طالبان قطر میں افغان حکومت سے بات کرنے پر رضامند

دوحہ مذاکرات میں طالبان اور امریکی نمایندوں کے مذاکرات دوحہ میں تقریباً چھ مہینے جاری رہ چکے ہیں۔

دوحہ مذاکرات میں طالبان اور امریکی نمایندوں کے مذاکرات دوحہ میں تقریباً چھ مہینے جاری رہ چکے ہیں۔ فوٹو : فائل

افغانستان کا مسئلہ حل کرانے کے لیے متعین کردہ امریکی خصوصی نمایندے زلمے خلیل زاد نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان حکومت کے نمایندے دوحہ (قطر) میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں جو افغان بحران کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جا رہی تھی کیونکہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ بات کرنے پر قطعاً آمادہ نہیں ہو رہے تھے کیونکہ ان کا موقف تھا کہ ان سے افغانستان کی حکومت امریکا نے حملہ کر کے ختم کی تھی اور ان کی جگہ افغانستان پر کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی تھی جس کے ساتھ ان کی بات چیت پر زور دیا جاتا تھا جو طالبان کے لیے کسی صورت بھی قابل قبول نہیں تھا۔ تاہم زلمے خلیل زاد کے مطابق طالبان آیندہ ہفتے دوحہ مذاکرات میں شرکت پر تیار ہو گئے ہیں۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق طالبان نے بھی اس کی تصدیق کی ہے تاہم اس کے ساتھ ہی وضاحت بھی کی ہے کہ افغان حکومت کے بعض حکام مذاکرات میں حصہ لیں گے مگر ان کی شرکت ذاتی طور پر ہو گی ، حکومتی نمایندوں کی حیثیت سے شرکت نہیں کریں گے۔


امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر نمایندوں کے ساتھ آیندہ ہفتے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی بات کی ہے۔ مذاکرات میں افغان حکومت کے نمایندے بلکہ سول سوسائٹی بھی شرکت کرے گی جس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔ ایک علیحدہ بیان میں طالبان نے بھی آیندہ ہفتے دوحہ مذاکرات میں شرکت کا امکان ظاہر کیا ہے۔

واضح رہے دوحہ مذاکرات میں طالبان اور امریکی نمایندوں کے مذاکرات دوحہ میں تقریباً چھ مہینے جاری رہ چکے ہیں۔ طالبان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں شرکت کرنے والے صرف اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں بگرام کے امریکی فضائی مستقر کے قریب ایک امریکی فوجی ٹھکانے پر طالبان کا حملہ ہوا تھا جس میں بے شمار ہلاکتیں ہوئیں تاہم اس کے باوجود اب طالبان کے ساتھ امریکی حکام بات چیت پر آمادگی ظاہر کر رہے ہیں۔

امریکی نمایندہ زلمے خلیل زاد کی مصالحاتی کوششیں رنگ لاتی نظر آ رہی ہیں کیونکہ امریکا اب بڑی جلدی میں اپنی افواج افغانستان سے نکالنا چاہتا ہے تاکہ اس کے فوجی جو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے افغانستان کے ریگزار میں پھنسی ہوئی ہیں بالآخر یہاں سے فراغت پا کر اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ امریکی نمایندے نے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان کے تعاون کی تعریف کی ہے۔
Load Next Story