اربوں کی عدم ادائیگی پر کے ای ایس سی کو قومیانے کا مطالبہ

ادارہ منافع کمانے کے باوجودگیس کمپنی کے واجبات ادانہیں کررہا، سینیٹرمحمد یوسف

کے ای ایس سی دوسری ایسٹ انڈیاکمپنی ہے، سینیٹر جہانگیر بدر، پنجاب کے برعکس کراچی کی صنعتیں گیس چوری نہیں کرتیں، زہیر صدیقی فوٹو: فائل

سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پٹرولیم وقدرتی وسائل نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے اربوں روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کو قومیانے کا مطالبہ کردیا۔

گزشتہ روزسوئی سدرن گیس کمپنی کے صدردفتر میںاجلاس کے دوران سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام اوراجلاس کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اجلاس کی صدارت کرنے والے سینیٹر محمدیوسف نے کہاکہ کے ای ایس سی بھاری ریونیوحاصل کرنے کے باوجودسوئی سدرن گیس کمپنی کے اربوںروپے کے واجبات ادانہیں کررہی جس سے کمپنی کی مشکلات میں اضافہ ہو رہاہے۔ انھوںنے کہاکہ کے ای ایس سی خود تو منافع کما رہاہے لیکن سستے داموں ملنے والی گیس کی قیمت چکانے کوتیار نہیں ہے جوسوئی سدرن گیس کمپنی پربڑا بوجھ ہے۔




اجلاس کے دوران سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پٹرولیم وقدرتی وسائل کوبتایا گیاکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے کے ای ایس سی پر46.395 ارب روپے کے واجبات ہیں۔ کے ای ایس سی 27ارب روپے کے واجبات اداکرنے پر رضامند ہے تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی باقی واجبات کسی صورت نہیں چھوڑسکتی۔ کمیٹی کے رکن سینیٹر جہانگیربدر نے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کو دوسری ایسٹ انڈیاکمپنی کاخطاب دیتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی کی انتظامیہ کوتجویز دی کہ کے ای ایس سی کوخرید لیاجائے۔ جوادارہ منافع کمارہاہولیکن اپنے واجبات ادانہ کررہاہواسے نیشنلائز کرلینا چاہیے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر زہیرصدیقی نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ حکومت پرکے ای ایس سی کے واجبات میںسے گیس کمپنی کوادائیگیاں کی جائیں۔
Load Next Story