ایران نے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں تیز کردیں اسرائیل
تہران نے سیکڑوں سینٹری فیوجز نصب اور جوہری ایندھن کی پیداوار بھی بڑھا دی، نیتن یاہو
تہران نے سیکڑوں سینٹری فیوجز نصب اور جوہری ایندھن کی پیداوار بھی بڑھا دی، نیتن یاہو
WASHINGTON:
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیل کے دورے پر آئے ہوئے امریکی کانگریس کے رکن کو گزشتہ روز بتایا ہے کہ ایران بین الاقوامی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اپنی کوششوں میں تیزی لا رہا ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق انہوں نے ریپبلکن رکن مائیک روجرز کو بتایا کہ پچھلے دنوں ہی ہم نے اس حقیقت کے مزید شواہد وصول کئے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی جانب اپنی کوششوں میں تیزی برقرار رکھے ہوئے ہے اور عالمی مطالبات کو نظر انداز کررہا ہے نیتن یاہو کا اشارہ جمعرات کو واشنگٹن پوسٹ کی اس خبر کی طرف تھا جس میں نامعلوم سفارتی اور ماہرین ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کی اگلی رپورٹ سے یہ ظاہر ہو گا کہ تہران نے سیکڑوں نئے سینٹری فیوجز نصب کئے ہیں اور ساتھ ہی شاید جوہری ایندھن کی پیداوار بھی بڑھا دی ہے نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب آئی اے ای اے اور ایرانی حکام نے ویانا میں جمعہ کے روز ایرانی مشن میں ان معاملات پر بات چیت کی جس کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی ایران کے جوہری عزائم کے حوالے سے اہم مسائل قرار دے رہی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیل کے دورے پر آئے ہوئے امریکی کانگریس کے رکن کو گزشتہ روز بتایا ہے کہ ایران بین الاقوامی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اپنی کوششوں میں تیزی لا رہا ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق انہوں نے ریپبلکن رکن مائیک روجرز کو بتایا کہ پچھلے دنوں ہی ہم نے اس حقیقت کے مزید شواہد وصول کئے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی جانب اپنی کوششوں میں تیزی برقرار رکھے ہوئے ہے اور عالمی مطالبات کو نظر انداز کررہا ہے نیتن یاہو کا اشارہ جمعرات کو واشنگٹن پوسٹ کی اس خبر کی طرف تھا جس میں نامعلوم سفارتی اور ماہرین ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کی اگلی رپورٹ سے یہ ظاہر ہو گا کہ تہران نے سیکڑوں نئے سینٹری فیوجز نصب کئے ہیں اور ساتھ ہی شاید جوہری ایندھن کی پیداوار بھی بڑھا دی ہے نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب آئی اے ای اے اور ایرانی حکام نے ویانا میں جمعہ کے روز ایرانی مشن میں ان معاملات پر بات چیت کی جس کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی ایران کے جوہری عزائم کے حوالے سے اہم مسائل قرار دے رہی ہے۔