اسٹیل ملز کی بحالی کیلیے ہمارے پاس پیسے نہیں رزاق داؤد
3چینی اور 3روسی کمپنیوں نے مل میں دلچسپی ظاہر کی ،ماہرین کی رپورٹ کی ای سی سی اجلاس میں منظوری لیں گے۔
2015میں اسٹیل مل کو باقاعدہ طریقہ کار کے تحت بند نہیں کیا گیا،اسی لیے بلاسٹ فرنس ناکارہ ہو ئی، صحافیوں سے گفتگو۔ فوٹو: فائل
مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہاکہ اسٹیل مل کی بحالی کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔
عبد الرزاق داؤد نے اسٹیل ملز بحالی کے سلسلے میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی، اس موقع پران کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے بنائے جانے والے ایکسپرٹ گروپ کا کہنا ہے کہ حکومت اسٹیل ملز نہیں چلا سکتی، اسٹیل ملز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلنا چاہیے۔
عبدالر زاق داؤ د نے کہاکہ اسٹیل ملز قومی اثاثہ اسکی نجکاری نہیں ہونی چاہیے۔ آئندہ ای سی سی میں ایکسپرٹ گروپ کی رپورٹ کو باضابطہ منظوری کیلیے پیش کریں گے، اسٹیل مل کی بحالی کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں تاہم تین چائنیز اور تین روس کی کمپنیوں نے اسٹیل مل میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اسٹیل ملز کی بحالی کیلیے بنائے جانیوالے ایکسپرٹ گروپ کی رپورٹ کی ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں باضابطہ منظوری لی جائے گی۔
عبد الرزاق داؤد نے اسٹیل ملز بحالی کے سلسلے میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی، اس موقع پران کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے بنائے جانے والے ایکسپرٹ گروپ کا کہنا ہے کہ حکومت اسٹیل ملز نہیں چلا سکتی، اسٹیل ملز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلنا چاہیے۔
عبدالر زاق داؤ د نے کہاکہ اسٹیل ملز قومی اثاثہ اسکی نجکاری نہیں ہونی چاہیے۔ آئندہ ای سی سی میں ایکسپرٹ گروپ کی رپورٹ کو باضابطہ منظوری کیلیے پیش کریں گے، اسٹیل مل کی بحالی کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں تاہم تین چائنیز اور تین روس کی کمپنیوں نے اسٹیل مل میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اسٹیل ملز کی بحالی کیلیے بنائے جانیوالے ایکسپرٹ گروپ کی رپورٹ کی ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں باضابطہ منظوری لی جائے گی۔