کم ہونے سے تجارتی خسارے کا گراف بھی بلند ہو جائے گا۔

تحریک انصاف نے انتخابی مہم کے دوران ملک کو اقتصادی مشکلات سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر ڈالنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب وہ معاشی بحران کے جس گرداب میں ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اسے اس سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ دکھائی نہیں دے رہا' اب حکومتی بزرجمہر یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ معاشی گراوٹ سے بچنے کے لیے چین' سعودی عرب اور امارات سے جو قرضے حاصل کیے تھے وہ ناکافی ہیں لہٰذا آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا ہی پڑے گا۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا خطہ ہے مگر پاکستان میں شرح نمو کم ہو کر 3.4فیصد پر چلی جائے گی۔ اب حکومت کے لیے بڑا امتحان ہے کہ وہ ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔

 
Load Next Story